المسألة الرابعة — الاستثناء في الإيمان – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
الإيمان في الاصطلاح:
لقد اختلف الماتريدية والأشاعرة في التعريف بالإيمان ومفهومه في الشرع على ما يلي:
مفهوم الإيمان عند الماتريدية:
يعرف الماتريدية الإيمان بأنه " تصديق بالقلب وإقرار باللسان ".
مفهوم الإيمان عند الأشاعرة:
ويعرفه الأشعرية بأنه " التصديق باللَّه تعالى "، وهذا هو ما ذكره الإمام أبو الحسن الأشعري، وقد حدد المقصود بالتصديق بأنه التصديق القلبي، وهذا التصديق القلبي عند الأشاعرة هو: " الإيمان باللَّه سبحانه وتعالى، وإثبات ما أثبته لنفسه من صفات وأنه ليس كمثله شيء ".
الاستثناء عند الماتريدية:
ذهب الماتريدية إلى منع دخول الاستثناء في الإيمان، فالمؤمن عندهم يكون مؤمنًا حقًّا، وليس مؤمنًا بالمشيئة؛ وذلك لأن الماتريدية يرون أن الاستثناء شك في إيمان المؤمن وشرائطه التي لا تقبل الشك.
يقول الإمام الماتريدي: الأصل عندنا قطع القول بالإيمان والتسمي به بالإطلاق وترك الاستثناء فيه؛ لأن كل معنى في اجتماع وجوده تمام الإيمان عندهم إذا استثنى فيه لم يصح ذلك المعنى؛ نحو أن يقول: أشهد أن لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إن شاء اللَّه، أو: محمدًا رسول الله إن شاء اللَّه، وكذلك الشهادة بالبعث والملائكة والرسل والكتب. . . فالعرف الظاهر في الخلق أنهم لا يستعملونه -أي: الاستثناء- في موضع الإحاطة والعلم، ومن سمع ذلك استعظم القول، كمن أشار إلى محسوس ويستثني.
الاستثناء عند الأشاعرة:
يذهب الأشاعرة إلى جواز الاستثناء في الإيمان، فيمكن للمؤمن أن يقول:
أنا مؤمن إن شاء اللَّه.
يقول الإمام البغدادي: كل من قال من أهل الحديث بأن جملة الطاعات من الإيمان
اصطلاح میں ایمان کا مفہوم:
شریعت میں ایمان کی تعریف اور اس کے مفہوم کے سلسلے میں ماتریدیہ اور اشاعرہ کے مابین حسبِ ذیل اختلاف پایا جاتا ہے:
ماتریدیہ کے ہاں ایمان کا مفہوم:
ماتریدیہ ایمان کی تعریف یوں کرتے ہیں کہ وہ "تصديق بالقلب وإقرار باللسان" (دل کی تصدیق اور زبان کا اقرار) ہے۔
اشاعرہ کے ہاں ایمان کا مفہوم:
جبکہ اشعریہ اس کی تعریف "التصديق باللَّه تعالى" (اللہ تعالیٰ کی تصدیق کرنا) سے کرتے ہیں، اور یہی وہ موقف ہے جسے امام ابو الحسن الاشعری نے ذکر کیا ہے، اور انہوں نے تصدیق سے قلبی تصدیق مراد ہونا متعین فرمایا ہے، اور اشاعرہ کے ہاں اس قلبی تصدیق سے مراد یہ ہے: "الإيمان باللَّه سبحانه وتعالى، وإثبات ما أثبته لنفسه من صفات وأنه ليس كمثله شيء" (اللہ سبحانہ وتعالیٰ پر ایمان لانا، اور ان صفات کا اثبات کرنا جو اس نے خود اپنے لیے ثابت فرمائی ہیں اور یہ یقین رکھنا کہ کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے)۔
ماتریدیہ کے ہاں استثناء:
ماتریدیہ اس بات کے قائل ہیں کہ ایمان میں استثناء (ان شاء اللہ کہنا) داخل کرنا ممنوع ہے، چنانچہ مؤمن ان کے نزدیک حقیقتاً مؤمن ہوتا ہے، نہ کہ مشیئت کے ساتھ مشروط مؤمن؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماتریدیہ کے نزدیک استثناء، مؤمن کے ایمان اور اس کے ان ارکان و شرائط میں شک کرنا ہے جو شک کو قطعی قبول نہیں کرتیں۔
امام ماتریدی فرماتے ہیں: ہمارے ہاں بنیادی اصول یہ ہے کہ ایمان کا قطعی اور دو ٹوک اقرار کیا جائے، مطلق طور پر مؤمن کا نام اختیار کیا جائے اور اس میں استثناء کو ترک کیا جائے؛ کیونکہ ہر وہ معنی جس کے مکمل پائے جانے سے ان کے نزدیک ایمان کامل ہوتا ہے، جب اس میں استثناء کر دیا جائے تو وہ معنی ہی درست نہیں رہتا؛ جیسے کوئی شخص یوں کہے: أشهد أن لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إن شاء اللَّه، یا: محمدًا رسول الله إن شاء اللَّه، اور اسی طرح دوبارہ زندہ کیے جانے، فرشتوں، رسولوں اور آسمانی کتابوں پر ایمان کی شہادت میں استثناء کرنا... پس انسانوں میں یہ بات معروف و عیاں ہے کہ وہ یقینی علم اور مکمل آگاہی کے مقام پر استثناء (یعنی مشیئت کی قید) استعمال نہیں کرتے، اور جو شخص ایسی بات سنتا ہے وہ اسے انتہائی قبیح سمجھتا ہے، جیسے کوئی شخص کسی سامنے نظر آنے والی چیز کی طرف اشارہ کرے اور پھر اس میں استثناء کرے۔
اشاعرہ کے ہاں استثناء:
اشاعرہ ایمان میں استثناء کے جواز کی طرف گئے ہیں، چنانچہ مؤمن کے لیے یہ کہنا ممکن ہے کہ:
أنا مؤمن إن شاء اللَّه (میں ان شاء اللہ مؤمن ہوں)۔
امام بغدادی فرماتے ہیں: اہلِ حدیث میں سے ہر وہ شخص جس نے یہ کہا کہ جملہ طاعات و عبادات ایمان کا حصہ ہیں