تتمة تفسير سورة المائدة، الآية 6
سورہ مائدہ، آیت 6 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ
في المكان الذي يعدم، وإن لم يكن سفرا - يجوز التيمم فيه؛ وكذلك إذا خاف الضرر من الماء - جاز له التيمم، وإن لم يكن مريضا؛ لأنه ليس أباح ذلك للمريض باسم المرض ولا باسم السفر؛ ولكن لمعنى فيه.
وقوله عز وجل: (أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ): قد ذكرنا فيما تقدم أن الملامسة: هي الجماع؛ كذلك روي عن عليٍّ وابن عَبَّاسٍ رضي الله عنهما وقال ابن عَبَّاسٍ: " الملامسة والمباشرة والإفضاء والرفث والغشيان كله جماع، ولكن اللَّه كريم يكني ".
وقوله عز وجل: (فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا).
جعل الطهارة بالماء والتراب؛ لأنه بهما معاش الخلق، وبهما قوام الأبدان، حتى جعل جميع أغذية الخلق وجل مصالحهم منهما؛ فعلى ذلك جعل قيام هذه العبادات بهما، واللَّه أعلم.
ثم الحكمة في وجوب الطهارة وجهان:
أحدهما: ما ذكرنا: أن يذكرهم طهارة الباطن.
والثاني: تكفيرًا لما ارتكبوا بهذه الجوارح من الإجرام، أو شكرًا لما أنعم عليهم من المنافع التي جعل لهم فيها من القبض والبسط، والتناول والأخذ والمشي، وغير ذلك مما يكثر.
ثم الحكمة في جعل الطهارة في أطراف البدن للتزين والتنظيف؛ لأنه يقدم على الملك الجبار، ويقوم بين يديه ويناجيه، ومن أتى ملكًا من ملوك الأرض يتكلف التنظيف والتزيين، ثم يدخل عليه؛ فعلى ذلك هذا، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا): قال عبد اللَّه بن مسعود وعمر رضي الله عنهما -
اس جگہ پر جہاں وہ میسر نہ ہو، اگرچہ وہ سفر کی حالت نہ ہو، تو وہاں تیمم کرنا جائز ہے؛ اور اسی طرح جب پانی سے نقصان کا اندیشہ ہو تو اس کے لیے تیمم جائز ہے، اگرچہ وہ بیمار نہ ہو؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بیمار اور مسافر کے لیے یہ رخصت محض بیماری یا سفر کے نام کی وجہ سے مباح نہیں فرمائی، بلکہ اس میں موجود ایک معنی و علت کی بنا پر مباح فرمائی ہے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی ہے: (أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ): ہم اس سے پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ ملامسہ سے مراد جماع ہے؛ اسی طرح حضرت علی اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: " الملامسة والمباشرة والإفضاء والرفث والغشيان كله جماع، ولكن اللَّه كريم يكني " (ملامسہ، مباشرت، افضاء، رفث اور غشیان، یہ سب جماع ہی کے معنی میں ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نہایت باحیا و کریم ہے اس لیے کنایہ فرماتا ہے)۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا)۔
اللہ تعالیٰ نے طہارت کو پانی اور مٹی کے ذریعے مقرر فرمایا؛ کیونکہ انہی دونوں پر مخلوق کی زندگی و معیشت کا دارومدار ہے اور انہی سے اجسام کا قیام و بقا ہے، یہاں تک کہ انسانوں کی تمام غذائیں اور ان کے بیشتر مفادات انہی دونوں سے وابستہ فرمائے ہیں؛ چنانچہ اسی مناسبت سے ان عبادات کا قیام بھی انہی دونوں پر رکھا گیا ہے، واللہ اعلم۔
پھر طہارت کے واجب ہونے میں حکمت کے دو پہلو ہیں:
ان میں سے ایک وہ ہے جو ہم نے بیان کیا: یعنی یہ کہ یہ حکم انہیں باطن کی طہارت یاد دلائے۔
اور دوسرا پہلو: ان گناہوں کا کفارہ بننا ہے جن کا ارتکاب انسانوں نے ان اعضاء کے ذریعے کیا ہے، یا ان منافع کا شکر بجا لانا ہے جن کا انعام اللہ نے ان پر فرمایا اور ان اعضاء میں ان کے لیے سمیٹنے، پھیلانے، پکڑنے، لینے اور چلنے وغیرہ جیسی بے شمار صلاحیتیں اور فائدے رکھے۔
پھر طہارت کو جسم کے ظاہری اطراف و اعضاء میں مقرر کرنے کی حکمت زینت اور صفائی ستھرائی ہے؛ کیونکہ بندہ شہنشاہِ جبار کی بارگاہ میں پیش ہوتا ہے، اس کے روبرو کھڑا ہوتا ہے اور اس سے مناجات کرتا ہے، اور دنیا کے بادشاہوں میں سے بھی جب کوئی کسی بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو خوب صفائی اور آراستگی کا اہتمام کرتا ہے، پھر اس کے ہاں داخل ہوتا ہے؛ پس اسی قیاس پر یہ معاملہ بھی ہے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا ارشادِ گرامی ہے: (وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا): حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ