المرحلة الأولى: التفسير في عهد النبي صلى الله عليه وسلم – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
وقد بدأ التفسير في هذه المرحلة حينما كان الصحابة يسألون النبي صلى الله عليه وسلم؛ لأن فهم القرآن الكريم كاملاً ليس ميسورًا لهم، " بل لابد لهم من البحث والنظر والرجوع إلى النبي صلى الله عليه وسلم فيما يشكل عليهم فهمه؛ وذلك لأن القرآن فيه المجمل، والمشكل، والمتشابه، وغير ذلك مما لابد في معرفته من أمور أخرى يرجع إليها ".
والأمثلة كثيرة وثابتة تدل على أن الصحابة كانوا يسألون رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم عما يشكل عليهم من معان قرآنية، فمن ذلك ما أخرجه الترمذي عن عليٍّ بن أبي طالب قال: سألت رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم عن " يوم الحج " فقال: " يوم النحر ".
وقد فسر صلى الله عليه وسلم الحساب اليسير بالعرض حيث قال: " من نوقش الحساب عذب " فقالت له السيدة عائشة رضي الله عنها: أو ليس قد قال اللَّه تعالى: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ (7) فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا (8) وَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا (9)، فقال صلى الله عليه وسلم: " ذلك العرض " بيانا للحساب
اور اس مرحلے میں تفسیر کا آغاز اس وقت ہوا جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (معانی و مفاہیم) دریافت کیا کرتے تھے؛ کیونکہ پورے قرآنِ کریم کا (از خود) سمجھ لینا ان کے لیے آسان نہ تھا، ”بلکہ جس بات کا سمجھنا ان کے لیے مشکل ہوتا اس میں ان کے لیے غور و خوض، تحقیق اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنا ناگزیر تھا؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں مجمل، مشکل اور متشابہ (مقامات) موجود ہیں، نیز ان کے علاوہ ایسے دیگر امور بھی ہیں جن کی معرفت کے لیے ایسے مراجع و ذرائع کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے جن سے رہنمائی مل سکے“۔
اور اس پر بے شمار اور ثابت شدہ شواہد موجود ہیں جو یہ واضح کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآنی معانی میں سے پیش آنے والی مشکلات کے حل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے، چنانچہ انہی میں سے وہ حدیث بھی ہے جسے امام ترمذی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: سألت رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم عن " يوم الحج " فقال: " يوم النحر " (میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ”یومِ حج“ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس سے مراد یومِ نحر یعنی قربانی کا دن ہے“)۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسابِ یسیر کی تفسیر ”عرض“ (محض پیشی) سے فرمائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " من نوقش الحساب عذب " (جس کے حساب میں جانچ پڑتال اور مناقشہ کیا گیا، اسے عذاب دیا گیا)، تو اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے عرض کی: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا: {فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ٧ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ٨ وَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مَسْرُورًا ٩} (سو جس شخص کو اس کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، تو عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا اور وہ اپنے گھر والوں کی طرف خوش خوش لوٹے گا)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: " ذلك العرض " (اس سے مراد تو محض پیشی ہے)، جو کہ اس حسابِ