علاقة السامانيين بالخلافة – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
إقليم خراسان. ومن ثم بدأ انحسار النفوذ الساماني فما عاد يتجاوز بلاد ما وراء النهر.
ومع ازدياد نفوذ البويهيين وضعف أمراء الدولة السامانية ازداد الانحسار، فألقى الأمراء السامانيون بأنفسهم في أحضان الدولة الغزنوية الناشئة، حتى آل أمر دولتهم جميعه إلى هذه الدولة، فسقطت بذلك الدولة السامانية بعدما حكمت بلاد ما وراء النهر وما جاورها قرابة قرن ونصف.
على أنه ينبغي أن نسجل للدولة السامانية عدة أمور تعد في ميزان فضائل هذه الدولة وأمرائها:
أولها: أن الحضارة الإسلامية ازدهرت في عهد الدولة السامانية؛ حتى كانت بخارى، وسمرقند، وبلخ تحت حكمهم منارات للعلوم الدِّينية، يفد إليها الطلاب من كل حدب وصوب.
ثانيها: انتشار الرخاء في عهدهم، واتباعهم سبيل الحق في حكمهم؛ حتى مدحهم المقدسي الذي رحل إلى بلادهم، فقال: إنهم أحسن سيرة، وهذا فضلاً عما عرف عنهم من إجلال للعلم وأهله، فقد كان من رسومهم ألا يكلفوا أهل العلم تقبيل الأرض بين أيديهم.
وقال في وصف أهل خراسان في العهد الساماني: إنهم من أشد الناس تمسكًا بالحق، وهم بالخير والشر أعلم.
كما أقر بعلمهم الكثير، وحفظهم العجيب، واستقرار الأمور في خراسان، وانتشار الرخاء فيها.
ثالثها: عدم قصر عنايتهم على العلوم الدِّينية، بل اهتم أمراء الدولة السامانية بالعلوم الطبيعية والأدبية، فقد نبغ علماء وشعراء في بلاط هذه الدولة، فنبغ الرودكي، أول شاعر غنائي في فارس، ومؤسس الملحمة التعليمية التي تعد من أخصب فروع الأدب الفارسي.
وابن سينا الفيلسوف الطبيب الذي بدأ يظهر إنتاجه في عصر منصور بن نوح الساماني 350 هـ وبخاصة كتابه القانون في الطب.
خطۂ خراسان کی بھی۔ اور یہیں سے سامانی اثر و رسوخ کے سمٹنے کا آغاز ہوا، حتیٰ کہ وہ ماوراء النہر کے علاقوں سے آگے نہ بڑھ سکا۔
اور آلِ بویہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور سامانی ریاست کے امراء کی کمزوری کے ساتھ یہ زوال اور سمٹاؤ مزید بڑھتا چلا گیا، چنانچہ سامانی امراء نے خود کو ابھرتی ہوئی غزنوی ریاست کی آغوش میں ڈال دیا، تاآنکہ ان کی سلطنت کا تمام تر نظم و نسق اسی ریاست کے ہاتھ چلا گیا، اور یوں سامانی ریاست تقریباً ڈیڑھ صدی تک ماوراء النہر اور اس کے ملحقہ علاقوں پر حکومت کرنے کے بعد صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔
اس کے باوجود یہ ضروری ہے کہ ہم سامانی ریاست کے حوالے سے ایسے متعدد امور قلمبند کریں جو اس ریاست اور اس کے امراء کے محاسن و فضائل کے ترازو میں شمار ہوتے ہیں:
ان میں سے پہلا یہ کہ: سامانی ریاست کے دور میں اسلامی تہذیب خوب پھلی پھولی؛ یہاں تک کہ بخارا، سمرقند اور بلخ ان کی حکمرانی میں دینی علوم کے ایسے مینار بن گئے جن کی طرف طلبہ ہر چہار سو سے کھنچے چلے آتے تھے۔
دوسرا یہ کہ: ان کے عہد میں خوشحالی عام ہوئی اور انہوں نے اپنے نظامِ حکومت میں حق و عدل کی راہ اختیار کی؛ حتیٰ کہ مقدسی نے، جنہوں نے ان کے علاقوں کا سفر کیا تھا، ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین سیرت و کردار کے حامل ہیں، علاوہ ازیں وہ علم اور اہل علم کی تعظیم و تکریم کے حوالے سے بھی معروف تھے، چنانچہ ان کے شاہی آداب میں یہ بات شامل تھی کہ وہ اہلِ علم کو اپنے سامنے زمین چومنے کی زحمت نہیں دیتے تھے۔
اور انہوں نے سامانی دور میں اہلِ خراسان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں میں حق کے ساتھ سب سے زیادہ وابستگی رکھنے والے ہیں، اور خیر و شر کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں۔
اسی طرح انہوں نے ان کے کثیر علم، حیرت انگیز قوتِ حفظ، خراسان میں حالات کے استحکام اور وہاں خوشحالی کے پھیلاؤ کا بھی اعتراف کیا۔
تیسرا یہ کہ: ان کی توجہ صرف دینی علوم تک ہی محدود نہ تھی، بلکہ سامانی ریاست کے امراء نے طبعی اور ادبی علوم کا بھی بھرپور اہتمام کیا، چنانچہ اس ریاست کے دربار میں ممتاز علماء اور شعراء ابھرے؛ جن میں رودکی نمایاں ہوئے جو فارس کے پہلے غنائی شاعر اور تعلیمی رزمیہ کے بانی ہیں، جو فارسی ادب کی زرخیز ترین شاخوں میں شمار ہوتی ہے۔
اور فلسفی و طبیب ابنِ سینا، جن کی علمی و تصنیفی خدمات کا ظہور منصور بن نوح سامانی کے دور (350ھ) میں شروع ہوا، بالخصوص ان کی کتاب القانون في الطب۔