السياق التاريخي لنشأة الفرق الإسلامية – مقدمة تأويلات أهل السنة
تاویلات اہل السنہ کا مقدمہ، اردو ترجمہ کے ساتھ
أن قالت الأنصار: منا أمير ومنكم أمير، وبعد أن جرد الحباب بن المنذر سيفه وقال: أنا جذيلها المحكك وعذيقها المرجب، من يبارزني؟ وبعد أن قام قيس بن سعد بنصرة أبيه سعد بن عبادة حتى قال عمر بن الخطاب في شأنه ما قال. ثم بايعوا أبا بكر رضوان الله عليه، واجتمعوا على إمامته، واتفقوا على خلافته، وانقادوا لطاعته ".
وثمة نظرية ثالثة ذهب بعض الباحثين إلى أن لها وجودًا ظاهرًا آنذاك، وهي أن تكون الخلافة في بيت النبي، وأولى الناس من قرابة النبي وأمسهم رحمًا به هو علي بن أبي طالب - كرم اللَّه وجهه - فقُدْمَتُه في الإسلام وسابقته في الذود عنه معروفة ذائعة، ومكانه من النبي مكانه، فهو ابن عمه وزوج ابنته فاطمة، ووالد سبطيه الحسن والحسين، وجهاده وفضله وعلمه لا ينكر.
على هذا النحو رأى القائلون بهذه النظرية أن بيت بني هاشم أحق بالخلافة من سواه، وروي في ذلك أن عليًّا سأل عما حدث في سقيفة بني ساعدة فقال: ماذا قالت قريش؟ قالوا: احتجت بأنها شجرة الرسول صلى الله عليه وسلم فقال علي: " احتجوا بالشجرة وأضاعوا الثمرة ".
يريد أن المهاجرين احتجوا بأنهم من شجرة النبي فأولى بالاحتجاج من يجمعهم والنبي أنهم من ثمرة قريش وهم قرابته.
ومهما يكن من أمر فقد آل أمر الخلافة إلى أبي بكر الصديق رضي الله عنه وكانت بيعته بيعة حرة؛ إذ توفي رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم دون أن يحدد من يخلفه في هذا الأمر، وخلا الكتاب من النص عليه أو تعيينه، " صحيح أنه قد ورد أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أبا بكر بأن يؤم المسلمين في الصلاة أثناء مرضه الذي مات فيه، وفهم البعض أن الصحابة قد اختاروه لهذا وقالوا: قد اختاره الرسول لأمر ديننا، فأولى أن نختاره لأمر دنيانا، ولكن هذا لا يعد عهدًا، وإن كان في جملته يشير إلى فضل أبي بكر ومقامه بين الصحابة؛ إذ لو كان عهدًا لاستشهد به في السقيفة وحسم النزاع ".
ثم عهد أبو بكر -لما أحس بدنو أجله وخاف على المسلمين شر الفتنة وعاقبة الخلاف
انصار نے یہ کہا تھا کہ: "منا أمير ومنكم أمير" (ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک امیر تم میں سے)، اور اس کے بعد کہ حباب بن منذر نے اپنی تلوار سونت لی تھی اور کہا تھا کہ: "أنا جذيلها المحكك وعذيقها المرجب، من يبارزني؟" (میں وہ لکڑی کا ستون ہوں جس سے خارشت زدہ اونٹ کھجلا کر شفا پاتے ہیں اور وہ پھل دار کھجور کا تنا ہوں جسے سہارا دیا گیا ہو، کون ہے جو مجھ سے مقابلہ کرے؟)، اور اس کے بعد کہ قیس بن سعد اپنے والد سعد بن عبادہ کی نصرت و حمایت میں کھڑے ہوئے حتیٰ کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں وہ کہا جو کہا۔ پھر ان سب نے حضرت ابوبکر رضوان اللہ علیہ کی بیعت کر لی، ان کی امامت پر متفق ہو گئے، ان کی خلافت پر مجتمع ہو گئے، اور ان کی اطاعت گزاری کا قلادہ اپنی گردنوں میں ڈال لیا۔
اور ایک تیسرا نظریہ بھی ہے جس کے بارے میں بعض محققین کی رائے ہے کہ اس دور میں اس کا بھی ایک نمایاں وجود تھا، اور وہ یہ کہ خلافت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ بیت میں ہونی چاہیے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت داروں اور رشتہ داری کے اعتبار سے آپ کے سب سے زیادہ قریب ترین شخص حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ ہیں؛ چنانچہ اسلام میں ان کی اولیت اور دین کے دفاع میں ان کی پیش قدمی معروف و مشہور ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان کا جو مقام و مرتبہ ہے وہ محتاجِ بیان نہیں، وہ آپ کے چچا زاد بھائی، آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ کے شوہر، اور آپ کے دونوں نواسوں حضرت حسن اور حضرت حسین کے والد ہیں، نیز ان کے جہاد، فضیلت اور علمی مقام کا انکار ممکن نہیں۔
اسی نہج پر اس نظریے کے قائلین کی رائے تھی کہ بنو ہاشم کا گھرانہ دوسروں کی بہ نسبت خلافت کا زیادہ حق دار ہے، اور اس ضمن میں مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ سقیفہ بنو ساعدہ میں کیا ماجرا پیش آیا تھا؟ اور پوچھا: قریش نے کیا موقف اختیار کیا؟ لوگوں نے عرض کیا کہ انہوں نے یہ دلیل دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شجرہ (قبیلہ) ہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "احتجوا بالشجرة وأضاعوا الثمرة" (انہوں نے درخت سے تو دلیل پکڑ لی مگر اس کے اصل پھل کو ضائع کر دیا)۔
ان کی مراد یہ تھی کہ جب مہاجرین نے یہ دلیل قائم کی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرے سے تعلق رکھتے ہیں، تو اس استدلال کا سب سے زیادہ مستحق وہ شخص ہے جس کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان یہ قدر مشترک ہو کہ وہ قریش کا حقیقی ثمرہ ہیں اور آپ کے قریبی رشتہ دار ہیں۔
بہرحال معاملہ جو بھی رہا ہو، امرِ خلافت بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جانب منتقل ہوا اور ان کی بیعت ایک آزادانہ بیعت تھی؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال اس حال میں ہوا کہ آپ نے اس امر میں اپنے بعد کسی جانشین کو متعین نہیں فرمایا تھا، اور قرآن مجید بھی اس پر کسی صریح نص یا تعین سے خالی ہے۔ البتہ ”یہ بات درست ہے کہ روایات میں آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرضِ وفات کے دوران حضرت ابوبکر کو نماز میں مسلمانوں کی امامت کروانے کا حکم فرمایا تھا، اور بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ صحابہ کرام نے اسی بنا پر ان کا انتخاب کیا اور کہا کہ: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے دینی معاملے کے لیے انہیں پسند فرمایا ہے، تو ہمارے لیے زیادہ لائق یہی ہے کہ ہم اپنے دنیاوی معاملے (خلافت) کے لیے بھی انہی کو منتخب کریں؛ لیکن اسے باقاعدہ ولی عہدی یا نص قرار نہیں دیا جا سکتا، اگرچہ مجموعی اعتبار سے یہ بات حضرت ابوبکر کی فضیلت اور صحابہ کے درمیان ان کے بلند مقام کی طرف اشارہ ضرور کرتی ہے؛ کیونکہ اگر یہ باضابطہ عہد ہوتا تو سقیفہ کے موقع پر اس سے بطور دلیل استشہاد کیا جاتا اور نزاع اسی وقت حل ہو جاتا“۔
پھر جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی اجل کے قریب آنے کا احساس فرمایا اور مسلمانوں کے حق میں فتنے کے شر اور باہمی اختلاف کے برے انجام کا اندیشہ محسوس کیا تو انہوں نے وصیت فرمائی