ثانيا: الشيعة – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
ويقول الإمام مُحَمَّد أبو زهرة في شأن هذه الفرقة: " ومن أخبار الذين تولوا أمر هذه الطائفة من الخوارج نتبين أنها لا ترى إباحة دماء المسلمين، ولا ترى أن دار المخالفين دار حرب، ولا ترى جواز سبي النساء والذرية، بل لا ترى قتال أحد غير معسكر السلطان ".
خامسًا: الإباضية:
وإمام هذه الفرقة عبد اللَّه بن إباض، به تعرف وإليه تنسب، وقد افترقت إلى فرق أربعة، بيد أن ثمة مبادئ مشتركة تجمع بينها وتسوغ للباحث ردها إلى أصل واحد أو فرقة واحدة، ومنها:
القول بأن مخالفيهم ليسوا مؤمنين ولا مشركين، ولكنهم كفار، وكفرهم كفر نعمة لا كفر اعتقاد؛ وذلك لأنهم لم يكفروا باللَّه، ولكنهم قصروا في جنب اللَّه تعالى.
وصحح الإباضية مناكحة مخالفيهم والتوارث بينهم، وأجازوا شهادتهم.
وذهب الإباضية إلى أن دماء مخالفيهم حرام، وإن أسروا ذلك في أنفسهم ولم يعلنوه.
واستحل الإباضية من غنائم المسلمين الخيل والسلاح، وسواهما من أدوات الحرب وأسباب القوة، دون الذهب والفضة فإنهم يردونها على أصحابهما عند الغنيمة.
ويقول الإمام مُحَمَّد أبو زهرة عن الإباضية: " وهم أكثر الخوارج اعتدالًا، وأقربهم إلى الجماعة الإسلامية تفكيرًا، فهم أبعدهم عن الشطط والغلو؛ ولذلك بقوا، ولهم فقه جيد، وفيهم علماء ممتازون، ويقيم طوائف منهم في بعض واحات الصحراء الغربية، وبعض آخر في بلاد الزنجبار، ولهم آراء فقهية، وقد اقتبست القوانين المصرية في المواريث بعض آرائهم، وذلك في الميراث بولاء العتاقة، فإن القانون المصري أخره عن كل الورثة حتى عن الرد على أحد الزوجين، مع أن المذاهب الأربعة كلها تجعله عقب العصبة النسبية ويسبق الرد على أصحاب الفروض الأقارب ".
ثانيا: الشيعة
نشأ المذهب الشيعي -كما ألمحنا إلى ذلك آنفًا- كنتيجة مباشرة لإشكالية الإمامة التي
اور امام محمد ابو زہرہ اس فرقے کے بارے میں فرماتے ہیں: "خوارج کے اس گروہ کے سربراہان اور پیشواؤں کے احوال سے ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے خون کو مباح نہیں سمجھتے، نہ ہی اپنے مخالفین کے علاقے کو دارِ حرب قرار دیتے ہیں، اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنانا جائز سمجھتے ہیں، بلکہ وہ حکمران کے لشکر کے سوا کسی سے جنگ کے قائل نہیں ہیں"۔
پانچواں فرقہ: اباضیہ
اور اس فرقے کے امام و پیشوا عبد اللہ بن اباض ہیں، جنہی کے نام سے یہ فرقہ معروف ہے اور انہی کی طرف منسوب ہے۔ اگرچہ یہ فرقہ آگے چل کر چار ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو گیا، لیکن ان کے مابین ایسے مشترکہ بنیادی اصول موجود ہیں جو ان سب کو یکجا کرتے ہیں اور کسی بھی محقق کے لیے یہ بات درست ٹھہراتے ہیں کہ وہ ان سب کو ایک ہی اصل یا ایک ہی فرقہ قرار دے، ان مشترکہ اصولوں میں سے چند یہ ہیں:
ان کا یہ موقف کہ ان کے مخالفین نہ تو مومن ہیں اور نہ ہی مشرک، بلکہ وہ کافر ہیں؛ اور ان کا یہ کفر کفرِ نعمت ہے نہ کہ کفرِ اعتقاد، کیونکہ انہوں نے اللہ کا انکار نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے۔
اور اباضیہ نے اپنے مخالفین کے ساتھ نکاح اور باہمی وراثت کو جائز قرار دیا ہے، اور ان کی گواہی کو بھی قبول کیا ہے۔
نیز اباضیہ کا یہ موقف ہے کہ ان کے مخالفین کا خون حرام ہے، خواہ وہ اس بات کو اپنے دلوں میں پوشیدہ رکھیں اور اس کا اعلانیہ اظہار نہ کریں۔
اور اباضیہ مسلمانوں کے مالِ غنیمت میں سے صرف گھوڑوں، اسلحے اور دیگر جنگی ساز و سامان اور اسبابِ قوت کو حلال سمجھتے ہیں، سونا اور چاندی وغیرہ نہیں، کیونکہ وہ مالِ غنیمت حاصل ہونے کے وقت سونا چاندی ان کے اصل مالکان کو واپس لوٹا دیتے ہیں۔
اور امام محمد ابو زہرہ اباضیہ کے بارے میں فرماتے ہیں: "وہ تمام خوارج میں سب سے زیادہ معتدل اور فکر کے اعتبار سے عام مسلمانوں کی جماعت کے سب سے زیادہ قریب ہیں، اور افراط و تفریط اور غلو سے سب سے دور ہیں؛ یہی وجہ ہے کہ وہ باقی رہے، ان کا فقہی نظام بڑا عمدہ ہے اور ان میں مایہ ناز علماء پیدا ہوئے ہیں۔ ان کی جماعتیں صحرائے غربی کے بعض نخلستانوں اور دیگر زنجبار کے علاقوں میں آباد ہیں، اور ان کے مخصوص فقہی نظریات ہیں، چنانچہ مصری قوانینِ وراثت نے ان کی بعض آراء کو اخذ بھی کیا ہے، خصوصاً ولاءِ عتاقہ (آزاد کردہ غلام کی ولاء) کی وراثت کے معاملے میں؛ کیونکہ مصری قانون نے اسے تمام وارثوں حتیٰ کہ زوجین میں سے کسی ایک پر رد کرنے کے بعد بھی مؤخر رکھا ہے، حالانکہ چاروں فقہی مذاہب اسے عصبہ نسبی کے فوراً بعد قرار دیتے ہیں اور ذوی الفروض رشتہ داروں پر رد کرنے سے پہلے رکھتے ہیں"۔
دوسرا فرقہ: شیعہ
مذہبِ شیعہ کا ظہور — جیسا کہ ہم نے قبل ازیں اس کی طرف اشارہ کیا ہے — براہِ راست امامت کے اس قضیے کے نتیجے میں ہوا جس نے