نقد الأشعري للحشوية – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
المعتزلة في رأي الأشعري شر من مذهب المجوس الذين جعلوا لله شريكًا واحدًا وهو الشيطان.
وساق الغلو في استخدام المعتزلة للعقل إلى القول بوجوب الصلاح والأصلح على اللَّه، وهو المبدأ الذي هدمه الأشعري في مناظرته لأستاذه أبي علي الجبائي، وكان أحد الأسباب المباشرة في رفض الأشعري لمنهج المعتزلة وانصرافه عنه، فمن نحن حتى نوجب على اللَّه شيئًا؟! فالعقيدة الصحيحة أن اللَّه يثيب الطائع ويدخله الجنة لا بعمله، ولكن بتفضله ورحمته.
ومن المسائل الكبرى التي أخذها الأشعري على المعتزلة القول بخلق القرآن، " فجعلوه مشابها في الخلق والحدوث لجميع الأشياء الحادثة التي تنقصها القداسة، ونفوا أن يكون صفة لله تعالى، فخالفهم الأشعري في ذلك وقرر في كتاب الإبانة: أن القرآن كلام الله غير مخلوق، وهو رأي السلف الذي تمسك به الإمام أحمد بن حنبل، غير أن الأشعري قدم بين يديه أدلة سمعية وأخرى عقلية، وبذل جهده لإبطال رأي المعتزلة ".
والخلاصة أن الأشعري لم يرض عن طريقة المعتزلة في النظر إلى العقيدة، وهي طريقة سداها ولحمتها التعويل على العقل والاستقلال به في تأسيس الأحكام في أصول الدِّين، مما جعلهم يفسرون العقيدة والتوحيد تفسيرًا لم يدل عليه الكتاب ولا السنة ولا قاله أحد من الأئمة، وصدق فيهم قول جولد تسيهر: " إنهم رفعوا العقل إلى مرتبة القياس والدليل في أمور الدِّين والإيمان ".
نقد الأشعري للحشوية:
يطلق مصطلح الحشوية على طائفة من الحنابلة وجماعة من الشيعة، تمسكوا بحرفية النصوص، وحملوها على ظاهرها حملًا انتهى بهم إلى القول بالتشبيه والتجسيم؛ يقول الشهرستاني: " إن جماعة من الشيعة الغالية وجماعة من أصحاب الحديث الحشوية صرحوا بالتشبيه، قالوا: إن معبودهم صورة ذات أعضاء وأبعاض إما روحانية أو جسمية يجوز عليه الانتقال والنزول والصعود والاستقرار والتمكن ".
واستدل هَؤُلَاءِ على رأيهم بنصوص من القرآن أثبتت لله سبحانه وتعالى بعض الصفات
معتزلہ کا مذہب ان مجوسیوں کے مذہب سے بھی بدتر قرار پایا جنہوں نے اللہ کے لیے صرف ایک شریک (یعنی شیطان) مانا تھا۔
اور عقل کے استعمال میں معتزلہ کے غلو نے انہیں اللہ تعالیٰ پر 'صلاح اور اصلح' (بندوں کے حق میں بہتر اور بہترین امر کرنے) کے واجب ہونے کا قائل کر دیا، اور یہی وہ نظریہ تھا جسے امام اشعری نے اپنے استاد ابو علی الجبائی کے ساتھ مناظرے میں بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا تھا، اور یہ امام اشعری کی جانب سے معتزلہ کے منہج کو مسترد کرنے اور اس سے روگردانی کرنے کے براہِ راست اسباب میں سے ایک تھا؛ کیونکہ بھلا ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب قرار دیں؟! پس عقیدۂ صحیحہ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماں بردار کو ثواب عطا فرماتا ہے اور اسے محض اس کے عمل کے بل بوتے پر نہیں، بلکہ اپنے فضل و کرم اور رحمت سے جنت میں داخل فرماتا ہے۔
اور ان بڑے مسائل میں سے جن پر امام اشعری نے معتزلہ کا مؤاخذہ کیا، خلقِ قرآن کا نظریہ تھا، «چنانچہ انہوں نے قرآن کو مخلوق ہونے اور وجود میں آنے کے اعتبار سے ان تمام کائناتی اشیاء کے مشابہ قرار دے دیا جو تقدس سے خالی ہیں، اور اس کے اللہ تعالیٰ کی صفت ہونے کی نفی کر دی؛ پس امام اشعری نے اس معاملے میں ان کی مخالفت کی اور اپنی کتاب ”الإبانة“ میں یہ طے کیا کہ قرآن اللہ کا غیر مخلوق کلام ہے، اور یہی سلف کا وہ موقف ہے جس پر امام احمد بن حنبل ثابت قدم رہے، البتہ امام اشعری نے اس کے اثبات میں نقلی دلائل کے ساتھ ساتھ عقلی دلائل بھی پیش کیے اور معتزلہ کے موقف کو باطل کرنے میں اپنی بھرپور مساعی صرف کیں۔»
اور خلاصۂ کلام یہ ہے کہ امام اشعری عقیدے کو پرکھنے کے معتزلی طریقے سے قطعی مطمئن نہ تھے، کیونکہ یہ ایسا طریقہ تھا جس کا تانا بانا اصولِ دین کے احکام کی تاسیس میں محض عقل پر تکیہ کرنے اور اسے خود مختار سمجھنے پر قائم تھا؛ جس کے باعث انہوں نے عقیدہ اور توحید کی ایسی تعبیر کی جس پر نہ قرآن و سنت کی کوئی دلیل تھی اور نہ ائمہ میں سے کسی نے ایسی بات کہی تھی، اور ان پر گولڈ زیہر کا یہ قول صادق آتا ہے کہ: «انہوں نے دین اور ایمان کے معاملات میں عقل کو قیاس اور رہنما دلیل کے مرتبے پر فائز کر دیا۔»
حشویہ پر امام اشعری کا نقد:
اصطلاحِ ”حشویہ“ کا اطلاق حنابلہ کے ایک گروہ اور شیعہ کی ایک جماعت پر ہوتا ہے، جنہوں نے نصوص کی لفظی تعبیر کو سختی سے پکڑے رکھا اور انہیں اس طرح ظاہر پر محمول کیا جس کا انجام تشبیہ اور تجسیم کے قول پر ہوا؛ علامہ شہرستانی فرماتے ہیں: «غالی شیعہ کی ایک جماعت اور اصحابِ حدیث کے حشویہ گروہ نے صراحتاً تشبیہ کا قول اختیار کیا، اور انہوں نے کہا کہ ان کا معبود ایک ایسی صورت ہے جو اعضاء و اجزاء پر مشتمل ہے، خواہ وہ روحانی ہوں یا جسمانی، اور اس پر حرکت و منتقلی، نزول، صعود، قرار پکڑنا اور جگہ گھیرنا جائز ہے۔»
اور ان لوگوں نے اپنے موقف پر قرآن مجید کی ان نصوص سے استدلال کیا جنہوں نے اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے بعض ایسی صفات ثابت کی ہیں