تفسير سورة آل عمران، الآيات 109–110
سورہ آلِ عمران، آیات 109–110 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
قوله تعالى: (بِالْحَقِّ): ببيان الحق.
ويحتمل: (بِالْحَقِّ): بالدِّين، والدِّين هو الحق، ويحتمل: أن الآيات هي الحق.
قال الشيخ رحمه الله: أي: بالأمر بالدعاء إلى الحق.
ويحتمل: الحق الذي لله على عباده، ولبعضهم على بعض.
وقوله: (وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ): والظلم: هو وضع الشيء في غير موضعه، فإذا كان ما في السماوات وما في الأرض كله له، ومن وصف في الخلق بالظلم إنما وصف؛ لأنه يضع حق بعض في بعض، ويمنع حق بعض؛ فيجعل لغير المحق، فاللَّه يتعالى عن ذلك.
وقوله: (وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ)
أي: لا يريد أن يظلمهم، وإن شئت قلت: قلت الإرادة صفة لكل فاعل في الحقيقة؛ فكأنه قال: لا يظلمهم، وكيف يظلم؟! وإنَّمَا يظلم بنفع تسرّه إليه النفس، أو ضرر يدفع به، فالغني بذاته متعال عن ذلك.
وقوله: (وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ (109)
أي: إليه يرجع أمر كل أحد، فلا يحتمل الظلم أوجود الظلم منه.
* * *
قوله تعالى: (كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ (110) لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ (111) ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (112)
وعن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه في قوله: (كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) وقال: " خير الناس أنفعهم للناس و (تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ): أي: تأمرونهم، أن يشهدوا أن لا إله إلا اللَّه، والإقرار بما أنزل اللَّه، وتقاتلون عليه، ولَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ هو أعظم المعروف،
اللہ تعالیٰ کا ارشاد بِالْحَقِّ: یعنی حق کو بیان کرنے کے ذریعے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ بِالْحَقِّ سے مراد: دین ہو، اور دین ہی حق ہے، اور یہ بھی احتمال ہے کہ آیات ہی حق ہوں۔
شیخ (امام ماتریدی) رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی حق کی طرف دعوت دینے کا حکم دینے کے ذریعے۔
اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ حق ہو جو اللہ کا اس کے بندوں پر ہے، اور جو بندوں میں سے بعض کا بعض دوسرے پر ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ: اور ظلم یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے مقام کے علاوہ کہیں اور رکھا جائے۔ پس جب آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی کا ہے، اور مخلوق میں سے جس کسی کو ظلم سے متصف کیا جاتا ہے تو وہ اسی وجہ سے کیا جاتا ہے کہ وہ بعض کا حق بعض دوسرے میں رکھ دیتا ہے، یا بعض کا حق روک لیتا ہے؛ تو اسے غیر مستحق کے لیے بنا دیتا ہے، پس اللہ تعالیٰ اس (ظلم) سے بہت بلند و بالا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعَالَمِينَ
یعنی: وہ ان پر ظلم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، اور اگر آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں: ارادہ حقیقت میں ہر فاعل کی صفت ہے؛ تو گویا اس نے فرمایا: وہ ان پر ظلم نہیں کرتا، اور وہ ظلم کیسے کرے گا؟! جبکہ ظلم تو صرف اس نفع کے لیے کیا جاتا ہے جسے نفس اپنے لیے پسند کرتا ہے، یا اس نقصان کے لیے جسے وہ دور کرنا چاہتا ہے، پس جو اپنی ذات میں غنی (بے نیاز) ہو وہ اس سے بہت بلند و بالا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
یعنی: اسی کی طرف ہر ایک کا معاملہ لوٹ کر جائے گا، پس ظلم کا احتمال ہی نہیں کہ اس کی طرف سے ظلم کا وجود ہو۔
* * *
اللہ تعالیٰ کا ارشاد كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ١١٠ لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلَّا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ ١١١ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ ١١٢
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے بارے میں فرمایا: "بہترین لوگ وہ ہیں جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہوں" اور تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ: یعنی: تم انہیں حکم دیتے ہو کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور اس چیز کا اقرار کریں جو اللہ نے نازل کی ہے، اور تم اس پر قتال کرتے ہو، اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ سب سے بڑا معروف ہے،