الفصل الأول — اسمه ولقبه وكنيته ونسبه ومولده ووفاته – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
الفصل الأول
اسمه ولقبه وكنيته ونسبه ومولده ووفاته
اسمه وكنيته:
الماتريدي هو: مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود بن مُحَمَّد أبو منصور الماتريدي.
وأصل نسبته: ماتريت أو ماتريد وهي محلة من سمرقند، وأحيانًا تضاف نسبته إلى سمرقند، فيقال: أبو منصور مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود الماتريدي السمرقندي، وكنيته: أبو منصور.
ألقابه:
لُقِّبَ الماتريدي بألقاب كثيرة نذكر منها: " إمام الهدى "، و " إمام المتكلمين "، و " مصحح عقائد المسلمين "، و " رئيس أهل السنة "، وهي ألقاب تومئ إلى ما له من مكانة مرموقة في نفوس مؤرخيه على قلتهم، كما تدل على منزلته العلمية الممتازة بين أصحابه.
نسبه:
قيل: إن نسب الماتريدي يرجع إلى أبي أيوب خالد بن زيد بن كليب الأنصاري، وهذه النسبة تشريف له، ودليل على علو قدر أسرته وشرف نسبه؛ إذ إنها تنتهى إلى أبي أيوب الأنصاري، وهو الذي نزل عليه رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم حين هاجر إلى المدينة.
لهذا يذكره البياضي فيقول: الإمام أبو منصور مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود الماتريدي الأنصاري.
وترجح هذه النسبة لدينا؛ لأن أحد شيوخ الماتريدي وهو أبو نصر العياضي من نسل ابن عبادة الأنصاري، وكذلك جاء في كتاب السمعاني أن أم القاضي الإمام أبي الحسن
پہلی فصل
آپ کا نام، لقب، کنیت، نسب، ولادت اور وفات
آپ کا نام اور کنیت:
امام ماتریدی سے مراد: مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود بن مُحَمَّد أبو منصور الماتريدي ہیں۔
اور آپ کی اصل نسبت 'ماتریت' یا 'ماترید' کی جانب ہے جو کہ سمرقند کا ایک محلہ ہے، اور بسا اوقات آپ کی نسبت سمرقند کی طرف کر کے یوں کہا جاتا ہے: أبو منصور مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود الماتريدي السمرقندي، اور آپ کی کنیت 'ابو منصور' ہے۔
آپ کے القاب:
امام ماتریدی رحمہ اللہ کو متعدد القاب سے یاد کیا گیا ہے جن میں سے چند یہ ہیں: "إمام الهدى" (ہدایت کے امام)، "إمام المتكلمين" (علمائے کلام کے پیشوا)، "مصحح عقائد المسلمين" (مسلمانوں کے عقائد کی اصلاح و تصحیح فرمانے والے) اور "رئيس أهل السنة" (اہلِ سنت کے امام و سرکردہ رہنما)۔ یہ وہ القاب ہیں جو مؤرخین کے قلوب میں آپ کے بلند و برتر مقام کی عکاسی کرتے ہیں باوجودیکہ ان کا تذکرہ کرنے والے مؤرخین کم رہے ہیں، نیز یہ آپ کے رفقاء و معاصرین کے مابین آپ کے ممتاز علمی مرتبے پر بھی دلالت کرتے ہیں۔
آپ کا نسب:
کہا گیا ہے کہ امام ماتریدی کا نسب حضرت ابو ایوب خالد بن زید بن کلیب انصاری رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ یہ نسبت آپ کے لیے باعثِ شرف ہے اور آپ کے خانوادے کی علوِ منزلت اور شرفِ نسب کا واضح ثبوت ہے؛ کیونکہ اس کا اختتام حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ پر ہوتا ہے، اور یہ وہی جلیل القدر صحابی ہیں جن کے دولت کدے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ ہجرت کے موقع پر قیام کا شرف بخشا تھا۔
اسی لیے علامہ بیاضی ان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: الإمام أبو منصور مُحَمَّد بن مُحَمَّد بن محمود الماتريدي الأنصاري۔
اور ہمارے نزدیک یہی نسبت راجح معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے کہ امام ماتریدی کے اساتذہ میں سے ایک شیخ ابو نصر العیاضی، (حضرت سعد) ابن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی نسل سے ہیں، اور اسی طرح علامہ سمعانی کی کتاب میں وارد ہوا ہے کہ قاضی امام ابو الحسن