تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

البويهيون – مقدمة تأويلات أهل السنة

تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 1 · الصفحة 31

ص 31البويهيونالمتن العربي

فعمل معز الدولة على توطيد مركزه وتقوية نفوذه في بلاد العراق التي أذعنت لحكمه إذعانًا كاملاً، ولم يلبث أن استبد بالسلطان دون الخليفة وعمل على إضعاف الخلافة العباسية وفكر في القضاء عليها وإقامة خلافة شيعية على أنقاضها، " ولكنه عدل عن هذه السياسة لما قد يتعرض له سلطانه من خطر بسبب وجود خلافة علوية يطيعها الجند، ويعترف بها الديلم، ويكونون أداة في يد الخليفة يستغلها لمصلحته متى شاء ".

وبلغ من إهانة معز الدولة البويهي للخلافة العباسية وانتقاصه من قدر خلفائها أن قبض على الخليفة المستكفي وسمل عينيه وحبسه إلى أن مات، وأجلس المطيع (334 - 363 هـ) على كرسي الخلافة وحدد له راتبًا مائة دينار في اليوم، ثم قطع ذلك الراتب وحدد له إقطاعات يسيرة يعيش منها كما عين له كاتبًا يتصرف في شئونها.

ثورة البساسيري: ذروة الضعف العباسي، ودخول السلاجقة بغداد:

بلغ ضعف الخلافة العباسية غايته وعجزها منتهاه في عهد الخليفة القائم بأمر الله العباسي الذي تحقق من خيانة البساسيري ذي الميول الشيعية، وتأكد من مكاتبته الخلافة الفاطمية في مصر.

فطلب إلى الملك الرحيم البويهي إبعاده عن العراق، فسار البساسيري إلى الرحبة بلد نور الدولة لمصاهرة بينهما، وعندئذ أدرك القائم بأمر اللَّه أن نجم البويهيين قد أفل وأنهم أمسوا عاجزين عن حماية الخلافة العباسية ودرء خطر البساسيري عنها، وأنه لا مناص من الاستعانة بالسلاجقة الذين طوى ملكهم بلاد الفرس والجزيرة وأصبحوا قاب قوسين أو أدنى من بغداد.

وكان أن أرسل طغرلبك إلى الخليفة العباسي القائم رسولاً يبالغ في إظهار الطاعة والعبودية، فانتهز الخليفة ذلك وأمر بقطع الخطبة للملك الرحيم، والخطبة لطغرلبك بجوامع بغداد في رمضان سنة 447 هـ " ثم أرسل طغرلبك يستأذن الخليفة العباسي في دخول بغداد، فأذن له فوصل إلى النهروان، وخرج الوزير إلى لقائه في موكب عظيم من القضاة والنقباء والأشراف والشهود والخدم وأعيان الدولة، وصحبه أعيان الأمراء من عسكر الرحيم ".

ص 31البويهيوناردو ترجمہ

چنانچہ معز الدولہ نے سرزمینِ عراق میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے اور اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی بھرپور کوشش کی، جو اس کے اقتدار کے سامنے مکمل طور پر سرنگوں ہو چکی تھی۔ کچھ ہی عرصہ بعد وہ خلیفہ کو بے اختیار کر کے خود مطلق العنان حکمران بن بیٹھا اور اس نے خلافتِ عباسیہ کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کی، حتیٰ کہ اس کا خاتمہ کر کے اس کے ملبے پر ایک شیعی خلافت قائم کرنے کا منصوبہ بنایا، "لیکن بعد ازاں اس نے اس پالیسی سے رجوع کر لیا؛ کیونکہ اسے اندیشہ تھا کہ ایک علوی خلافت کے قیام سے خود اس کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، جس کی اطاعت فوج کرے گی اور دیلمی جسے دل سے تسلیم کریں گے، یوں وہ سب خلیفہ کے ہاتھ میں ایسا آلۂ کار بن جائیں گے جسے وہ جب چاہے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکے گا۔"

معز الدولہ بوہی کی جانب سے خلافتِ عباسیہ کی تحقیر اور خلفاء کی ناقدری و تذلیل اس انتہا کو پہنچ گئی کہ اس نے خلیفہ المستکفی کو گرفتار کر کے اس کی دونوں آنکھوں میں گرم سلائی پھروا دی (اندھا کر دیا) اور اسے مرتے دم تک قید میں رکھا۔ اس کے بعد اس نے المطيع (334 - 363ھ) کو مسندِ خلافت پر بٹھایا اور اس کے لیے روزانہ سو دینار وظیفہ مقرر کیا، پھر کچھ عرصے بعد وہ وظیفہ بھی بند کر دیا اور اس کی گزر اوقات کے لیے چند معمولی جاگیریں طے کر دیں، نیز اس پر اپنا ایک منشی مقرر کر دیا جو اس کے تمام مالی و انتظامی امور کی دیکھ بھال کرتا تھا۔

بساسیری کی بغاوت: عباسی ضعف کی انتہا اور سلجوقیوں کا بغداد میں داخلہ:

خلافتِ عباسیہ کی کمزوری اور بے بسی اپنے عروج کو عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ کے عہد میں پہنچی، جسے شیعی رجحان رکھنے والے بساسیری کی غداری کا مکمل علم ہو چکا تھا اور یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ گئی تھی کہ وہ مصر کی فاطمی خلافت کے ساتھ خفیہ خط و کتابت اور ساز باز میں مصروف ہے۔

چنانچہ بویہی حکمران 'الملک الرحیم' سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بساسیری کو عراق سے بے دخل کر دے؛ اس پر بساسیری 'الرحبہ' کی طرف چلا گیا جو نور الدولہ کا مقبوضہ علاقہ تھا، کیونکہ ان دونوں کے مابین باہمی سسرالی قرابت داری تھی۔ اس نازک موڑ پر عباسی خلیفہ القائم بامر اللہ نے یہ بھانپ لیا کہ آلِ بویہ کا اقبال اب زوال پذیر ہو چکا ہے اور وہ خلافتِ عباسیہ کے تحفظ اور اس سے بساسیری کے فتنے و خطرے کا سدِ باب کرنے سے قطعی عاجز و درماندہ ہو چکے ہیں، اور اب سلجوقیوں سے مدد طلب کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا جن کی سلطنت و فتوحات نے بلادِ فارس اور خطۂ جزیرہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور وہ بغداد کے بالکل دہانے پر آن پہنچے تھے۔

اسی اثنا میں صورتِ حال یہ بنی کہ سلجوقی سلطان طغرل بیگ نے عباسی خلیفہ القائم کی بارگاہ میں اپنا ایک سفیر بھیجا جس نے انتہا درجے کی اطاعت شعاری، وفاداری اور فرمانبرداری کا اظہار کیا۔ خلیفہ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور رمضان المبارک 447ھ میں بغداد کی جامع مساجد میں 'الملک الرحیم' کے نام کا خطبہ موقوف کر کے طغرل بیگ کے نام کا خطبہ جاری کرنے کا شاہی فرمان صادر کر دیا۔ پھر طغرل بیگ نے بغداد میں داخلے کے لیے عباسی خلیفہ سے باقاعدہ اجازت طلب کی، جب خلیفہ نے اسے اجازت مرحمت فرما دی تو وہ نہروان پہنچ گیا؛ چنانچہ وزیرِ سلطنت ایک عظیم الشان اور پُروقار جلوس کے ہمراہ اس کے استقبال کے لیے برآمد ہوا جس میں قضاۃ، نقباء، اشراف، معتمدین، خدام اور ارکانِ دولت شامل تھے، اور ان کے ساتھ الملک الرحیم کی فوج کے سرکردہ امراء بھی شریک تھے۔