تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

المسألة السادسة: عصمة الأنبياء – مقدمة تأويلات أهل السنة

تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 1 · الصفحة 178

ص 178المسألة السادسة: عصمة الأنبياءالمتن العربي

ويذهب الماتريدية إلى أن الأنبياء معصومون من الصغائر، وأوجبوا تأويل كل ما أوهم في حقهم عليهم السلام من الكتاب والسنة مما اغتر به بعض من أجاز عليهم الصغائر، فالأنبياء منزهون عن الصغائر والكبائر ومن جميع المعاصي.

يقول شارح الفقه الأكبر:

" إن الأنبياء عليهم السلام معصومون عن الكذب، خصوصًا فيما يتعلق بأمر الشرع وتبليغ الأحكام وإرشاد الأمة إما عمدًا وإما سهوًا: عمدًا فبالإجماع، وسهوًا عند الأكثرين، وفي عصمتهم عن سائر الذنوب تفصيل، وهو أنهم معصومون عن الكفر قبل الوحي، وبعده بالإجماع، وكذا عن تعمد الكبائر عند الجمهور، وأما سهوًا فجوزه الأكثرون ".

الأشاعرة:

يتفق الأشاعرة مع الماتريدية -وغيرهم من سائر الفرق- على أن الأنبياء معصومون من الكبائر مطلقًا، قبل البعثة وبعدها.

وفيما يخص الصغائر، فهي عندهم نوعان:

أحدهما: صغائر قبل النبوة.

ثانيهما: صغائر بعد النبوة.

ويذهب الأشاعرة إلى أن الأنبياء تصدر عنهم هذه الصغائر قبل النبوة إذا لم تكن خسيسة وليس هناك دليل على منع ذلك، سواء أكان ذلك عمدًا أم سهوًا، أما بعد النبوة فإن الأنبياء معصومون عن تعمد كل ما يخل بصدقهم حتى إذا كان من الصغائر.

يقول الآمدي في الأحكام: " وأما بعد النبوة فالاتفاق من أهل الشرائع قاطبة على عصمتهم عن تعمد كل ما يخل بصدقهم فيما دلت المعجزة القاطعة على صدقهم فيه من دعوى الرسالة والتبليغ عن اللَّه تعالى ".

وبهذا يتضح أن محل الخلاف بين الماتريدية والأشعرية في هذه المسألة أن الماتريدية يرون وجوب العصمة أيضًا من الصغائر، لكن بعض الأشاعرة يجيز وقوع الصغائر من الأنبياء قبل البعثة وبعدها كذلك سهوًا.

ص 178المسألة السادسة: عصمة الأنبياءاردو ترجمہ

اور ماتریدیہ کا موقف یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام صغائر سے بھی معصوم ہیں، اور انہوں نے قرآن و سنت کے ہر اس ظاہری مفہوم کی تاویل کو واجب قرار دیا ہے جو ان (علیہم السلام) کے حق میں کسی لغزش کا وہم پیدا کرتا ہو، جس سے ان بعض لوگوں نے دھوکا کھایا جنہوں نے انبیاء پر صغائر کے وقوع کو جائز سمجھا؛ پس انبیاء علیہم السلام صغائر اور کبائر سمیت تمام گناہوں سے پاک و منزہ ہیں۔

الفقه الأكبر کے شارح فرماتے ہیں:

"بے شک انبیاء علیہم السلام جھوٹ سے معصوم ہیں، بالخصوص ان امور میں جن کا تعلق شریعت کے احکام، تبلیغ اور امت کی رہنمائی سے ہے، خواہ وہ عمداً ہو یا سہواً؛ عمداً تو بالاجماع (ممنوع و محال ہے) اور سہواً اکثر کے نزدیک، اور باقی تمام گناہوں سے ان کی عصمت میں تفصیل ہے، وہ یہ کہ وہ وحی سے پہلے اور اس کے بعد بالاجماع کفر سے معصوم ہیں، اور اسی طرح جمہور کے نزدیک گناہِ کبیرہ کے جان بوجھ کر ارتکاب سے بھی، البتہ بھول چوک (سہو) کے طور پر اکثر نے اسے جائز قرار دیا ہے"۔

اشاعرہ:

اشاعرہ، ماتریدیہ اور دیگر تمام فرقوں کے ساتھ اس بات پر متفق ہیں کہ انبیاء علیہم السلام بعثت سے قبل اور بعد میں مطلقا گناہِ کبیرہ سے معصوم ہیں۔

اور جہاں تک صغائر کا تعلق ہے، تو وہ ان کے نزدیک دو قسم پر ہیں:

پہلی قسم: نبوت سے قبل کے صغائر۔

دوسری قسم: نبوت کے بعد کے صغائر۔

اور اشاعرہ کا موقف یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام سے نبوت سے قبل یہ صغائر صادر ہو سکتے ہیں بشرطیکہ وہ رذیل و پست نہ ہوں اور ان کی ممانعت پر کوئی دلیل وارد نہ ہو، خواہ ایسا عمداً ہو یا سہواً؛ لیکن نبوت کے بعد انبیاء علیہم السلام ہر اس فعل کے قصداً ارتکاب سے معصوم ہیں جو ان کی صداقت پر حرف لائے، خواہ وہ صغائر ہی میں سے کیوں نہ ہو۔

آمدی الإحكام میں فرماتے ہیں: "جہاں تک نبوت کے بعد کا تعلق ہے، تو تمام اہلِ شرائع کا بالاتفاق اس بات پر اجماع ہے کہ وہ جان بوجھ کر ہر اس کام کے کرنے سے معصوم ہیں جو ان کی سچائی میں خلل انداز ہو، ان امور کے متعلق جن میں معجزۂ قاطعہ ان کی سچائی پر دلالت کر چکا ہو، یعنی دعوائے رسالت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے احکام کی تبلیغ میں"۔

اور اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس مسئلے میں ماتریدیہ اور اشعریہ کے مابین جائے اختلاف یہ ہے کہ ماتریدیہ صغائر سے بھی عصمت کو واجب قرار دیتے ہیں، لیکن بعض اشاعرہ بعثت سے قبل اور اسی طرح بعثت کے بعد بھی سہواً انبیاء سے صغائر کے صدور کو جائز قرار دیتے ہیں۔