المسألة السادسة: عصمة الأنبياء – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
ويذهبون إلى أن الواجبات ثابتة بالسمع، فالحسن عندهم هو ما حسنه الشرع، والقبيح عندهم هو ما قبحه الشرع، والعقل لا يحسن ولا يقبح ولا يقتضي ولا يوجب.
يقول الإمام الغزالي: " إنه لو لم يرد الشرع لما كان يجب على العباد معرفة اللَّه تعالى وشكر نعمته خلافًا للمعتزلة ".
المسألة السادسة: عصمة الأنبياء
العصمة في اللغة والاصطلاح:
العصمة في اللغة:
العصمة: المنع، يقال: عصمه الطعام من الجوع، أي: منعه.
وهي -كذلك-: الحفظ، يقول اللَّه تعالى: {وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} أي: يحفظك.
العصمة في الاصطلاح:
هي: عدم خلق اللَّه تعالى ذنبًا في النبي صلى الله عليه وسلم وعلى هذا تكون أمرًا إعداميًّا.
وهذا بصفة عامة، وقد اختلف تعريف الماتريدية للعصمة عن تعريف الأشاعرة لها وذلك على ما يلي:
الماتريدية
يعرف السادة الماتريدية العصمة بأنها عدم القدرة على المعصية، أو خلق مانع فيها.
الأشعرية:
ويعرفها الأشعرية بأنها: " ألا يخلق اللَّه فيهم ذنبًا "، وذلك بناء على أصلهم من استناد الأشياء كلها إلى الفاعل المختار.
أما عن رأي كل من السادة الماتريدية والأشعرية في مسألة العصمة، فذلك على ما يلي:
الماتريدية:
يقول السادة الماتريدية بعصمة الأنبياء من الكبائر والقبائح وخصوصًا فيما يتعلق بأمر الشرع وتبيلغ الأحكام وإرشاد الأمة.
اور وہ (اشاعرہ) اس بات کی طرف جاتے ہیں کہ تمام تر واجبات سمع (شریعت و وحی) سے ہی ثابت ہوتے ہیں؛ چنانچہ ان کے نزدیک حسن (اچھائی) وہ ہے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہو، اور قبیح (برائی) وہ ہے جسے شریعت نے برا قرار دیا ہو، جبکہ عقل نہ کسی چیز کو اچھا قرار دیتی ہے، نہ برا ٹھہراتی ہے، نہ کسی شے کا تقاضا کرتی ہے اور نہ ہی اسے واجب کرتی ہے۔
امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "إنه لو لم يرد الشرع لما كان يجب على العباد معرفة اللَّه تعالى وشكر نعمته خلافًا للمعتزلة" (اگر شریعت وارد نہ ہوتی تو معتزلہ کے برعکس بندوں پر اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی نعمت کا شکر بجا لانا واجب نہ ہوتا)۔
چھٹا مسئلہ: انبیاء علیہم السلام کی عصمت
عصمت لغت اور اصطلاح میں:
عصمت لغت میں:
عصمت: منع کرنے اور روکنے کے معنی میں ہے، چنانچہ کہا جاتا ہے: عصمه الطعام من الجوع، یعنی کھانے نے اسے بھوک سے روک لیا (بچا لیا)۔
اور اسی طرح یہ حفاظت کے معنی میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ} یعنی: وہ آپ کی حفاظت فرمائے گا۔
عصمت اصطلاح میں:
یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ میں کسی گناہ کو پیدا ہی نہ فرمائے، اور اس بنیاد پر یہ ایک امـرِ اعدامی (عدمی/سلبی وصف) ہوگا۔
اور یہ عمومی حیثیت سے ہے، جبکہ عصمت کی تعریف میں ماتریدیہ کی تعریف اشاعرہ کی تعریف سے مختلف رہی ہے، اور وہ درج ذیل تفصیل کے مطابق ہے:
ماتریدیہ:
حضراتِ ماتریدیہ عصمت کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ یہ گناہ پر قدرت کا نہ ہونا ہے، یا گناہ کے راستے میں مانع (رکاوٹ) پیدا کر دینا ہے۔
اشعریہ:
اور اشعریہ اس کی یہ تعریف کرتے ہیں کہ: "ألا يخلق اللَّه فيهم ذنبًا" (اللہ تعالیٰ ان کے اندر کوئی گناہ پیدا نہ فرمائے)، اور یہ ان کے اس اصل قاعدے پر مبنی ہے کہ تمام اشیاء کا استناد اور صدور فاعلِ مختار (اللہ تعالیٰ) کی طرف ہوتا ہے۔
رہا مسئلہ عصمت میں حضراتِ ماتریدیہ اور اشعریہ میں سے ہر ایک کے مؤقف کا بیان، تو وہ درج ذیل تفصیل کے مطابق ہے:
ماتریدیہ:
حضراتِ ماتریدیہ انبیاء علیہم السلام کے کبائر اور قبائح سے معصوم ہونے کے قائل ہیں، بالخصوص ان امور کے متعلق جن کا تعلق شریعت کے احکام، احکام کی تبلیغ اور امت کی رہنمائی سے ہے۔