تفسير سورة النساء، الآية 120
سورہ نساء، آیت 120 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
وروي عن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه أنه قال -أيضًا-: دين اللَّه.
وقيل: هو ما جاء من النهي عن الواشرة، والنامصة، والمتفلجة، والواصلة، والواشمة.
ولا يحتمل أن يكون خطر بباله يومئذ أنه أراد بتغيير خلق اللَّه ما قالوا من الإخصاء، أو المثلة، والواشرة، والنامصة؛ لأنه إنما قال ذلك يوم طلب من ربه النظِرة إلى يوم البعث، ولا يحتمل أن يكون له علم ألا يحل هذا أو النهي عن مثله؛ إذ قد يجوز أن ترد الشريعة في مثله؛ لذلك بعد هذا، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ).
أي: يطيعه ويجيبه إلى ما دعاه، ويعبده دون اللَّه.
(فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينً).
في الدنيا والآخرة: أما في الدنيا فذهاب المنافع عنهم التي جعلوها للأصنام والأوثان، وفي الآخرة العقوبة.
وقوله عز وجل: (يَعِدُهُمْ … (120)
إما فقرًا وإما سعة
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: (اس سے مراد) اللہ کا دین ہے۔
اور ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ: اس سے مراد وہ امور ہیں جن کی ممانعت وارد ہوئی ہے، جیسے دانت رگڑ کر باریک کرنے والی (واشرہ)، چہرے کے بال اکھاڑنے والی (نامصہ)، دانتوں کے بیچ کشادگی بنانے والی (متفلجہ)، بالوں میں جوڑ لگانے والی (واصلہ)، اور گودنا گودنے والی (واشمہ)۔
اور اس بات کا کوئی احتمال نہیں کہ اس دن (ابلیس کے) وہم و گمان میں بھی یہ بات آئی ہو کہ اللہ کی تخلیق کو بدلنے سے اس کی مراد وہ چیزیں ہیں جو ان حضرات نے بیان کی ہیں، یعنی خصی کرنا، مثلہ کرنا (ناک، کان وغیرہ کاٹنا)، دانت باریک کرنا، اور چہرے کے بال اکھاڑنا؛ کیونکہ اس نے یہ بات اُس دن کہی تھی جب اس نے اپنے رب سے روزِ قیامت تک مہلت طلب کی تھی، اور یہ ممکن نہیں کہ اسے پہلے سے اس بات کا علم ہو کہ یہ امور حلال نہیں ہیں یا ان جیسی چیزوں کی ممانعت وارد ہوگی؛ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس قسم کے احکام بعد میں شریعت کا حصہ بنے ہوں؛ واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان: (وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ)۔
یعنی: جو اس کی اطاعت کرے، جس بات کی طرف وہ بلائے اسے قبول کرے، اور اللہ کو چھوڑ کر اس کی بندگی کرے۔
(فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا)۔
دنیا اور آخرت میں: دنیا میں تو ان فوائد و منافع کا ان کے ہاتھ سے جاتا رہنا جنہیں انہوں نے بتوں اور تھانوں کے لیے مخصوص کر دیا تھا، اور آخرت میں عذاب و سزا ہے۔
اور اللہ عزوجل کا فرمان: (يَعِدُهُمْ … ١٢٠
خواہ فقر و تنگ دستی کا ہو یا فراخی و کشادگی کا