تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تتمة تفسير سورة المائدة، الآية 3

سورہ مائدہ، آیت 3 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 3 · الصفحة 448

ص 448سورة المائدةالمتن العربي

قال قتادة: كان أهل الجاهلية يخنقون الشاة؛ حتى إذا ماتت أكلوها.

والكافر - في الحقيقة - يهل لغير اللَّه؛ لأنه لا يعرف اللَّه حقيقة، لكنه أجيز ذبائح الكتابي؛ لأنه يسمي عليها اسم اللَّه تعالى.

(وَالْمَوْقُوذَةُ): كانوا يضربون بالعصي حتى إذا ماتت أكلوها.

(وَالْمُتَرَدِّيَةُ): كانت تردى في بئر أو من جبل؛ فتموت.

(وَالنَّطِيحَةُ): كان الكبشان يتناطحان؛ فيموت أحدهما، فيأكلونه.

(وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ): كان أهل الجاهلية إذا قتل السبع شيئًا من هذا وأكل منه، أكلوا ما بقي؛ فقال اللَّه - تعالى -: (إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ).

ثم روي عن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه قال: (وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ) فما أَدْرَكْتَ من هذا كُلِّه يتحرك له الذنَبُ، أو يَطْرف له العينُ - فاذبحْ، واذكر اسم اللَّه عليه؛ فهو حلال.

ص 448سورة المائدةاردو ترجمہ

حضرت قتادہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اہلِ جاہلیت بکری کا گلا گھونٹ دیتے تھے، حتیٰ کہ جب وہ مر جاتی تو اسے کھا لیتے۔

اور کافر درحقیقت غیر اللہ ہی کے نام کی پکار لگاتا ہے (اور اسی کے نام پر ذبح کرتا ہے)؛ کیونکہ وہ حقیقی معنوں میں اللہ کی معرفت نہیں رکھتا، لیکن اہلِ کتاب کا ذبیحہ اس لیے جائز قرار دیا گیا کہ وہ اس پر اللہ تعالیٰ کا نام لیتا ہے۔

اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالْمَوْقُوذَةُ﴾ (اور چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور): وہ جانور کو لاٹھیوں سے پیٹتے تھے، یہاں تک کہ جب وہ مر جاتا تو اسے کھا لیتے۔

اور ارشاد ہے: ﴿وَالْمُتَرَدِّيَةُ﴾ (اور بلندی سے گر کر مرا ہوا جانور): جانور کنویں میں گر جاتا یا پہاڑ سے نیچے گر پڑتا اور مر جاتا (تو وہ اسے کھا لیتے)۔

اور ارشاد ہے: ﴿وَالنَّطِيحَةُ﴾ (اور سینگ لگنے سے مرا ہوا جانور): دو مینڈھے باہم سینگ لڑاتے تھے، پھر ان میں سے ایک مر جاتا تو وہ اسے کھا لیتے۔

اور ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ (اور جسے درندہ کھا گیا ہو سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو): اہلِ جاہلیت کا طریقہ تھا کہ جب درندہ ان جانوروں میں سے کسی کو ہلاک کر دیتا اور اس میں سے کچھ حصہ کھا لیتا، تو وہ اس کا بچا ہوا کھا لیتے تھے؛ اس پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ﴾ (سوائے اس کے جسے تم [مرنے سے قبل] شرعی طریقے سے ذبح کر لو)۔

پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: ﴿وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ﴾ (گلا گھونٹا ہوا اور چوٹ کھا کر مرا ہوا جانور)، پس ان تمام صورتوں میں سے جس جانور کو بھی تم اس حالت میں پا لو کہ اس کی دُم حرکت کر رہی ہو یا اس کی آنکھ جھپک رہی ہو، تو اسے ذبح کر لو اور اس پر اللہ کا نام ذکر کرو؛ پس وہ حلال ہے۔