تفسير سورة المائدة، الآية 19
سورہ مائدہ، آیت 19 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
الخلق يحتمل قلبه أن يكون ولده أو صديقه قردا أو خنزيرا.
أو يقال: لا أحد يحتمل قلبه تعذيب ولده وحبه -بذنب يذنبه- بالنار، وقد أقررتم أنكم تعذبون في الآخرة قدر ما عبد آباؤكم العجل.
ثم قال: (بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ)
أي: من اتخذ ولدًا وحبًّا أن يتخذ من شكله ومن جنسه؛ فاللَّه - تعالى - إنما خلقكم من بشر؛ كغيركم من الخلق، وأنتم وهم في ذلك سواء، فكيف خصصتم أنفسكم بذلك؟!.
وقوله عز وجل: (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ) دليل أن من رفع أحدًا من الرسل فوق قدره في الكفر كمن حط عن قدره ومرتبته.
وقوله: (يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ)
أي: من تاب وأسلم.
(وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ)
من دام على الكفر، ومات عليه.
وقوله عز وجل: (وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا)
أي: كلهم عبيده وإماؤه وخلقه؛ يعظم نفسه عن قولهم: (نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ)، ولا أحد يتخذ عبده ولده ولا حبًّا؛ فأنتم إذا أقررتم أنكم عبيده. كيف ادعيتم البنوة والمحبة؟! واللَّه أعلم.
وفي الآية دلالة إثبات رسالة نبينا مُحَمَّد صلى الله عليه وسلم؛ لأنهم قالوا قولا فيما بينهم، ثم أخبرهم رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم بذلك؛ ليعلم أنه إنما عرف ذلك باللَّه.
وقوله عز وجل: (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (19)
يحتمل قوله - تعالى -: (يُبَيِّنُ لَكُمْ) ما كنتم تكتمون من نعته وصفته، ويحرفون؛ كقوله - تعالى -: (يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ).
ويحتمل: (يُبَيِّنُ لَكُمْ) مما لكم وعليكم من الأحكام والشرائع، ويحتمل:
ایسا نہیں ہے جس کا دل یہ گوارا کرے کہ اس کا بیٹا یا اس کا دوست بندر یا خنزیر بن جائے۔
یا یوں کہا جائے گا کہ: کسی شخص کا دل بھی اپنے کسی گناہ کی پاداش میں اپنی اولاد اور اپنے محبوب کو آگ کا عذاب دینا گوارا نہیں کرتا، جبکہ تم خود اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ آخرت میں تمہیں اتنی مدت عذاب دیا جائے گا جتنی مدت تمہارے آبا و اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔
پھر فرمایا: (بَلْ أَنْتُمْ بَشَرٌ مِمَّنْ خَلَقَ) [بلکہ تم بھی اسی کی پیدا کردہ مخلوق میں سے عام انسان ہو]۔
یعنی: جو شخص کسی کو بیٹا یا محبوب بناتا ہے وہ اپنی ہی شکل و صورت اور اپنی ہی جنس سے بناتا ہے؛ پس اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں دیگر مخلوق کی مانند انسان ہی پیدا کیا ہے، اور تم اور وہ سب اس معاملے میں برابر ہیں، تو پھر تم نے اپنے آپ کو اس کے ساتھ کیسے خاص کر لیا؟!۔
اور اللہ عزوجل کا یہ فرمان: (لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ) [یقیناً وہ لوگ کافر ہو گئے جنہوں نے کہا کہ بے شک اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے] اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے رسولوں میں سے کسی کو اس کے مرتبے سے بڑھا دیا وہ کفر میں اس شخص کی مانند ہے جس نے رسول کو اس کی قدر و منزلت سے گھٹا دیا۔
اور اللہ کا فرمان: (يَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ) [وہ جسے چاہے بخش دیتا ہے]،
یعنی: جس نے توبہ کی اور اسلام قبول کیا۔
(وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ) [اور جسے چاہے عذاب دیتا ہے]،
جو کفر پر قائم رہا اور اسی پر مرا۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا) [اور آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے، سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے]،
یعنی: وہ تمام کے تمام اس کے بندے، اس کی باندیاں اور اس کی مخلوق ہیں؛ اللہ تعالیٰ ان کے اس قول: (نَحْنُ أَبْنَاءُ اللَّهِ وَأَحِبَّاؤُهُ) [ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں] کے مقابلے میں اپنی ذات کی برتری و پاکی بیان فرما رہا ہے، اور کوئی شخص اپنے غلام کو اپنا بیٹا یا محبوب نہیں بناتا؛ پس جب تم نے اقرار کیا کہ تم اس کے بندے ہو، تو پھر تم نے فرزندی اور محبوبیت کا دعویٰ کیسے کر دیا؟! واللہ اعلم۔
اور اس آیت میں ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات پر دلیل ہے؛ کیونکہ انہوں نے آپس میں ایک بات کہی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی خبر دی؛ تاکہ یہ جان لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے بتانے سے ہی حاصل ہوا ہے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ عَلَى فَتْرَةٍ مِنَ الرُّسُلِ أَنْ تَقُولُوا مَا جَاءَنَا مِنْ بَشِيرٍ وَلَا نَذِيرٍ فَقَدْ جَاءَكُمْ بَشِيرٌ وَنَذِيرٌ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ١٩) [اے اہل کتاب! رسولوں کی آمد کے ایک وقفے کے بعد یقیناً تمہارے پاس ہمارا رسول آ چکا ہے جو تمہارے لیے (احکام) کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم یہ نہ کہو کہ ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا، پس بے شک تمہارے پاس خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا آ چکا ہے، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے]۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (يُبَيِّنُ لَكُمْ) [وہ تمہارے سامنے کھول کر بیان کرتا ہے] میں یہ احتمال ہے کہ (اس سے مراد یہ ہو کہ وہ واضح کرتا ہے) جو کچھ تم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت و صفت میں سے چھپاتے اور تبدیل کرتے تھے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِمَّا كُنْتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ) [وہ تمہارے سامنے کتاب کی ان بہت سی باتوں کو کھول کر بیان کرتا ہے جنہیں تم چھپاتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر فرماتا ہے]۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ: (يُبَيِّنُ لَكُمْ) [وہ تمہارے لیے کھول کر بیان کرتا ہے] ان احکام و شرائع میں سے جو تمہارے حق میں اور تمہارے ذمے ہیں، اور یہ احتمال بھی ہے کہ: