تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة المائدة، الآيات 115–116

سورہ مائدہ، آیات 115–116 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 3 · الصفحة 652

ص 652سورة المائدةالمتن العربي

من العالمين.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: ليس فيه دلالة أنها لم تنزل؛ لأنه يجوز أن يكون قوله: (تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا) ما لم يأت النسخ، فكان لهم ذلك إلى أن بعث نبيُّنا مُحَمَّد صلى الله عليه وسلم فنسخ ذلك بيوم الجمعة.

وقالوا: قوله: (فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ ‌‌(115) ذكر في بعض القصة أن من كفر منهم بعد ذلك مسخهم خنازير، فذلك تعذيب لم يعذبه أحدًا من العالمين.

وقيل: يحتمل قوله - تعالى -: (فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ (115) في الآخرة، واللَّه أعلم بذلك كله.

* * *

قوله تعالى: (وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ‌‌(116) مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (117) إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (118) قَالَ اللَّهُ هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (119) لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (120)

وقوله عز وجل: (وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ. . .) الآية.

يحتمل هذا القول أوجهًا ثلاثة:

أحدها: أن كان هذا القول منه في الوقت الذي كان عيسى بين أظهرهم؛ ليكون ذلك آية وحجة لمن تبعه على من زاغ عن طريقه، وضل عن سبيل الهدى؛ لأنه تبرأ أن يكون قال لهم ذلك.

ويحتمل: أن يكون قال ذلك له وقت رفعه إلى السماء: قرر عنده أن قومه يقولون ذلك القول بعد مفارقته قومه.

وقيل: إنه يقول ذلك له يوم القيامة ويكون " قال " بمعنى: " يقول "؛ كقوله - تعالى -: (وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ)، وكقوله - تعالى -: (يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ

ص 652سورة المائدةاردو ترجمہ

جہان والوں میں سے۔

اور بعض علماء نے فرمایا: اس میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ وہ (مائدہ) نازل نہیں ہوا تھا؛ کیونکہ یہ جائز ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا یہ قول: (تَكُونُ لَنَا عِيدًا لِأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا) اس وقت تک کے لیے ہو جب تک کہ کوئی ناسخ حکم نہ آ جائے، چنانچہ ان کے لیے یہ سلسلہ اس وقت تک برقرار رہا یہاں تک کہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوئے، پس اللہ تعالیٰ نے اسے یومِ جمعہ کے ذریعے منسوخ فرما دیا۔

اور انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: (فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ) کے بارے میں واقعے کی بعض روایات میں ذکر آیا ہے کہ ان میں سے جس نے اس کے بعد کفر کیا اللہ تعالیٰ نے انہیں خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیا، تو یہ ایسا عذاب تھا جو اس نے (اس زمانے کے) جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا۔

اور ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (فَإِنِّي أُعَذِّبُهُ عَذَابًا لَا أُعَذِّبُهُ أَحَدًا مِنَ الْعَالَمِينَ) کا احتمال آخرت کے عذاب میں ہے، اور اللہ ہی ان تمام باتوں کا سب سے بہتر علم رکھنے والا ہے۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ۝١١٦ مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۝١١٧ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۝١١٨ قَالَ اللَّهُ هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصَّادِقِينَ صِدْقُهُمْ لَهُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ۝١١٩ لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا فِيهِنَّ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝١٢٠) (اور جب اللہ فرمائے گا: اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ عرض کریں گے: تو پاک ہے! میرے لیے یہ لائق ہی نہ تھا کہ میں ایسی بات کہتا جس کا مجھے کوئی حق نہیں؛ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور اس کا علم ہوتا؛ تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیری ذات میں ہے، بے شک تو ہی تمام غیبوں کا خوب جاننے والا ہے ﴿116﴾ میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے، اور میں اس وقت تک ان پر گواہ رہا جب تک میں ان کے درمیان موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے ﴿117﴾ اگر تو انہیں عذاب دے تو یقیناً وہ تیرے ہی بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی زبردست حکمت والا ہے ﴿118﴾ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دے گی، ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے ﴿119﴾ آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان میں ہے سب کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے ﴿120﴾)۔

اور اللہ عزوجل کا یہ ارشاد: (وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ...) آخر آیت تک۔

اس کلام میں تین توجیہات کا احتمال ہے:

ان میں سے پہلی توجیہ یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ کا یہ کلام اس وقت ہوا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے درمیان خود موجود تھے؛ تاکہ یہ بات آپ کے متبعین کے لیے ان لوگوں کے خلاف ایک نشانی اور حجت بن جائے جو آپ کے طریقے سے پھر گئے اور راہِ ہدایت سے بھٹک گئے؛ کیونکہ آپ نے اس بات سے قطعی برأت کا اظہار فرما دیا کہ آپ نے کبھی ان سے ایسی بات کہی ہو۔

اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے وقت یہ بات فرمائی ہو: یعنی آپ کے سامنے یہ بات ثابت و متحقق فرما دی کہ آپ کی قوم آپ کے ان سے جدا ہونے کے بعد یہ بات کہے گی۔

اور ایک قول یہ ہے کہ: اللہ تعالیٰ آپ سے یہ بات قیامت کے دن فرمائے گا، اور صیغۂ ماضی "قال" یہاں مضارع یعنی "يقول" (فرمائے گا) کے معنی میں ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ)، اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ