تفسير سورة الأعراف، الآية 88
سورہ اعراف، آیت 88 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
قال ابن عَبَّاسٍ رضي الله عنه: كان قوم شعيب قليلًا حين أدرك ذلك شعيب، وقوم آخرون معه يقول لهم ذلك شعيب عليه السلام، وإن كان طائفة منكم آمنوا بالذي أرسلت به، وطائفة لم يؤمنوا فاصبروا يا معشر المؤمنين، (حَتَّى يحكمَ اللَّهُ بَيْنَنَا): يقضي عليهم بالهلاك، ولم يكن شعيب أمر بالقتال.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: قوله: (وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ)، يعني المؤمنين، (آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ): من العذاب، (وَطَائِفَةٌ): يعني الكفار، (لَمْ يُؤْمِنُوا): بالعذاب، (فَاصْبِرُوا): يا معشر الكفار، (حَتَّى يحكمَ اللَّهُ بَيْنَنَا): في أمر العذاب في الدنيا، (وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ) ويحتمل غير هذا، وذلك أنهم كانوا يعبدون الأصنام، ويقولون: (مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى)، ويقولون: اللَّه أمرهم بذلك في أشياء يفعلونها، ويقول هَؤُلَاءِ: إن الذي نحن عليه هو الذي أمرنا اللَّه بذلك، فيقول لهم: اصبروا حتى يحكم اللَّه بيننا بأنه بماذا أمر: بالذي عليه الكفار، أم بالذي نحن عليه.
وقوله عز وجل: (قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ (88) قد ذكرنا في غير موضع أن الملأ من قومه هم كبراؤهم ورؤساؤهم.
وقوله عز وجل: (اسْتَكْبَرُوا) أي استكبروا، عن الخضوع والطاعة لمن هو دونهم عندهم؛ لأنهم كانوا يضعفون شعيبًا فيما بينهم ويزدرونه كقولهم له: (وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ) ثم لم يروا الأمر بالخضوع لمن هو دونهم في أمر الدنيا عدلًا، وهم إنما أخذوا من إبليس اللعين وإياه قلدوا حيث قال: (أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ)، حين أمر بالسجود لآدم، ولم ير اللعين الأمر بالخضوع لآدم من اللَّه عدلًا، فعلى ذلك هَؤُلَاءِ لم يروا الخضوع لمن دونهم عندهم عدلًا؛ فاستكبروا عليه، فكفروا لذلك.
وقوله عز وجل: (لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ).
قال الحسن: لنخرجنك، أي: لنقتلنك، والذين آمنوا معك من قريتنا.
وقال غيره: لنخرجنك: الإخراج نفسه، أي: نخرجنك ومن معك من المؤمنين من قريتنا إن لم تتبع ديننا، وقد كان منهم للأنبياء المعنيين جميعًا التوعد بالقتل والإخراج
کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت شعیب علیہ السلام نے اس حالت کو پایا تو ان کی قوم (شروع میں یا اہلِ ایمان کے مقابلے میں) کم تعداد تھی، اور کچھ دوسرے لوگ بھی ان کے ساتھ تھے جن سے حضرت شعیب علیہ السلام نے یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے ایک گروہ اس (ہدایت) پر ایمان لے آیا ہے جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا، تو اے گروہِ مومنین! تم صبر کرو، ﴿حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا﴾ یعنی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان (کافروں) کے حق میں ہلاکت کا فیصلہ فرما دے؛ اور حضرت شعیب علیہ السلام کو قتال کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔
اور بعض دیگر مفسرین نے کہا: اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿وَإِنْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ﴾ سے مراد اہلِ ایمان ہیں، ﴿آمَنُوا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ﴾ یعنی اس عذاب کی وعید پر (ایمان لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے)، ﴿وَطَائِفَةٌ﴾ یعنی کفار، ﴿لَمْ يُؤْمِنُوا﴾ یعنی عذاب پر ایمان نہ لائے، ﴿فَاصْبِرُوا﴾ یعنی اے گروہِ کفار! تم انتظار کرو، ﴿حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا﴾ یعنی یہاں تک کہ اللہ دنیا میں عذاب کے معاملے میں ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے، ﴿وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ﴾ (اور وہ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے)۔ اور اس کے علاوہ دوسرا مفہوم بھی ممکن ہے، اور وہ یہ کہ وہ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے: ﴿مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَىٰ﴾ (ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں)، اور وہ اپنے بعض افعال کے متعلق کہتے تھے کہ اللہ ہی نے انہیں اس کا حکم دیا ہے، جبکہ یہ (اہلِ ایمان) کہتے تھے کہ جس راہ پر ہم ہیں، اللہ نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے؛ پس حضرت شعیب علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں کہ تم صبر کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان یہ فیصلہ فرما دے کہ اس نے کس بات کا حکم دیا ہے: آیا اس کا جس پر کفار ہیں، یا اس کا جس پر ہم قائم ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿قَالَ الْمَلَأُ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا مِنْ قَوْمِهِ لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَكَ مِنْ قَرْيَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِي مِلَّتِنَا ۚ قَالَ أَوَلَوْ كُنَّا كَارِهِينَ﴾ ((تو) ان کی قوم میں جو لوگ سردار اور بڑے آدمی تھے، وہ کہنے لگے کہ شعیب! (یا تو) ہم تم کو اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں، ان کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے مذہب میں آجاؤ۔ انہوں نے کہا خواہ ہم (تمہارے دین سے) بیزار ہی ہوں (تو بھی؟))۔ ہم متعدد مقامات پر ذکر کر چکے ہیں کہ قوم کے ”الملأ“ سے مراد ان کے اکابر اور سردار لوگ ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿اسْتَكْبَرُوا﴾، یعنی انہوں نے ایسے شخص کی اطاعت اور اس کے سامنے سرنگوں ہونے سے تکبر کیا جو ان کے زعم میں ان سے کمتر تھا؛ کیونکہ وہ باہم حضرت شعیب علیہ السلام کو کمزور گردانتے تھے اور ان کی تحقیر کرتے تھے، جیسا کہ انہوں نے آپ سے کہا تھا: ﴿وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا ۖ وَلَوْلَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ﴾ (اور بے شک ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور پاتے ہیں، اور اگر تمہارا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم تمہیں سنگسار کر دیتے، اور تمہاری ہمارے نزدیک کوئی عزت نہیں ہے)۔ پھر انہوں نے دنیاوی اعتبار سے اپنے سے کمتر شخص کے آگے جھکنے کے حکم کو عدل و انصاف پر مبنی نہ جانا، اور درحقیقت انہوں نے یہ انداز ابلیس لعین ہی سے لیا اور اسی کی تقلید کی جب اس نے کہا تھا: ﴿أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ﴾ (میں اس سے بہتر ہوں)، جب اسے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اس ملعون نے آدم علیہ السلام کے آگے جھکنے کے اللہ تعالیٰ کے حکم کو عدل نہ سمجھا تھا۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی اپنے نزدیک اپنے سے کمتر شخص کے سامنے جھکنے کو عدل نہ مانا؛ پس انہوں نے ان کے مقابلے میں سرکشی اور تکبر کیا، اور اسی بنا پر کافر ہو گئے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ﴾ (ہم ضرور تمہیں نکال دیں گے اے شعیب)۔
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”لَنُخْرِجَنَّكَ“ کا مطلب ہے کہ ہم تمہیں اور جو لوگ تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے (مار کر) نکال دیں گے یعنی قتل کر دیں گے۔
اور دیگر مفسرین نے کہا: ”لَنُخْرِجَنَّكَ“ سے مراد خود بستی سے نکالنا ہی ہے، یعنی اگر تم ہمارے دین پر نہ آئے تو ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ موجود اہلِ ایمان کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔ اور اقوام کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کے حق میں یہ دونوں باتیں رہی ہیں یعنی قتل اور جلاوطنی دونوں کی دھمکی