تتمة تفسير سورة المائدة، الآية 38
سورہ مائدہ، آیت 38 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ
بيان من يتولى القطع، فالمراد منه: رجع إلى الولاة؛ فهذا كله يدل على أن ليس في مخرج عموم اللفظ دليل عموم المراد، ولا في مخرج خصوص اللفظ دليل خصوصه؛ بل يعرف ذلك كله بدليل: يقوم العموم بدليل العموم، والخصوص بدليل الخصوص؛ فهذا ينقض قول من يقول: إنه على العموم حتى يقوم دليل الخصوص، واللَّه أعلم.
فَإِنْ قِيلَ لنا: أيش الحكمة في إقامة الحد في السرقة على ما به تكتسب السرقة وهو اليد، ولم يقم الحد في سائر الحدود فيما به كان اكتسابها؛ من نحو القصاص والزنا وغيره، أنه إذا قتل آخر لم تقطع يده وبها كان اكتساب القتل؛ وكذلك الزنا لم يقم الحد على ما به كان الزنا، بل أقيم على غير ما به كان ذلك الفعل، وفي السرقة أقيم على ما به كان ذلك خاصة؟!
قيل - واللَّه أعلم - لخلتين: إما لقصور في الاستيفاء من الحق، أو لخوف الزيادة في الاستيفاء على الحق؛ لأنه إذا قتل: لو قطعت يده بقيت له النفس، وقد تلفت نفس الآخر، فكان في ذلك قصور في استيفاء الحق.
وفي الزنا: لو أقيم به على الذي به كان اكتساب الفعل لخيف تلف نفسه به؛ فكان في ذلك استيفاء الزيادة على الحق.
وأما السرقة: فإنه أمكن استيفاء الحق مما كان به اكتسابها، على غير قصور يقع في الاستيفاء، ولا خوف الزيادة في الاستيفاء؛ لذلك كان ما ذكر، واللَّه أعلم.
فَإِنْ قِيلَ: ما الحكمة في قطع يد قيمتها ألوف بسرقة عشرة، وذلك مما لا يمثاله في الظاهر، وقد أخبر ألا يجزي إلا مثلها، كيف جزي هذا بأضعاف ذلك؟ قيل: لهذا جوابان:
أحدهما: أن جزاء الدنيا محنة يمتحن بها المرء، ولله أن يمتحن عباده بأنواع المحن ابتداء على غير جعل ذلك جزاء لكسب يكتسب، فمن له الامتحان بأنواع المحن على غير جعلها جزاء لشيء - كان له الامتحان بأن يجعل ما يساوي ألوفا جزاء فلس أو حبة، وبالله العصمة والنجاة.
والثاني: أن ليس القطع في السرقة جزاء ما أخذ من المال؛ ولكنه جزاء ما هتك من
بیان نہیں ہے کہ قطعِ ید کی ذمہ داری کون انجام دے گا، چنانچہ اس سے مراد حکام اور ائمہ کی طرف راجع ہے؛ پس یہ تمام امور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لفظ کے ورود کا عموم مراد کے عام ہونے کی دلیل نہیں بنتا، اور نہ ہی لفظ کے ورود کا خصوص اس کے خاص ہونے کی دلیل ہوتا ہے؛ بلکہ یہ سب دلیل کے ذریعے ہی پہچانا جاتا ہے: عموم دلیلِ عموم سے قائم ہوتا ہے اور خصوص دلیلِ خصوص سے؛ پس یہ بات ان لوگوں کے موقف کو باطل کر دیتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ: لفظ عموم پر ہی برقرار رہتا ہے تاوقتیکہ تخصیص کی کوئی دلیل قائم نہ ہو جائے، واللہ اعلم۔
اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ: چوری کی حد اسی عضو پر قائم کرنے میں کیا حکمت ہے جس سے چوری کا ارتکاب ہوتا ہے یعنی ہاتھ، جبکہ دیگر تمام حدود (جیسے قصاص اور زنا وغیرہ) میں حد اس عضو پر قائم نہیں کی جاتی جس سے اس گناہ کا ارتکاب ہوا تھا؛ چنانچہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کر دے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا حالانکہ قتل کا ارتکاب اسی ہاتھ سے ہوا تھا، اور اسی طرح زنا میں بھی حد اس عضو پر قائم نہیں کی جاتی جس سے زنا کا ارتکاب ہوا، بلکہ اس کے سوا دوسرے اعضا پر قائم کی جاتی ہے، تو پھر چوری میں خاص طور پر حد اسی عضو پر کیوں قائم کی گئی جس سے اس فعل کا ارتکاب ہوا تھا؟
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا — واللہ اعلم — کہ یہ دو وجوہات کی بنا پر ہے: یا تو حق کی وصولی میں کمی رہ جانے کے سبب، یا حق پر زیادتی سرزد ہو جانے کے اندیشے کے پیشِ نظر؛ کیونکہ جب کسی نے قتل کیا ہو: تو اگر اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو اس کی جان باقی رہے گی حالانکہ دوسرے مقتول کی جان تلف ہو چکی ہے، لہٰذا اس صورت میں حق کی مکمل وصولی میں کمی رہ جاتی۔
اور زنا میں: اگر حد اسی عضو پر قائم کی جاتی جس سے اس فعل کا ارتکاب ہوا تھا تو اس سے اس زانی کی جان تلف ہو جانے کا اندیشہ تھا؛ لہٰذا یہ حق کی وصولی میں زیادتی ہو جاتی۔
اور رہا چوری کا معاملہ: تو اس میں اس عضو سے حق وصول کرنا ممکن تھا جس سے چوری کا ارتکاب ہوا، بغیر اس کے کہ حق کی وصولی میں کوئی کمی واقع ہو اور نہ ہی حق کی وصولی میں زیادتی کا کوئی اندیشہ تھا؛ اسی بنا پر وہی حکم نافذ ہوا جس کا ذکر کیا گیا، واللہ اعلم۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ: دس (درہم) کی چوری پر ہزاروں (درہم) کی قیمت رکھنے والے ہاتھ کو کاٹ دینے میں کیا حکمت ہے، جبکہ یہ امر بظاہر کسی مماثلت کے دائرے میں نہیں آتا، اور یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ جزا صرف برائی کے برابر ہی دی جاتی ہے، تو پھر اس چوری کی سزا اس سے کئی گنا زیادہ کیوں دی گئی؟ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ: اس کے دو جواب ہیں:
پہلا جواب: یہ کہ دنیا کی سزا درحقیقت ایک آزمائش ہے جس کے ذریعے انسان کو آزمایا جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو کسی عمل کا بدلہ قرار دیے بغیر بھی ابتدا ہی سے گوناگوں آزمائشوں میں مبتلا فرمائے؛ پس جس ذات کے لیے بغیر کسی عمل کی جزا بنائے مختلف نوعیت کی آزمائشوں میں ڈالنا روا ہے، اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ ہزاروں کی قدر و قیمت رکھنے والے عضو کو ایک پیسے یا دانے کے بدلے میں آزمائش بنا دے، وباللہ العصمۃ والنجاۃ۔
اور دوسرا جواب: یہ کہ چوری میں ہاتھ کاٹنا حاصل کیے گئے مال کا بدلہ نہیں ہے؛ بلکہ یہ اس ہتک و پامالی کا بدلہ ہے جو