العلوم المدونة في القرنين الثالث والرابع الهجريين – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
الفصل السادس
الحياة الفكرية والعلمية في عصر الماتريدي
كان الإسلام محور الحركة العلمية وأساسها الأول حتى أواخر العصر الأموي، فالعلوم التي يتدارسها المسلمون ويعنون بتدوينها وجمع مسائلها علوم دينية مادتها مستمدة من القرآن الكريم والسنة النبوية الشريفة، وغايتها خدمة الإسلام ودعم أصوله وأركانه.
فمبنى الفقه على الكتاب والسنة الصحيحة، ومدار الحديث على أقوال النبي صلى الله عليه وسلم وأفعاله المأثورة عنه، وأساس التاريخ سيرة النبي وغزواته.
أما العلوم الدنيوية: كالطب والكيمياء فحظ المسلمين من الاشتغال بها قليل، واهتمامهم بها ضعيف، وأكثر من برعوا فيها واهتموا بها من غير المسلمين.
أما الدولة العباسية فمعلوم لكل أحد أن الحركة العلمية نشطت في عصرها نشاطًا كبيرًا، وتنازعت العلوم الدِّينية والعلوم العقلية اهتمام المسلمين وعنايتهم، فكثر التدوين والتصنيف ورتبت مسائل العلوم، وميِّز كل علم عن غيره واستقل بموضوعه ومنهجه، واستحدثت علوم جديدة كعلم التفسير والحديث وأصول الفقه، وعني المسلمون بترجمة العلوم العقلية كالفلسفة والمنطق والرياضيات والطبيعة والكيمياء عن اليونان والهند.
فلا غرو أن أثرى هذا النشاط الحركة العلمية في عصر الدولة العباسية -عصر الماتريدي- ثراء عظيمًا، حتى عد هذا العصر بحق العصر الذهبي للحضارة الإسلامية القائمة على العلم الدِّيني والدنيوي على سواء.
ويمكننا أن نتلمَّس ملامح الحركة العلمية ونقف على آثارها ونتائجها ببيان أهم العلوم التي دونت في القرنين الثالث والرابع الهجريين.
العلوم المدونة في القرنين الثالث والرابع الهجريين
وعُني المسلمون منذ مطلع القرن الثالث الهجري بتدوين العلوم وجمع مسائلها وترتيب أبوابها، واتسعت دائرة اهتمامهم العلمي لتشمل إلى جانب العلوم الدِّينية العلوم العقلية، وفيما يلي نعرض بإيجاز لأبرز هذه العلوم:
1 - علم القراءات:
القراءات: جمع قراءة، وهي في اللغة: مصدر سماعي لقرأ، وفي الاصطلاح: مذهب
چھٹی فصل
امام ماتریدی کے دور کی فکری اور علمی زندگی
اموی دور کے اواخر تک اسلامی تعلیمات ہی علمی تحریک کا بنیادی محور اور اصل اساس تھیں؛ چنانچہ جن علوم کا مسلمان باہم درس و تدریس کرتے اور جن کی تدوین اور مسائل کو یکجا کرنے کا اہتمام کرتے تھے، وہ خالصتاً دینی علوم تھے جن کا بنیادی مواد قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ شریفہ سے ماخوذ تھا، اور جن کا مقصدِ اولین اسلام کی خدمت اور اس کے اصول و ارکان کو تقویت پہنچانا تھا۔
چنانچہ علمِ فقہ کی بنیاد کتاب اللہ اور سنتِ صحیحہ پر تھی، علمِ حدیث کا دار و مدار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور آپ سے منقول مرویات و افعال پر تھا، اور علمِ تاریخ کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور آپ کے غزوات تھے۔
رہے دنیاوی علوم: جیسے طب اور کیمیا، تو ان میں مشغول ہونے میں مسلمانوں کا حصہ بہت کم اور ان کی طرف ان کی توجہ برائے نام تھی، اور ان علوم میں مہارت و کمال حاصل کرنے اور ان سے شغف رکھنے والے زیادہ تر غیر مسلم حضرات ہی تھے۔
جہاں تک خلافتِ عباسیہ کے عہد کا تعلق ہے تو یہ بات ہر ایک کے علم میں ہے کہ اس دور میں علمی تحریک کو زبردست فروغ حاصل ہوا اور اس میں غیر معمولی تیزی آئی، نیز دینی علوم اور عقلی علوم دونوں نے مسلمانوں کی توجہ اور التفات کو اپنی جانب کھینچ لیا؛ چنانچہ کثرت کے ساتھ تدوین و تصنیف کا سلسلہ شروع ہوا، علوم کے مسائل کو منظم انداز میں مرتب کیا گیا، ہر علم کو دوسرے سے الگ اور ممتاز کر کے اس کے موضوع اور منہج کو مستقل حیثیت دی گئی، نیز نئے علوم وجود میں آئے جیسے علمِ تفسیر، علمِ حدیث، اور اصولِ فقہ؛ اور مسلمانوں نے یونان و ہند سے فلسفہ، منطق، ریاضیات، طبیعیات اور کیمیا جیسے عقلی علوم کے تراجم کی طرف خاص توجہ مبذول کی۔
پس اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں کہ اس ہمہ جہت سرگرمی نے عباسی دور—جو کہ امام ماتریدی کا دور ہے—کی علمی تحریک کو انتہائی درجہ ثروت مند اور مالامال کر دیا، یہاں تک کہ یہ دور بجا طور پر اسلامی تہذیب کا سنہرا دور شمار ہوا جو کہ دینی اور دنیاوی دونوں علوم پر یکساں طور پر استوار تھی۔
اور ہم تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں مدوّن ہونے والے اہم ترین علوم کا جائزہ لے کر اس دور کی علمی تحریک کے خدوخال کو سمجھ سکتے ہیں اور اس کے اثرات و نتائج سے آگاہی حاصل کر سکتے ہیں۔
تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں مدوّن ہونے والے علوم
مسلمانوں نے تیسری صدی ہجری کے اوائل ہی سے علوم کی باقاعدہ تدوین، ان کے مسائل کو جمع کرنے اور ان کے ابواب کی ترتیب دینے کا خاص اہتمام کیا، اور ان کی علمی دلچسپی کا دائرہ اتنا وسیع ہوا کہ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عقلی علوم پر بھی محیط ہو گیا؛ ذیل میں ہم ان نمایاں علوم کا اختصار کے ساتھ جائزہ پیش کرتے ہیں:
1 - علمِ قراءات:
قراءات: یہ لفظِ ”قراءۃ“ کی جمع ہے، اور لغت کے اعتبار سے یہ قَرَأَ کا مصدرِ سماعی ہے، اور اصطلاح میں: ایسا طریقہ اور مسلک ہے جس کی طرف