القضاء على أبي مسلم الخراساني – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
عقبة قائد الحرة في عهد يزيد بن معاوية، فقدم عثمان المدينة سنة 141 هـ وخطب أهلها خطبة سداها ولحمتها التهديد والتخويف، فكان مما قال فيها: " يا أهل المدينة أنا الأفعى ابن الأفعى عثمان بن حيان وابن عم مسلمة بن عقبة، المبيد خضراءكم المفني رجالكم، واللَّه لأدعنها بلقعًا لا ينبح فيها كلب ".
بيد أن أهل المدينة قد هوت أفئدتهم إلى مُحَمَّد النفس الزكية، وتدفقت نفوسهم حماسة لآل بيت رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم، فلم يحفلوا بتهديد عثمان، بل أغلظوا له القول وهموا بالفتك به.
فكتب إليهم المنصور قائلاً: " يا أهل المدينة، فإن واليكم كتب إلي يذكر غشكم وخلافكم وسوء رأيكم واستمالتكم على بيعة أمير المؤمنين، وأمير المؤمنين يقسم بالله لئن لم تنتهوا ليبدلنكم بعد أمنكم خوفًا، وليقطعن البر والبحر عنكم، وليبعثن عليكم رجالا غلاظ الأكباد بعاد الأرحام ".
ولم يزحزح كتاب المنصور أهل المدينة عن موقفهم، بل لعله زادهم إصرارًا على الانتصار للعلويين، فقبض عامله على عبد اللَّه بن الحسن أبي مُحَمَّد النفس الزكية وإخوته وذوي قرباه.
بيد أن عبد اللَّه لم يكن بالرجل الذي تلين قناته، بل كان يعتقد في أحقية ابنه بالخلافة دون المنصور والسفاح من قبله. فطلب إلى ابنه أن يواصل مناجزة العباسيين، وألا يحفل بما يعوقه في سبيل الحق من صعوبات.
واشتد إيذاء المنصور لأشياع النفس الزكية، وعظم البلاء النازل بهم حتى اضطروا محمدًا إلى الخروج، ولما تتهيأ الظروف بعد لخروجه وذلك في سنة 145 هـ، وقد شجعه على ذلك ظنه إجماع الناس على نصرته وشدة ميلهم إليه، وتلك الفتوى التي أفتى بها الإمام مالك بن أنس؛ حيث أفتى بجواز نقض بيعة المنصور حين قال لأهل المدينة: " إنما بايعتم مكرهين وليس على مكره يمين ".
...وہ یزید بن معاویہ کے دور میں واقعۂ حرّہ کا سپہ سالار تھا۔ چنانچہ عثمان بن حیان ۱۴۱ ہجری میں مدینہ منورہ پہنچا اور اہل مدینہ کے سامنے ایک ایسا خطبہ دیا جس کا تانا بانا سراسر دھمکیوں اور خوف و دہشت انگیزی پر مبنی تھا۔ اس نے اپنے خطبے میں دیگر باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا: "يا أهل المدينة أنا الأفعى ابن الأفعى عثمان بن حيان وابن عم مسلمة بن عقبة، المبيد خضراءكم المفني رجالكم، واللَّه لأدعنها بلقعًا لا ينبح فيها كلب" (اے اہلِ مدینہ! میں زہریلا سانپ اور سانپ کا بیٹا عثمان بن حیان ہوں اور مسلمہ بن عقبہ کا چچا زاد بھائی ہوں، جس نے تمہاری سرسبزی و شادابی کو تہس نہس کر دیا تھا اور تمہارے مردوں کا خاتمہ کر دیا تھا۔ خدا کی قسم! میں اس شہر کو ایسا اجاڑ اور بنجر بنا کر چھوڑوں گا کہ یہاں کوئی کتا بھی نہیں بھونکے گا)۔
لیکن اہلِ مدینہ کے دل محمد بن عبد اللہ (النفس الزکیہ) کی طرف مائل ہو چکے تھے اور ان کے قلوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت کی محبت اور نصرت کے ولولے سے سرشار تھے۔ چنانچہ انہوں نے عثمان کی اس دھمکی کی مطلق پروا نہ کی، بلکہ اس کے ساتھ انتہائی سخت کلامی کی اور اسے کیفرِ کردار تک پہنچانے کا ارادہ کر لیا۔
اس پر خلیفہ ابو جعفر المنصور نے اہلِ مدینہ کو مکتوب لکھا جس میں کہا: "يا أهل المدينة، فإن واليكم كتب إلي يذكر غشكم وخلافكم وسوء رأيكم واستمالتكم على بيعة أمير المؤمنين، وأمير المؤمنين يقسم بالله لئن لم تنتهوا ليبدلنكم بعد أمنكم خوفًا، وليقطعن البر والبحر عنكم، وليبعثن عليكم رجالا غلاظ الأكباد بعاد الأرحام" (اے اہلِ مدینہ! تمہارے گورنر نے مجھے خط لکھ کر تمہاری بے وفائی، سرکشی، بدنیتی اور امیر المؤمنین کی بیعت سے انحراف کی اطلاع دی ہے۔ امیر المؤمنین اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو وہ تمہارے امن کو خوف میں بدل دے گا، تم پر خشکی اور تری کے تمام راستے مسدود کر دے گا، اور تم پر ایسے سنگ دل اور بے رحم افراد کو مسلط کر دے گا جن کے دلوں میں قرابت داری کا کوئی پاس نہیں ہو گا)۔
مگر المنصور کا یہ خط بھی اہلِ مدینہ کو ان کے موقف سے متزلزل نہ کر سکا، بلکہ اس نے علوی سادات کی نصرت و حمایت پر ان کے عزم و اصرار کو مزید پختہ کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عباسی گورنر نے محمد النفس الزکیہ کے والد ماجد عبد اللہ بن حسن، ان کے بھائیوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں کو گرفتار کر کے قید کر دیا۔
لیکن عبد اللہ ایسے شخص نہ تھے جن کا عزم کمزور پڑ جاتا یا جو دب جانے والے ہوتے، بلکہ وہ المنصور اور اس سے قبل السفاح کے مقابلے میں خلافت پر اپنے ہی صاحبزادے کا حق سمجھتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے بیٹے سے یہی تقاضا کیا کہ وہ عباسیوں کے خلاف نبرد آزمائی اور مقابلے کا سلسلہ جاری رکھیں اور حق کی راہ میں حائل ہونے والی کسی بھی قسم کی دشواریوں اور رکاوٹوں کی ہرگز پروا نہ کریں۔
اور المنصور کی جانب سے نفسِ زکیہ کے متبعین اور حامیوں پر مظالم کی شدت بڑھتی چلی گئی اور ان پر نازل ہونے والی آزمائش و مصیبت اس قدر شدید ہو گئی کہ انہوں نے محمد (نفسِ زکیہ) کو بالآخر خروج اور قیام پر مجبور کر دیا، حالانکہ ابھی ان کے خروج کے لیے موزوں حالات پوری طرح سازگار نہ ہوئے تھے، اور یہ واقعہ ۱۴۵ ہجری کا ہے۔ اس پر محمد نفسِ زکیہ کی ہمت اس گمان سے بھی بندھی کہ لوگ ان کی مدد و نصرت پر مجتمع ہیں اور ان کی جانب شدید میلان رکھتے ہیں، نیز اس فتوے نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی جو امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے صادر فرمایا تھا؛ جہاں انہوں نے المنصور کی بیعت فسخ کرنے کے جواز کا فتویٰ دیا جب اہل مدینہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "إِنَّمَا بَايَعْتُمْ مُكْرَهِينَ وَلَيْسَ عَلَى مُكْرَهٍ يَمِينٌ" (یعنی تم نے تو محض جبر و اکراہ کے تحت بیعت کی تھی، اور مجبور و مکرَہ شخص پر کوئی قسم یا عہد لاگو نہیں ہوتا)۔