المسألة الثانية: الثواب والعقاب – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
التكليف به لارتفاع العجز المانع أصلًا ".
وبعد عرض رأي كل من الماتريدية والأشعرية يظهر لنا أن الماتريدية والأشعرية متفقون في حكم أقسام التكليف ما عدا التكليف بالمحال لغيره، وهو أدنى مراتب التكليف بما لا يطاق، فقد ذهب الماتريدية إلى منعه إلا في المقدور على إتيانه، أما ما لا يمكن إتيانه فلا تكليف فيه، لكن الأشعرية قد ذهبوا إلى جوازه؛ لأن قدرة اللَّه تعالى قدرة مطلقة.
المسألة الثانية: الثواب والعقاب
من الواضح أن كلًّا من السادة الماتريدية والأشاعرة يتفقان في القول بعدم جواز تعذيب المطيع وإثابة العاصي.
أما محل الخلاف بينهما فهو في المدرك، حيث ذهب الماتريدية إلى أن المدرك لذلك هو العقل والشرع.
وأما الأشاعرة فذهبوا إلى أن المدرك لذلك هو الشرع.
وقد ترتب على ذلك أن الماتريدية منعوا جواز تعذيب المطيع وإثابة العاصي، بينما أجاز ذلك الأشعرية، وفي ذلك خلاف سنفصل القول فيه على ما يلي:
الماتريدية:
لقد ذهب الماتريدية إلى القول بمنع تعذيب المطيع عقلاً أو شرعًا.
يقول الإمام أبو حنيفة: " لا يجوز مطلقًا لا عقلًا ولا شرعًا أن يعذب اللَّه تبارك وتعالى العبد الطائع؛ إذ لا يجوز في بداهة العقل أن يعذب اللَّه تبارك وتعالى المطيع ".
وجاء في المسايرة لابن الهمام: " القول في تجويز تعذيب المحسن عقلًا عدمه، فوقوع ذلك منه تعالى مقطوع بعدمه وفاقًا بالشرع ".
الأشعرية:
أما الأشعرية فيذهبون إلى جواز تعذيب اللَّه تعالى للعبد الطائع وإدخاله النار عقلاً، وإدخال الكافر الجنة، كما أن لله تعالى إيلام البهائم والأطفال والمجانين؛ لأنه عدل في حكمه متصرف في ملكه.
ہے، کیونکہ وہ عجز جو اصلاً مانع تھا اب مرتفع ہو چکا ہے۔»
ماتریدیہ اور اشعریہ دونوں کے نقطہ نظر کے جائزے کے بعد ہمارے سامنے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ماتریدیہ اور اشعریہ اقسامِ تکلیف کے حکم میں سوائے «تکلیف بالمحال لغیرہ» کے باہم متفق ہیں، اور یہ «تکلیف بما لا یطاق» (طاقت سے باہر کی تکلیف) کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ چنانچہ ماتریدیہ اس کے عدمِ جواز کی طرف گئے ہیں سوائے اس صورت کے جس کا بجا لانا مقدور ہو، البتہ جسے بجا لانا اصلاً ممکن ہی نہ ہو اس میں کوئی مکلف بنانا نہیں، لیکن اشعریہ اس کے جواز کی طرف گئے ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت، قدرتِ مطلقہ ہے۔
دوسرا مسئلہ: ثواب اور عذاب
یہ بات بالکل واضح ہے کہ ساداتِ ماتریدیہ اور اشاعرہ دونوں مطیع (فرمانبردار) کو عذاب دینے اور عاصی (نافرمان) کو ثواب دینے کے عدمِ جواز پر متفق ہیں۔
البتہ ان کے مابین محلِ نزاع و اختلاف مدرِک (یعنی اس حکم کو جاننے کے ماخذ و ذریعے) میں ہے، چنانچہ ماتریدیہ کا موقف یہ ہے کہ اس کا مدرِک عقل اور شرع دونوں ہیں۔
جبکہ اشاعرہ اس طرف گئے ہیں کہ اس کا مدرِک محض شرع ہے۔
اور اسی پر یہ بات مرتب ہوئی کہ ماتریدیہ نے مطیع کو عذاب دینے اور عاصی کو ثواب دینے کے جواز کو عقلاً ممنوع قرار دیا، جبکہ اشعریہ نے اسے عقلاً جائز مانا۔ اس سلسلے میں پائے جانے والے اختلاف کی تفصیل ہم ذیل میں بیان کرتے ہیں:
ماتریدیہ:
ماتریدیہ اس موقف کی طرف گئے ہیں کہ مطیع کو عذاب دینا عقلاً اور شرعاً دونوں اعتبار سے قطعاً ممنوع و ناجائز ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "لا يجوز مطلقًا لا عقلًا ولا شرعًا أن يعذب اللَّه تبارك وتعالى العبد الطائع؛ إذ لا يجوز في بداهة العقل أن يعذب اللَّه تبارك وتعالى المطيع" (یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کے حق میں نہ عقلاً اور نہ ہی شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ فرمانبردار بندے کو عذاب دے؛ کیونکہ عقل کی بدیہی رہنمائی میں یہ بات قطعی طور پر ناجائز ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ مطیع کو عذاب میں مبتلا فرمائے)۔
اور علامہ ابن الہمام کی کتاب «المسایرہ» میں آیا ہے: "القول في تجويز تعذيب المحسن عقلًا عدمه، فوقوع ذلك منه تعالى مقطوع بعدمه وفاقًا بالشرع" (یعنی عقلی اعتبار سے نیکوکار کو عذاب دینے کے جواز کا قول ہی کالعدم ہے، پس اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کا واقع ہونا شرع کے اتفاق سے بھی قطعی طور پر منتفی و معدوم ہے)۔
اشعریہ:
جبکہ اشعریہ اس بات کی طرف جاتے ہیں کہ عقلی اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے لیے فرمانبردار بندے کو عذاب دینا اور اسے جہنم میں داخل کرنا، نیز کافر کو جنت میں داخل کرنا جائز ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کے لیے چوپایوں، بچوں اور مجانین (پاگلوں) کو درد و تکلیف میں مبتلا کرنا جائز ہے؛ کیونکہ وہ اپنے فیصلے میں عادل ہے اور اپنی ہی مِلک میں تصرف فرما رہا ہے۔