الفصل الثاني — مدارس تفسير القرآن الكريم – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
وسماتها والمفسرين الذين يمثلونها وينتمون إليها.
أولا: المدرسة المكية:
واضع بذور هذه المدرسة ومؤسسها الأول الصحابي الجليل عبد اللَّه بن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما ترجمان القرآن وحبر الأمة، فقد جلس لتلاميذه يفسر لهم ما غمض من القرآن ويوضح لهم ما أشكل عليهم من معانيه، وكان جلوسه لهم بمكة، وقد اجتمع حوله كثير من التلاميذ الذين وعوا ما يقوله ورووه لمن جاء بعدهم، وقد اشتهر من هَؤُلَاءِ التلاميذ: سعيد بن جبير، ومجاهد، وعكرمة، وطاوس بن كيسان اليماني، وعطاء بن أبي رباح.
ولكي نعرف بالمدرسة المكية لابد لنا من دراسة خصائصها وسماتها في التفسير، ثم بيان دور تلاميذها وما قاموا به في التفسير مع ترجمة موجزة لكل واحد منهم، فنقول:
تتسم المدرسة المكية في التفسير بعده: سمات، أبرزها ما يأتي:
أ - الرواية:
قامت هذه المدرسة على الرواية عن ابن عَبَّاسٍ، فروى عنه سعيد بن جبير وسمع منه التفسير وأكثر من روايته عنه.
وروى مجاهد والفضل بن ميمون وعكرمة وطاوس وعطاء بن أبي رباح، وكانت رواية هَؤُلَاءِ الأعلام أكثرها عن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما ومن ثم تأثروا به وبمنهجه في التفسير.
ومما يدل على رواية هَؤُلَاءِ الأعلام عن ابن عَبَّاسٍ ما رواه الفضل بن ميمون أنه سمع مجاهدًا يقول: عرضت القرآن على ابن عَبَّاسٍ ثلاثين مرة.
وروي عنه -أيضًا- أنه قال: عرضت القرآن على ابن عَبَّاسٍ ثلاث عرضات، أقف عند كل آية، أسأله فيم نزلت، وكيف كانت؟
ولا تعارض بين هاتين الروايتين؛ لأن الإخبار بالقليل لا ينافي الإخبار بالكثير، فلعله
اور ان کے امتیازی اوصاف، نیز ان مفسرین کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے جو ان کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے منسوب ہیں۔
اول: مکی مدرسہ:
اس مدرسے کے بیج بونے والے اور اس کے اولین بانی صحابیِ جلیل عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں، جو ترجمان القرآن اور حبر الامۃ تھے۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کے لیے نشست قائم کی تاکہ انہیں قرآن کے مشکل مقامات کی تفسیر سمجھائیں اور ان کے لیے ان معانی کی وضاحت کریں جو ان پر مشتبہ ہو گئے تھے۔ ان کا یہ درس مکہ میں ہوتا تھا، اور ان کے گرد بہت سے ایسے شاگرد جمع ہو گئے جنہوں نے ان کی باتوں کو محفوظ کیا اور اپنے بعد آنے والوں تک پہنچایا۔ ان شاگردوں میں سعید بن جبیر، مجاہد، عکرمہ، طاؤس بن کیسان الیمانی، اور عطاء بن ابی رباح بہت مشہور ہوئے۔
اور مکی مدرسے کا تعارف کروانے کے لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم تفسیر میں اس کی خصوصیات اور امتیازی اوصاف کا مطالعہ کریں، پھر اس کے شاگردوں کے کردار اور تفسیر میں ان کی خدمات کو بیان کریں، ساتھ ہی ان میں سے ہر ایک کا مختصر تعارف بھی پیش کریں۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں:
مکی مدرسہ تفسیر میں کئی خصوصیات کا حامل ہے، جن میں سے نمایاں ترین درج ذیل ہیں:
الف - روایت:
یہ مدرسہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت پر قائم تھا، چنانچہ سعید بن جبیر نے ان سے روایت کی، ان سے تفسیر سنی اور ان سے کثرت کے ساتھ روایات بیان کیں۔
اور مجاہد، الفضل بن میمون، عکرمہ، طاؤس، اور عطاء بن ابی رباح نے بھی روایت کی، اور ان اکابرین کی زیادہ تر روایات ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی سے تھیں، اسی لیے وہ ان سے اور تفسیر میں ان کے منہج سے متاثر ہوئے۔
اور ان اکابرین کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے پر اس بات سے بھی دلیل ملتی ہے جسے فضل بن میمون نے روایت کیا کہ انہوں نے مجاہد کو کہتے ہوئے سنا: میں نے ابن عباس پر تیس مرتبہ قرآن پیش کیا (یعنی پڑھ کر سنایا)۔
اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے ابن عباس پر تین بار قرآن پیش کیا، میں ہر آیت پر رک جاتا اور ان سے پوچھتا کہ یہ کس بارے میں نازل ہوئی، اور کیسے ہوئی؟
اور ان دونوں روایتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے؛ کیونکہ کم تعداد کی خبر دینا زیادہ تعداد کی خبر دینے کے منافی نہیں ہے، تو شاید وہ