المرحلة الأولى: التفسير في عهد النبي صلى الله عليه وسلم – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
تعالى: (يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ) ".
ففسر رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم الظلم في الآية الأولى بالشرك في الآية الثانية.
ومن تفسير القرآن بالقرآن ما جاء بحمل المجمل على المفصل، مثال ما جاء في تفسير قول اللَّه تعالى: (أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ)، فقد جاء تفسير قوله سبحانه: (إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ) في آية كريمة أخرى هي قوله تعالى: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (3).
ومن تفسير القرآن بالقرآن -أيضا- ما جاء بحمل المطلق على المقيد، والعام على الخاص: فمن الأول: ما نقله الغزالي عن أكثر الشافعية من حمل المطلق على المقيد في صورة اختلاف الحكمين عند اتحاد السبب، ومثل له بآية الوضوء والتيمم، فإن الأيدي مقيدة في الوضوء بالغاية في قوله تعالى: (فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ). . . ومطلقة في التيمم في قوله تعالى في الآية نفسها: (فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ)، فقيدت في التيمم بالمرافق أيضا.
ومن النوع الثاني: نفي الخلة والشفاعة على جهة العموم في قوله تعالى (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ)، فخصص العموم في قوله تعالى: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى)، فقد استثنى ما أذن فيه من الشفاعة، وفي قوله تعالى: (الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ) فقد استثنى اللَّه المتقين من نفي الخلة.
: (يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ) (اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بلاشبہ شرک بہت بڑا ظلم ہے)؟"۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی آیت میں وارد لفظِ «ظلم» کی تفسیر دوسری آیت میں مذکور لفظِ «شرک» سے فرمائی۔
اور قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ مجمل کو مفصل پر محمول کیا جائے؛ جیسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی تفسیر میں وارد ہوا ہے: (أُحِلَّتْ لَكُمْ بَهِيمَةُ الْأَنْعَامِ إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ) (تمہارے لیے چوپائے مویشی حلال کر دیے گئے ہیں سوائے ان کے جن کا حکم تمہیں پڑھ کر سنایا جائے گا)، چنانچہ اللہ سبحانہ کے فرمان: (إِلَّا مَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ) (سوائے ان کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جائیں گے) کی تفسیر ایک دوسری آیتِ کریمہ میں آئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: (حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَنْ تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِإِثْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ٣) (تم پر مرا ہوا جانور اور (بہتا) لہو اور سور کا گوشت اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے اور جو جانور گلا گھٹ کر مر جائے اور جو چوٹ لگ کر مر جائے اور جو گر کر مر جائے اور جو سینگ لگ کر مر جائے یہ سب حرام ہیں اور وہ جانور بھی جس کو درندے پھاڑ کھائیں۔ مگر جس کو تم (مرنے سے پہلے) ذبح کرلو اور وہ جانور بھی جو تھان پر ذبح کیا جائے اور یہ بھی کہ پاسوں سے قسمت معلوم کرو یہ سب گناہ (کے کام) ہیں آج کافر تمہارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں تو ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرتے رہو (اور) آج ہم نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا ہاں جو شخص بھوک میں ناچار ہو جائے (بشرطیکہ) گناہ کی طرف مائل نہ ہو تو خدا بخشنے والا مہربان ہے)۔
اور قرآن کی قرآن کے ذریعے تفسیر میں سے یہ صورت بھی ہے کہ مطلق کو مقید پر، اور عام کو خاص پر محمول کیا جائے: چنانچہ پہلی قسم کی مثال: وہ ہے جسے امام غزالی رحمہ اللہ نے اکثر شوافع سے نقل کیا ہے کہ جب سبب ایک ہو لیکن دونوں کے احکام مختلف ہوں تو مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، اور انہوں نے اس کی مثال وضو اور تیمم کی آیت سے دی ہے؛ کیونکہ وضو میں ہاتھوں کو غایت کے ساتھ مقید کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ) (...تو اپنے چہرے اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھو لو...)، جبکہ اسی آیت میں تیمم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ) (...تو اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو...) میں ہاتھ مطلق مذکور ہیں؛ چنانچہ تیمم میں بھی ہاتھوں کو کہنیوں تک ہی مقید مانا گیا۔
اور دوسری قسم (عام کی خاص کے ذریعے تخصیص) کی مثال: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں دوستی اور شفاعت کی علی العموم نفی ہے: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ) (اے ایمان والو جو (مال) ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ (اعمال کا) سودا ہو اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں)، پس اس عموم کی تخصیص اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے کی گئی: (وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى) (اور آسمانوں میں بہت سے فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اس وقت کہ خدا جس کے لئے چاہے اجازت بخشے اور (سفارش) پسند کرے)، چنانچہ جس شفاعت کی اللہ نے اجازت دی ہو اسے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا؛ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں: (الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ) ((جو آپس میں) دوست (ہیں) اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔ مگر پرہیزگار (کہ باہم دوست ہی رہیں گے))، اللہ تعالیٰ نے متقین کو نفیِ خلت (دوستی کی نفی) سے مستثنیٰ فرما دیا ہے۔