أولا: النشأة وسبب التسمية – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
مناظرة الخصوم وإفحامهم ".
وينتظم حديثنا عن هذه الفرقة الكلامية عدة محاور:
أولًا: النشأة وسبب التسمية.
ثانيًا: مراكز الاعتزال وفرق المعتزلة.
ثالثًا: منهج المعتزلة في درس العقائد.
رابعًا: الأصول الخمسة التي قال بها المعتزلة.
أولًا: النشأة وسبب التسمية:
تنسب هذه الفرقة -كما هو مقرر معلوم- إلى واصل بن عطاء (80 - 131 هـ) الذي كان تلميذًا للحسن البصري أشهر علماء زمانه وأبرزهم.
وثمة خلاف شجر بين الدارسين حول سبب تسمية هذه الفرقة للمعتزلة، أثمر -أي هذا الخلاف- ثلاثة آراء متباينة لا بأس من ذكرها، ثم نختار من بينها ما نراه صوابًا.
أما الرأي الأول: فيذكره الشهرستاني صاحب الملل والنحل، حيث روى أن رجلًا دخل على الحسن البصري فقال له: يا إمام الدِّين: لقد ظهرت في زماننا جماعة يكفرون أصحاب الكبائر وهم الخوارج، وجماعة يرجئون أصحاب الكبائر، والكبيرة عندهم لا تضر مع الإيمان؛ لأن العمل عندهم ليس ركنًا من الإيمان، فلا يضر مع الإيمان معصية كما لا ينفع مع الكفر طاعة، وهم مرجئة الأمة، فكيف تحكم لنا في ذلك اعتقادًا؟ ففكر الحسن في هذه المسألة وقبل أن يجيب قال واصل بن عطاء -الذي كان حاضرًا مجلس الحسن البصري-: أنا لا أقول: إن صاحب الكبيرة مؤمن مطلق، ولا كافر مطلق، بل هو في منزلة بين المنزلتين، أي: لا مؤمن ولا كافر، ثم قام واعتزل مجلس الحسن إلى مكان آخر من المسجد، فلما رآه الحسن وبعض أصحابه قال:
اعتزل عنا واصل؛ فسمي هو وأصحابه معتزلة.
والرأي الثاني حكاه المسعودي في مروج الذهب حيث قال: سموا بذلك؛ لأنهم قالوا باعتزال صاحب الكبيرة، فيكون الاعتزال وصفًا لمرتكب الكبيرة في الأصل، وسميت به الفرقة؛ لأنها جعلت مرتكب الكبيرة يعتزل المؤمنين والكافرين.
مخالفین کے ساتھ مناظرہ کرنے اور انہیں لاجواب کرنے میں۔‘‘
اور اس کلامی فرقے کے بارے میں ہماری گفتگو کئی اہم موضوعات پر مشتمل ہے:
اوّلاً: ابتدا اور وجہِ تسمیہ۔
ثانیاً: اعتزال کے مراکز اور معتزلہ کے ذیلی فرقے۔
ثالـثاً: عقائد کے مطالعہ اور تحقیق میں معتزلہ کا منہج۔
رابعاً: وہ پانچ بنیادی اصول (اصولِ خمسہ) جن کے معتزلہ قائل ہیں۔
اوّلاً: ابتدا اور وجہِ تسمیہ:
یہ فرقہ — جیسا کہ ایک طے شدہ اور معروف امر ہے — واصل بن عطا (80 - 131ھ) کی طرف منسوب ہے، جو اپنے زمانے کے سب سے زیادہ نامور اور ممتاز عالم حسن بصری کے شاگرد تھے۔
اور اس فرقے کو معتزلہ کا نام دیے جانے کی وجہ کے بارے میں اہلِ علم و تحقیق کے مابین ایک اختلاف رونما ہوا ہے، جس کے نتیجے میں تین مختلف آراء سامنے آئی ہیں جن کا ذکر کر دینے میں کوئی حرج نہیں، پھر ہم ان میں سے اس رائے کا انتخاب کریں گے جسے ہم درست سمجھتے ہیں۔
جہاں تک پہلی رائے کا تعلق ہے، تو اسے کتاب ’الملل والنحل‘ کے مصنف شہرستانی نے ذکر کیا ہے، چنانچہ انہوں نے روایت کی ہے کہ ایک شخص حضرت حسن بصری کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے امامِ دین! ہمارے زمانے میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو چکا ہے جو گناہِ کبیرہ کے مرتکبین کی تکفیر کرتا ہے اور وہ خوارج ہیں، اور ایک ایسا گروہ ہے جو کبیرہ کے مرتکبین کے معاملے کو مؤخر کرتا ہے (ارجاء کا قائل ہے) اور ان کے نزدیک ایمان کے ساتھ کبیرہ گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتا، کیونکہ ان کے نزدیک عمل ایمان کا رکن نہیں ہے، لہٰذا ایمان کے ساتھ کوئی نافرمانی نقصان دہ نہیں جیسے کفر کے ساتھ کوئی اطاعت نفع بخش نہیں، اور یہ اس امت کے مرجئہ ہیں؛ تو اس معاملے میں اعتقادی اعتبار سے ہمارے لیے آپ کا کیا فیصلہ ہے؟ اس پر حسن بصری نے اس مسئلے پر غور کیا، اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتے، واصل بن عطا نے — جو حسن بصری کی مجلس میں حاضر تھے — کہا: میں یہ نہیں کہتا کہ کبیرہ کا مرتکب مطلق مؤمن ہے اور نہ یہ کہ وہ مطلق کافر ہے، بلکہ وہ دو منزلوں کے درمیان ایک درمیانی منزل (منزلة بين المنزلتين) میں ہے، یعنی نہ مؤمن ہے اور نہ کافر۔ پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور حسن بصری کی مجلس سے الگ ہو کر مسجد کی دوسری جانب چلے گئے۔ جب حسن بصری اور ان کے بعض اصحاب نے انہیں دیکھا تو فرمایا:
’’اعتزل عنا واصل‘‘ (واصل ہم سے الگ ہو گیا ہے)؛ چنانچہ ان کا اور ان کے رفقا کا نام معتزلہ پڑ گیا۔
اور دوسری رائے مسعودی نے ’مروج الذهب‘ میں بیان کی ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں: ان کا یہ نام اس لیے پڑا کیونکہ وہ مرتکبِ کبیرہ کے اعتزال (الگ تھلگ ہونے) کے قائل ہوئے، چنانچہ اعتزال اصل میں مرتکبِ کبیرہ کا وصف قرار پایا، اور اس فرقے کا نام اس لیے معتزلہ رکھا گیا کیونکہ اس نے مرتکبِ کبیرہ کو مؤمنین اور کافرین دونوں سے الگ تھلگ قرار دیا۔