نقد الأشعري للحشوية – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
أعدى الأول ".
على هذا النحو أثبت الأشعري أن القرآن الكريم والسنة الشريفة لم يهملا النظر العقلي ولا حرما أدلته، بل حثَّا على الأخذ بهما في إلزام الخصوم ودحض شبههم، وحسبك دليلا أن القرآن نفسه قد تضمن شيئًا غير قليل من هذه الأدلة.
ويقول أحد الباحثين:
" وقد اضطر الأشعري للنظر العقلي للأسباب الآتية:
1 - أنه تخرج على المعتزلة وتربى على موائدهم الفكرية، فنال من مشربهم وأخذ من منهلهم، واختار طريقهم في إثبات العقائد، وإن خالفهم في النتائج.
2 - أنه تصدى للرد عليهم فلابد أن يتبع طريقتهم.
3 - أنه تصدى للرد على الفلاسفة والقرامطة والحشوية والروافض وغيرهم من أهل الأهواء الفاسدة والنحل الباطلة، وكثير من هَؤُلَاءِ لا يقنعه إلا أقيسة البرهان، ومنهم فلاسفة علماء لا يقطعهم إلا دليل العقل، ولا يرد كيدهم في نحورهم أثر أو نقل.
ومن رد الأشعري على المعتزلة وعلى الحنابلة نرى أن الدفاع عن المنهج الأشعري هو نقطة البداية لعلم الكلام السني من غير أن يتطرف في التأويلات العقلية كالمعتزلة، أو
أَعْدَى الْأَوَّلَ" (کہ پھر پہلے [اونٹ] کو کس نے بیمار کیا تھا؟)۔
اسی انداز میں امام اشعری نے یہ ثابت کیا کہ قرآنِ کریم اور سنتِ مطہرہ نے نہ تو عقلی غور و خوض (نظرِ عقلی) کو نظر انداز کیا ہے اور نہ ہی اس کے دلائل کو ممنوع قرار دیا ہے، بلکہ مخالفین کو لاجواب کرنے اور ان کے شبہات کو باطل ثابت کرنے کے لیے ان دلائل سے کام لینے کی ترغیب دی ہے، اور اس پر بطورِ دلیل تمہارے لیے یہی کافی ہے کہ خود قرآنِ کریم ان عقلی دلائل کے ایک بڑے اور قابلِ قدر حصے پر مشتمل ہے۔
ایک محقق کا بیان ہے:
"اور امام اشعری درج ذیل اسباب کی بنا پر عقلی استدلال (نظرِ عقلی) اختیار کرنے پر مجبور ہوئے:
1 - یہ کہ انہوں نے معتزلہ کے ہاں تعلیم و تربیت پائی اور انہی کے فکری دسترخوان پر پروان چڑھے، چنانچہ انہی کے چشمۂ فکر سے سیراب ہوئے اور انہی کے ماخذ سے فیض حاصل کیا، اور عقائد کو ثابت کرنے کے لیے انہی کا منہج اختیار کیا، اگرچہ نتائج میں ان سے اختلاف کیا۔
2 - یہ کہ انہوں نے خود معتزلہ کے رد کا بیڑا اٹھایا تھا، لہٰذا لازمی تھا کہ وہ انہی کے استدلالی طریقے کی پیروی کرتے۔
3 - یہ کہ وہ فلاسفہ، قرامطہ، حشویہ، روافض اور ان کے علاوہ دیگر اہلِ اہواء اور باطل فرقوں کے رد کے لیے میدان میں اترے، اور ان میں سے بہت سے ایسے تھے جنہیں سوائے برہانی قیاسات کے کوئی چیز مطمئن نہیں کر سکتی تھی، نیز ان میں ایسے اہل علم فلاسفہ بھی شامل تھے جنہیں سوائے دلیلِ عقل کے کسی اور چیز سے لاجواب نہیں کیا جا سکتا تھا، اور محض کوئی روایت یا نقل ان کے فریب کو انہی پر نہیں الٹ سکتی تھی۔
اور معتزلہ و حنابلہ پر امام اشعری کے رد و تعاقب سے ہم یہ دیکھتے ہیں کہ منہجِ اشعری کا دفاع ہی سنی علمِ کلام کا نقطۂ آغاز ہے، اس طور پر کہ وہ نہ تو معتزلہ کی طرح عقلی تاویلات میں انتہا پسندی کا شکار ہو، اور نہ ہی