تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة آل عمران، الآية 28

سورہ آلِ عمران، آیت 28 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 2 · الصفحة 350

ص 350سورة آل عمرانالمتن العربي

وقوله: (وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ).

قيل: (بِغَيْرِ حِسَابٍ): يعرف الخلق عدده ومقداره.

وقيل: بغير تبعة ولا طلبة؛ أي: لا يحاسبهم فيما أعطاهم من بعد ما أعطاهم.

ويحتمل: (بِغَيْرِ حِسَابٍ)، أي: لا يعطيهم بحساب أعمالهم، ولكن بتفضل، خلافًا للمعتزلة.

ويحتمل: (بِغَيْرِ حِسَابٍ): في الآخرة.

وعن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه: " بغير هنداز - فارسية معربة ".

وعن مقاتل: " لا يقدر ذلك غيره؛ يقول: ليس فوقي ملك يحاسبني، أنا الملك أُعطي من شئت بغير حساب، لا أخاف من أحد يحاسبني ". واللَّه أعلم.

* * *

قوله تعالى: (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ ‌‌(28) قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (29)

وقوله: (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ) يحتمل وجهين:

يحتمل: (لَا يَتَخِذِ)، أي: لا يكونون أولياء لهم، وإن اتخذوا أولياء؛ بل هم لهم أعداء؛ كقوله: (لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ. . .)، إلى آخر الآية.

ويحتمل: على النهي، أي: لا تتخذوا أولياء؛ كقوله: (لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ)

ص 350سورة آل عمراناردو ترجمہ

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (اور تو جسے چاہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے)۔

کہا گیا ہے کہ بِغَيْرِ حِسَابٍ (بے حساب) کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق اس کی گنتی اور مقدار کو نہیں جانتی۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کا مطلب ہے: بغیر کسی بازپرس اور مطالبے کے؛ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں جو کچھ عطا فرماتا ہے، اس کے بعد اس پر ان سے حساب نہیں لیتا۔

اور یہ احتمال بھی ہے کہ بِغَيْرِ حِسَابٍ کا مطلب یہ ہو کہ وہ انہیں ان کے اعمال کے حساب سے نہیں دیتا، بلکہ اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے، (یہ نظریہ) معتزلہ کے موقف کے برعکس ہے۔

اور یہ احتمال بھی ہے کہ بِغَيْرِ حِسَابٍ سے مراد آخرت میں (رزق کا ملنا) ہو۔

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "بغیر ہنداز (یعنی بغیر اندازے کے) - یہ فارسی کا لفظ ہے جسے عربی میں ڈھال لیا گیا ہے"۔

اور مقاتل سے مروی ہے: "اس کا اندازہ اس کے سوا کوئی نہیں کر سکتا؛ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اوپر کوئی بادشاہ نہیں جو میرا حساب لے، میں ہی بادشاہ ہوں، جسے چاہتا ہوں بے حساب دیتا ہوں، اور میں کسی ایسے شخص سے نہیں ڈرتا جو میرا حساب لے"۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ ۝٢٨ قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝٢٩

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ (مومنوں کو چاہیے کہ وہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں) کے دو احتمالات ہیں:

ایک احتمال یہ ہے کہ لَا يَتَخِذِ (خبر کے معنی میں ہو)، یعنی: وہ (مومن) ان (کافروں) کے دوست نہیں ہو سکتے، اگرچہ وہ انہیں دوست بنا لیں؛ بلکہ وہ تو ان کے دشمن ہیں؛ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ... (تم ایسی قوم نہ پاؤ گے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو...)، آیت کے آخر تک۔

اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ نہی (ممانعت) کے معنی میں ہو، یعنی: تم (کافروں کو) دوست نہ بناؤ؛ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے: لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ