أبرز الأحداث السياسية في عهد الخليفة المهدي – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
خرج مُحَمَّد النفس الزكية في مائتين وخمسين من أصحابه، فتوجه إلى السجن وأطلق سراح من فيه، ثم قبض على عامل أبي جعفر المنصور في المدينة وأمر بحبسه.
وفي الوقت الذي خرج فيه النفس الزكية في المدينة كان أخوه إبراهيم يدعو له في البصرة ويأخذ من أهلها البيعة له.
والحق أن أبا منصور لم يدع وسيلة تمكنه من الظهور على خصمه إلا اصطنعها، فكانت سياسته تجاه هذه الثورة مزيجًا من الحزم والدهاء، وقد ندب المنصور ابن عمه وولي عهده عيسى بن موسى للقضاء على النفس الزكية، فنهض بما أمر به خير نهوض لاسيما وقد تفرق عن النفس الزكية جل أنصاره وشيعته، فبقي في نفر قليل من خاصته، لم يغنه في مواجهة جيش مدرب منظم كجيش عيسى بن موسى، وقتل النفس الزكية واحتز رأسه وذلك في رمضان سنة 145 هـ.
وبعد أن فرغ عيسى من النفس الزكية في المدينة أمره المنصور بالتوجه إلى العراق للقضاء على أخيه إبراهيم، وكان قد تغلب على البصرة والأهواز وفارس، ودارت رحى الحرب وحمي وطيسها في باخمري بين الكوفة وواسط، وانجلى غبارها عن هزيمة إبراهيم وجنده، ولم يزل يناضل العباسيين في فئة قليلة حتى قتل فاحتز ابن قحطبة رأسه.
وهكذا استطاع المنصور بما أتيح له من حزم وذكاء أن يقضي على أول ثورة يحمل لواءها العلويون، فوطد دعائم خلافته ومكن لها من البقاء والاستمرار.
أبرز الأحداث السياسية في عهد الخليفة المهدي:
ولي الخلافة العباسية بعد أبي جعفر المنصور ابنه المهدي، ولبث في منصب
محمد نفسِ زکیہ اپنے ڈھائی سو (۲۵۰) ساتھیوں کے ہمراہ نکلے، اور سیدھے قید خانے کی طرف رخ کر کے اس میں موجود تمام قیدیوں کو رہا کرا دیا، پھر مدینہ منورہ میں ابو جعفر المنصور کے گورنر کو گرفتار کر کے اسے قید کرنے کا حکم دیا۔
اور جس وقت نفسِ زکیہ نے مدینہ منورہ میں خروج و قیام کیا، عین اسی وقت ان کے بھائی ابراہیم بصرہ میں ان کے لیے دعوت و تبلیغ کر رہے تھے اور وہاں کے لوگوں سے ان کے واسطے بیعت لے رہے تھے۔
اور حقیقت یہ ہے کہ ابو جعفر المنصور نے اپنے حریف پر غلبہ پانے کا کوئی حربہ اور وسیلہ ہاتھ سے نہ جانے دیا بلکہ اسے پوری طرح بروئے کار لایا، چنانچہ اس تحریک کے مقابلے میں اس کی حکمتِ عملی عزم و تدبر اور ہوشیاری و دانائی کا ایک امتزاج تھی۔ اور المنصور نے نفسِ زکیہ کا خاتمہ کرنے کے لیے اپنے چچا زاد بھائی اور ولی عہد عیسیٰ بن موسیٰ کو مامور کیا، پس اس نے سونپی گئی اس ذمہ داری کو نہایت مستعدی سے انجام دیا، خصوصاً اس حالت میں کہ نفسِ زکیہ کے بیشتر حامی و متبعین ان سے الگ ہو کر منتشر ہو چکے تھے اور وہ اپنے چند مخصوص مخلصین کے مختصر گروہ کے ساتھ باقی رہ گئے تھے، جو عیسیٰ بن موسیٰ جیسے تربیت یافتہ اور منظم لشکر کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آسکی؛ اور نفسِ زکیہ کو شہید کر دیا گیا اور ان کا سرِ مبارک تن سے جدا کر دیا گیا، اور یہ واقعہ رمضان المبارک ۱۴۵ ہجری کا ہے۔
اور جب عیسیٰ مدینہ منورہ میں نفسِ زکیہ کے معاملے سے فارغ ہو گیا تو المنصور نے اسے عراق کا رخ کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ ان کے بھائی ابراہیم کا بھی خاتمہ کر دے، جو اس وقت تک بصرہ، اہواز اور فارس پر غلبہ پا چکے تھے۔ چنانچہ کوفہ اور واسط کے درمیانی علاقے 'باخمریٰ' میں جنگ کی چکی چلی اور معرکہ کارزار خوب گرم ہو گیا، اور بالآخر جنگ کی دھول ابراہیم اور ان کے لشکر کی شکست پر چھٹی۔ اس کے باوجود وہ ایک مختصر سی جماعت کے ہمراہ عباسیوں سے نبرد آزما رہے تاآنکہ شہید ہو گئے اور ابنِ قحطبہ نے ان کا سر قلم کر دیا۔
اور یوں المنصور نے اپنے عزم و تدبر اور دانائی و ذہانت کی بدولت اس پہلی تحریک کو کچل دیا جس کا پرچم علویوں نے بلند کیا تھا، اور اس طرح اس نے اپنی خلافت کی بنیادیں مستحکم کر دیں اور اس کی بقا اور تسلسل کو یقینی بنا دیا۔
خلیفہ المہدی کے عہد کے نمایاں ترین سیاسی واقعات:
ابو جعفر المنصور کے بعد اس کے بیٹے المہدی نے عباسی خلافت کی زمام سنبھالی، اور وہ منصبِ