تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة النساء، الآية 161

سورہ نساء، آیت 161 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 3 · الصفحة 414

ص 414سورة النساءالمتن العربي

ثم المنع لهم يكون من وجهين:

أحدهما: منع من جهة منع الإنزال؛ لقلة الأمطار والقحط؛ كسني يوسف عليه السلام وسني مكة، على ما كان لهم من القحط.

والثاني: منع من جهة الخلق: ألا يعطوا شيئًا، لا بيعًا ولا شراء ولا معروفًا.

ولكن في آية أخرى بيان أن قوله: (حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ) - أنه على التحريم، ليس على المنع، وهو قوله: (وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ): أخبر عز وجل أن ذلك جزاء بغيهم؛ فدل ما ذكرنا في الآية أن ذلك على حقيقة التحريم؛ لما يحتمل أن يكونوا لا يستحلون ما ذكر في الآية، ولكن كانوا يتناولون الربا على غير الاستحلال؛ فحرم ذلك عليهم.

وفي قوله - تعالى -: (حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ) دلالة لأصحابنا رحمهم الله في قولهم: إن من قد أَقَرَّ، فقال: هذا الشيء لفلان اشتريته منه - أنه له، ولا يؤخذ منه؛ وإلا في ظاهر قوله: هذا الشيء لفلان اشتريته منه - أنه إذا اشتراه منه لا يكون لفلان؛ فيكون ذلك منه إقرارًا له، لكنه على الإضمار؛ كأنه قال: هذا الشيء كان لفلان اشتريته منه.

وكذلك قوله: (حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ) أي: كانت أحلت لهم، وكذلك في حرف ابن مسعود رضي الله عنه وحرف ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما: " حرمنا عليهم طيبات كانت أحلت لهم ".

وقوله عز وجل: (وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا)

أي: بصدهم الناس عن سبيل اللَّه كثيرًا، يحتمل هذا وجهين:

يحتمل: أنهم صدوا من يستجهلون ويستسفهون عن سبيل اللَّه: كانوا يدلون على الباطل وعلى غير سبيل اللَّه، فذلك الصد محتمل.

ويحتمل: أنهم كانوا يصدون عن سبيل اللَّه بالقتال والحرب.

وقوله: (وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ … ‌‌(161)

ص 414سورة النساءاردو ترجمہ

پھر ان کے حق میں یہ روک دو طرح سے ہو سکتی ہے:

پہلی صورت: (بارش وغیرہ) نازل کرنے کی بندش کی جانب سے روک، یعنی بارشوں کی کمی اور قحط سالی کے ذریعے؛ جیسا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے (قحط کے) سال اور اہل مکہ کے قحط کے سال تھے، جس طرح ان پر قحط کا عذاب آیا تھا۔

اور دوسری صورت: مخلوق کی جانب سے روک ہے، یعنی یہ کہ انہیں کوئی چیز نہ دی جائے، نہ بیع و شراء کے ذریعے اور نہ ہی احسان و بھلائی کے طور پر۔

لیکن دوسری آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ شرعی تحریم پر محمول ہے، نہ کہ (تکوینی) روک پر؛ اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ (اور یہودیوں پر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا تھا اور گائے اور بکری کی چربیاں بھی ہم نے ان پر حرام کر دی تھیں سوائے اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں سے لگی ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہو، یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا دی تھی)، پس اللہ عزوجل نے خبر دی کہ یہ ان کی سرکشی کا بدلہ تھا؛ چنانچہ آیت میں ہمارے ذکر کردہ اس بیان نے دلالت کی کہ یہ حکم حقیقتِ تحریم پر مبنی ہے؛ کیونکہ اس بات کا احتمال ہے کہ وہ آیت میں مذکورہ چیزوں کو حلال نہ سمجھتے رہے ہوں، لیکن وہ سود کو حلال جانے بغیر ہی کھاتے تھے؛ پس وہ چیزیں ان پر حرام کر دی گئیں۔

اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد: حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ میں ہمارے اصحاب (فقہائے احناف) رحمہم اللہ کے اس موقف کے لیے دلیل ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ: جس شخص نے اقرار کرتے ہوئے یوں کہا: ”یہ چیز فلاں کی ہے، میں نے اس سے خریدی ہے“ تو وہ چیز اسی (مقر) کی ملکیت رہے گی اور اس سے نہیں چھینی جائے گی؛ ورنہ اس کے کلام کے ظاہری مفہوم ”یہ چیز فلاں کی ہے، میں نے اس سے خریدی ہے“ کا تقاضا تو یہ بنتا تھا کہ جب اس نے اس سے خرید لی تو اب وہ فلاں کی نہیں رہے گی؛ لہٰذا یہ اس کی طرف سے فلاں کے حق میں (نئے سرے سے) اقرار بن جاتا، لیکن یہ کلام اِضمار (حذف و تقدیر) پر محمول ہے، گویا اس نے یوں کہا: ”یہ چیز فلاں کی تھی (پھر) میں نے اس سے خریدی ہے“۔

اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد: حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ ہے، یعنی وہ پاکیزہ چیزیں جو (ماضی میں) ان کے لیے حلال کی گئی تھیں؛ اور اسی طرح حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قراءت میں بھی ہے: حرمنا عليهم طيبات كانت أحلت لهم (ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں حرام کر دیں جو ان کے لیے حلال کی گئی تھیں)۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا (اور ان کے اللہ کی راہ سے بہت زیادہ روکنے کے سبب)۔

یعنی ان کے لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہت زیادہ روکنے کے سبب؛ اس کے دو احتمالات ہیں:

ایک احتمال یہ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا جنہیں وہ نادان اور بے وقوف سمجھتے تھے، یعنی وہ لوگوں کو باطل اور غیرِ سبیل اللہ کی طرف لگاتے تھے، پس روکنے کا یہ مفہوم محتمل ہے۔

اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ قتال اور جنگ کے ذریعے اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ (اور ان کے سود لینے کے سبب درآنحالیکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا)