ثانيا: الأشاعرة – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
الذي يهدم أصلاً من أصول المعتزلة وهو مبدأ الصلاح والأصلح.
ولا ريب أن هذه المناظرة -ولا نستبعد وقوع مناظرات أخرى غيرها- قد زعزعت إيمان الأشعري فيما يؤمن به من آراء اعتزالية، وحملته على إعادة النظر فيها، وامتحانها عله يهتدي إلى وجه الحق، فعكف في بيته مدة ينظر في كتب المعتزلة، ويزن أدلتهم، حتى اهتدى إلى فسادها وبطلانها، فرقى المنبر يوم الجمعة بالمسجد الجامع بالبصرة وقال:
" أيها الناس من عرفني فقد عرفني، ومن لم يعرفني فأنا أعرفه بنفسي، أنا فلان بن فلان، كنت أقول بخلق القرآن، وأن اللَّه تعالى لا يُرى بالأبصار، وأن أفعال الشر أنا أفعلها، وأنا تائب مقلع متصد للرد على المعتزلة، مخرج لفضائحهم، معاشر الناس، إنما تغيبت عنكم هذه المدة؛ لأني نظرت فتكافأت عندي الأدلة، ولم يترجح عندي شيء على شيء، فاستهديت اللَّه تعالى، فهداني إلى اعتقاد ما أودعته كتبي هذه، وانخلعت من جميع ما كنت أعتقد، كما انخلعت من ثوبي هذا، ورمى ثوبًا كان عليه ".
والحق أن إعلان الأشعري السابق بضلال المعتزلة عن المنهج القويم في أمور الاعتقاد قد تضمن إشارة إلى أبرز وجوه الخلاف بين المعتزلة وأهل السنة، وهي: القول بخلق القرآن، ونفي الصفات، وإنكار رؤية اللَّه تعالى، وحرية الإرادة الإنسانية والزعم أن الإنسان خالق أفعاله.
وذهب بعض الباحثين إلى أن العامل الحاسم في تحول أبي الحسن الأشعري عن مذهب الاعتزال إلى مذهب أهل السنة إنما هو مذهبه الفقهي الذي كان يتعبد به، وهو المذهب الشافعي، وأمر الخصومة بين الفقهاء -ومنهم الإمام الشافعي- والمتكلمين لا سيما المعتزلة أظهر من أن نحتاج إلى إقامة الأدلة عليه، فلقد ذم الشافعي علم الكلام وكان يعني بذلك المعتزلة، وهاجمهم في بعض كتبه ولم يقبل شهادتهم، وللشافعي نفسه آراء في الاعتقاد تخالف ما ذهب إليه المعتزلة، فهو يعتقد أن القرآن كلام اللَّه غير مخلوق، وأن اللَّه يُرى بالأبصار يوم القيامة، ويقول بالشفاعة، ويؤمن بالقدر خيره وشره.
فلا غرو أن أحس الأشعري بتناقض كبير بين أصول مذهبه الفقهي، وآراء مذهبه
جو معتزلہ کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصل، یعنی قاعدۂ صلاح و اصلح کو جڑ سے منہدم کر دیتا ہے۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس مناظرے نے—اور ہم اس کے علاوہ دیگر مناظروں کے وقوع کو بھی بعید نہیں سمجھتے—اعتزالی نظریات کے بارے میں امام اشعری کے پختہ ایقان کو متزلزل کر دیا، اور انہیں ان پر نظرثانی کرنے اور ان کی جانچ پرکھ کرنے پر آمادہ کیا تا کہ وہ حق کی راہ پا سکیں۔ چنانچہ وہ ایک مدت تک اپنے گھر میں گوشہ نشین رہے، جہاں وہ معتزلہ کی کتب کا گہرا مطالعہ کرتے رہے اور ان کے دلائل کا وزن پرکھتے رہے، یہاں تک کہ ان پر ان کے دلائل کا فساد و بطلان واضح ہو گیا۔ پس وہ جمعہ کے دن بصرہ کی جامع مسجد کے منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور اعلان کیا:
"اے لوگو! جو مجھے جانتا ہے وہ تو جانتا ہی ہے، اور جو مجھے نہیں جانتا تو میں خود اپنا تعارف کرائے دیتا ہوں؛ میں فلاں بن فلاں ہوں، میں خلقِ قرآن کا قائل تھا، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ آنکھوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، اور یہ کہ برائی کے تمام افعال کا فاعل میں خود ہوں۔ اب میں (ان تمام باطل نظریات سے) تائب ہوتا ہوں، ان سے دستبردار ہوتا ہوں، اور معتزلہ کے رد اور ان کی رسوائیوں کو طشت از بام کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں۔ اے لوگو! میں اس مدت کے دوران تم سے محض اس لیے روپوش رہا کہ میں نے (فریقین کے دلائل پر) غوروخوض کیا تو میرے نزدیک دلائل باہم متصادم و مساوی ہو گئے اور کسی پہلو کو دوسرے پر ترجیح حاصل نہ ہو سکی۔ پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کی، تو اس نے مجھے اس عقیدے کی رہنمائی فرمائی جو میں نے اپنی ان کتابوں میں درج کر دیا ہے، اور میں اپنے ان تمام سابقہ عقائد سے اس طرح نکل چکا ہوں جس طرح میں اپنے اس کپڑے سے نکل رہا ہوں۔ اور انہوں نے وہ کپڑا اتار کر پھینک دیا جو وہ پہنے ہوئے تھے"۔
اور حقیقت یہ ہے کہ امورِ اعتقاد میں راہِ راست سے معتزلہ کے انحراف کے متعلق امام اشعری کے اس مذکورہ اعلان میں معتزلہ اور اہلِ سنت کے مابین نمایاں ترین اختلافی مسائل کی طرف اشارہ موجود ہے، اور وہ یہ ہیں: خلقِ قرآن کا قول، نفیِ صفات، رؤیتِ باری تعالیٰ کا انکار، اور انسانی ارادے کی مطلق آزادی نیز یہ گمان کہ انسان خود اپنے افعال کا خالق ہے۔
اور بعض محققین کی رائے یہ ہے کہ ابو الحسن الاشعری کے مذہبِ اعتزال سے اہل السنت کے مسلک کی طرف رجوع میں فیصلہ کن عامل دراصل ان کا وہ فقہی مذہب تھا جس پر وہ عمل پیرا تھے، یعنی مذہبِ شافعی؛ اور فقہاء—جن میں خود امام شافعی بھی شامل ہیں—اور متکلمین، بالخصوص معتزلہ کے مابین نزاع کا معاملہ تو اس قدر واضح ہے کہ اس پر دلائل قائم کرنے کی کوئی حاجت نہیں۔ چنانچہ امام شافعی نے علمِ کلام کی مذمت فرمائی اور اس سے ان کی مراد معتزلہ ہی تھے، انہوں نے اپنی بعض کتب میں ان پر سخت گرفت کی اور ان کی گواہی قبول نہیں فرمائی؛ اور خود امام شافعی کے عقائد میں ایسے آراء و مواقف ہیں جو معتزلہ کے نظریات کے بالکل برعکس ہیں، کیونکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو غیر مخلوق ہے، اور یہ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھا جائے گا، نیز وہ شفاعت کے قائل تھے اور خیر و شر کی تقدیر پر ایمان رکھتے تھے۔
پس اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ امام اشعری کو اپنے فقہی مذہب کے اصولوں اور اپنے اس