تفسير سورة الأعراف، الآيات 91–92
سورہ اعراف، آیات 91–92 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ)، فيقول الكبراء والرؤساء للسفلة: لئن اتبعتم شعيبًا في دينه وما يأمركم به من وفاء الحق للناس، فإنكم إذًا لخاسرون للأرباح.
والثاني: أنه كان يحذرهم ويمنعهم عن عبادة الأصنام والأوثان، ويدعوهم إلى عبادة اللَّه، ويرغبهم في ذلك، وهم كانوا يعبدون تلك الأصنام لتقربهم عبادتهم إياها إلى اللَّه زلفى، وتكون لهم شفعاء في الآخرة، فقالوا: لئن اتبعتم شعيبًا فيما يدعوكم إليه وينهاكم عنه، لكنتم من الخاسرين، لا شفعاء لكم في الآخرة.
والثالث: أنهم كانوا يوعدون شعيبًا بالإخراج بقولهم: (لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ) فقالوا: (لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا) وهو يخرج لا محالة فتخرجون أنتم فصرتم من الخاسرين، والله أعلم.
وقوله عز وجل: (فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ … (91)
قيل: الصيحة.
وقيل: الزلزلة.
قيل: أصابهم حر شديد، فرفعت لهم سحابة، فخرجوا إليها يطلبون الروح تحتها فلما كانوا تحتها، سال عليهم العذاب، ورجفت بهم الأرض، فهلكوا، وهو ما ذكر في آية أخرى عذاب يوم الظلة، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ).
قد ذكرنا قوله: (جَاثِمِينَ) فيما تقدم.
وقوله عز وجل: (الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ (92)
الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ)، پس قوم کے سردار اور بااثر لوگ عوام الناس سے کہتے کہ: اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کے دین اور لوگوں کے حقوق پورے ادا کرنے کے ان کے حکم کی پیروی کی، تو تم یقیناً منافع اور تجارت میں نقصان اٹھانے والے بن جاؤ گے۔
اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام انہیں بتوں اور مورتوں کی پوجا سے ڈراتے اور منع فرماتے تھے، اور انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت اور اس کی ترغیب دیتے تھے، جبکہ وہ ان بتوں کی پرستش اس لیے کرتے تھے تاکہ ان کی عبادت انہیں اللہ کے قریب تر کر دے اور وہ آخرت میں ان کے سفارشی بنیں، چنانچہ انہوں نے کہا: اگر تم نے اس معاملے میں شعیب (علیہ السلام) کی پیروی کی جس کی وہ تمہیں دعوت دیتے ہیں اور جس سے وہ تمہیں روکتے ہیں، تو تم یقیناً خسارے میں پڑ جاؤ گے اور آخرت میں تمہارا کوئی سفارشی نہ ہوگا۔
اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ وہ اپنے اس قول کے ذریعے: (لَنُخْرِجَنَّكَ يَا شُعَيْبُ) حضرت شعیب علیہ السلام کو (بستی سے) نکال باہر کرنے کی دھمکی دیتے تھے، پس انہوں نے کہا: (لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا) (اگر تم نے شعیب کی پیروی کی) اور وہ تو لازماً نکالے ہی جائیں گے، تو تمہیں بھی نکال دیا جائے گا اور اس طرح تم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جاؤ گے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ …) (پس انہیں زلزلے نے پکڑ لیا)۔
ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد ہولناک چیخ (سخت کڑک) ہے۔
اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد زلزلہ ہے۔
ایک قول یہ بھی ہے کہ ان پر شدید گرمی مسلط کر دی گئی، پھر ان کے اوپر ایک بادل ظاہر کیا گیا تو وہ اس کے نیچے راحت و ٹھنڈک پانے کے لیے نکلے، پس جب وہ اس کے نیچے جمع ہو گئے تو ان پر عذاب برس پڑا اور زمین ان سمیت لرز اٹھی، جس سے وہ ہلاک ہو گئے؛ اور یہ وہی عذاب ہے جس کا ذکر دوسری آیت میں عذاب يوم الظلة (سائبان والے دن کے عذاب) کے طور پر آیا ہے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ) (پس وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرے کے گرے رہ گئے)۔
ہم اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (جَاثِمِينَ) کی تفسیری تحقیق پہلے بیان کر چکے ہیں۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: (الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَأَنْ لَمْ يَغْنَوْا فِيهَا الَّذِينَ كَذَّبُوا شُعَيْبًا كَانُوا هُمُ الْخَاسِرِينَ)