تتمة تفسير سورة المائدة، الآية 6
سورہ مائدہ، آیت 6 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ
كان إذا أراق ماء نكلمه فلا يكلمنا، ونسلم عليه فلا يرد علينا حتى يأتي أهله فيتوضأ وضوءه للصلاة؛ فقلنا له في ذلك؛ حتى نزلت آية الرخصة في قوله تعالى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ)؛ فهذا يدل أن معنى الآية على الإضمار: إذا قمتم إلى الصلاة وأنتم محدثون، فاغسلوا وجوهكم وأيديكم.
وروي في تأويل الآية: إذا قمتم من المضجع إلى الصلاة، فاغسلوا وجوهكم. وقد رويت الأخبار عن رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم وعن الصحابة بإيجاب الوضوء من النوم؛ فكان ذلك شاهدا لهذا التأويل: روي عن ابن عَبَّاسٍ عن رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم أنه كان ينام، ثم يصلي الصبح ولا يتوضأ؛ فسُئل عن ذلك؟ فقال: " إِني لَستُ كَأَحَدٍ مِنْكُم؛ إِنَهُ يَنَامُ عَينَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، وَلَوْ أحْدَثْتُ لَعَلِمْتُ ".
وروي عن صفوان بن عسال قال: إذا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر يأمرنا ألا ننزع خفافنا إذا أدخلناهما طاهرتين، ولا نخلعهما من غائط ولا بول ولا نوم، إلا من جنابة ".
فهذه الأحاديث توجب الوضوء من النوم مجملاً، وجاء حديث آخر مفسرا بإيجاب الوضوء إذا نام مضطجعًا: روي عن ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " لَيسَ عَلَى مَنْ نَامَ قَاعِدًا وُضُوءٌ حَتَّى يَضْطَجِعَ، فَإِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرَخَتْ مَفَاصِلُهُ ".
جب پیشاب سے فراغت پاتے تو ہم آپ سے کلام کرتے مگر آپ ہم سے بات نہ فرماتے، اور ہم آپ کو سلام کرتے تو آپ جواب نہ دیتے یہاں تک کہ اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لاتے اور نماز جیسا وضو فرماتے؛ پس ہم نے اس بارے میں آپ سے عرض کیا؛ تاآنکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ﴾ کے ذریعے رخصت پر مشتمل آیت نازل ہوئی؛ پس یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آیت کا مفہوم اضمار (حذف و تقدیر) پر محمول ہے کہ: جب تم بے وضو ہونے کی حالت میں نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے اور ہاتھ دھو لو۔
اور آیت کی تاویل میں یہ بھی مروی ہے کہ: جب تم خواب گاہ (بستر) سے نماز کے لیے اٹھو تو اپنے چہرے دھو لو۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے نیند کی وجہ سے وضو واجب ہونے کے بارے میں روایات مروی ہیں؛ پس وہ اس تاویل کے لیے شاہد (دلیل) بنیں: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو جاتے، پھر صبح کی نماز ادا فرماتے اور وضو نہ کرتے؛ آپ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: "إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ؛ إِنَّهُ يَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا يَنَامُ قَلْبِي، وَلَوْ أَحْدَثْتُ لَعَلِمْتُ" (میں تم میں سے کسی عام فرد کی طرح نہیں ہوں؛ میری آنکھیں تو سوتی ہیں مگر میرا دل بیدار رہتا ہے، اور اگر مجھ سے کوئی حدث واقع ہو جاتا تو مجھے ضرور معلوم ہو جاتا)۔
اور حضرت صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: "إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ يَأْمُرُنَا أَلَّا نَنْزِعَ خِفَافَنَا إِذَا أَدْخَلْنَاهُمَا طَاهِرَتَيْنِ، وَلَا نَخْلَعَهُمَا مِنْ غَائِطٍ وَلَا بَوْلٍ وَلَا نَوْمٍ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ" (جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں ہوتے تو آپ ہمیں حکم فرماتے کہ جب ہم نے اپنے دونوں پاؤں طہارت کی حالت میں موزوں میں داخل کیے ہوں تو ہم اپنے موزے نہ اتاریں، اور ہم پاخانہ، پیشاب اور نیند کے سبب انہیں نہ نکالیں، سوائے جنابت کے)۔
پس یہ احادیث مجمل طور پر نیند سے وضو کے واجب ہونے کا تقاضا کرتی ہیں، جبکہ ایک دوسری حدیث پہلو کے بل لیٹ کر سونے کی صورت میں وضو واجب ہونے کی تفصیل کے ساتھ وارد ہوئی ہے: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "لَيْسَ عَلَى مَنْ نَامَ قَاعِدًا وُضُوءٌ حَتَّى يَضْطَجِعَ، فَإِذَا اضْطَجَعَ اسْتَرَخَتْ مَفَاصِلُهُ" (جو شخص بیٹھ کر سوئے اس پر وضو واجب نہیں یہاں تک کہ وہ پہلو کے بل لیٹ جائے، پس جب وہ پہلو کے بل لیٹ جاتا ہے تو اس کے جوڑ اور بندھن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں)۔