تتمة تفسير سورة الأعراف، الآية 100
سورہ اعراف، آیت 100 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ
ثم يحتمل قوله: لم يهد لهم أولم يتفكروا بما أهلك الأولين وما حل بهم بتكذيبهم الرسل أنهم كانوا إذا تركوا التفكر والنظر فيهم وما نزل بهم لم يهد لهم.
والثاني: قد هداهم لكن نفى ذلك عنهم لما لم ينتفعوا به، وهو ما نفي عنهم من السمع والبصر والعقل لما لم ينتفعوا به.
ويحتمل على غير إسقاط وكأنه قال: أو لم يهد للذين يرثون الأرض، أو لم يهدهم الرسول قدرة اللَّه في إهلاك الأمم الخالية، فعلى ذلك، هو قادر على إهلاك الذين يرثون الأرض من بعد أهلها يحتمل هذه الوجوه التي ذكرنا. واللَّه أعلم.
أو يقول: أو لم يهد لهم وراثة الأرض من بعد هلاك أهلها أنهم بما أهلكوا حتى يرتدعوا ويمتنعوا عن مثله.
وقوله: (أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ) يخرج على وجهين:
أحدهما: قد هداهم وبين لهم أن من تقدمهم، إنما هلكوا بما أصابوا من ذنوبهم من التكذيب والعناد، لكن لم يهتدوا لعنادهم.
والثاني: لم يهدهم لما لم يتفكروا فيها، ولم ينظروا، على التلاوة قرئت بإسقاط الواو.
وقوله: (أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ).
فإن كانت في الأمم السالفة، فقوله: أن لو نشاء أصبنا قومًا بعد قوم بذنوبهم.
وإن كانت في المتأخرين فيكون قوله: أن لو نشاء أصبنا هَؤُلَاءِ بذنوبهم على ما أصاب أُولَئِكَ بذنوبهم، ونطبع على قلوبهم فهم لا يسمعون، والطبع يحتمل الختم، أي ونختم على قلوبهم، ويحتمل الطبع ظلمة الكفر، أي: ستر قلوبهم بظلمة الكفر؛ كقولهم: وكل شيء ستر شيئًا وتغشاه فهو طبع.
(فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ) يحتمل وجهين:
يحتمل لا يسمعون لما لاينتفعون به.
ويحتمل: لا يسمعون، أي: لا يجيبون؛ كقوله: سمع اللَّه لمن حمده، قيل:
پھر اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں یہ احتمال ہے کہ ان پر یہ بات اس وجہ سے واضح نہیں ہوئی کہ انہوں نے اگلوں کی ہلاکت اور رسولوں کی تکذیب کے سبب ان پر نازل ہونے والے عذاب میں غور و فکر نہیں کیا؛ یعنی جب انہوں نے ان سابقہ اقوام اور ان پر ٹوٹنے والی آفت میں تدبر و نظر کو ترک کر دیا تو یہ حقیقت ان پر عیاں نہ ہوئی۔
اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کے لیے حقیقت واضح کر دی تھی، لیکن چونکہ انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اس لیے ان سے اس کی نفی کر دی گئی؛ اور یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ان سے سماعت، بصارت اور عقل کی نفی اس وقت کی گئی جب انہوں نے ان سے نفع حاصل نہ کیا۔
اور (حروف کو) ساقط مانے بغیر یہ احتمال بھی ہے کہ گویا یوں فرمایا گیا ہو: کیا ان لوگوں پر جو زمین کے وارث بنے ہیں یہ بات واضح نہیں ہوئی، یا کیا رسول نے ان پر گزشتہ امتوں کو ہلاک کرنے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو واضح نہیں کیا؟ پس اس اعتبار سے وہ ان لوگوں کو بھی ہلاک کرنے پر قادر ہے جو اگلوں کے بعد زمین کے وارث بن رہے ہیں؛ اور یہ ان تمام وجوہ کا احتمال رکھتا ہے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
یا پھر مراد یہ ہو کہ کیا سابقہ باشندوں کی ہلاکت کے بعد زمین کا وارث بننا ان پر یہ واضح نہیں کرتا کہ وہ کیوں ہلاک کیے گئے، تاکہ وہ عبرت پکڑیں اور اس جیسے اعمال سے باز آ جائیں؟
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: (أَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِينَ يَرِثُونَ الْأَرْضَ) دو وجوہ پر محمول ہوتا ہے:
ان میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان پر بات واضح فرما دی اور ان پر یہ عیاں کر دیا کہ ان سے پہلے والے لوگ محض اپنے ان گناہوں کے سبب ہلاک ہوئے جو انہوں نے تکذیب اور عناد کی صورت میں کیے تھے، لیکن وہ اپنے عناد کی وجہ سے ہدایت یاب نہ ہوئے۔
اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے ان کے لیے یہ بات اس لیے واضح نہیں فرمائی کیونکہ انہوں نے ان (واقعات) میں غور و فکر نہیں کیا اور نہ ہی تدبر سے کام لیا؛ یہ اس تلاوت کے مطابق ہے جو واؤ کے اسقاط کے ساتھ پڑھی گئی ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: (أَنْ لَوْ نَشَاءُ أَصَبْنَاهُمْ بِذُنُوبِهِمْ)۔
پس اگر اس سے مراد گزشتہ امتیں ہوں، تو اللہ کے فرمان کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہتے تو ایک کے بعد دوسری قوم کو ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب میں مبتلا کر دیتے۔
اور اگر اس سے مراد بعد میں آنے والے لوگ ہوں، تو فرمانِ الٰہی کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں کو بھی ان کے گناہوں کے سبب اسی طرح عذاب میں پکڑ لیں جس طرح ان اگلوں کو ان کے گناہوں پر عذاب میں مبتلا کیا تھا، اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں پس وہ سنتے نہیں ہیں۔ اور طبع کا ایک احتمال مہر لگانے کا ہے، یعنی ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیں، اور طبع کا دوسرا احتمال کفر کی تاریکی ہے، یعنی کفر کی تاریکی سے ان کے دلوں کو ڈھانپ دیا گیا؛ جیسا کہ اہل لغت کہتے ہیں: ہر وہ چیز جو کسی شے کو ڈھانپ لے اور اس پر چھا جائے تو وہ طبع کہلاتی ہے۔
(فَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ) دو وجوہ کا احتمال رکھتا ہے:
ایک احتمال یہ ہے کہ وہ اس لیے نہیں سنتے کیونکہ وہ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے۔
اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ وہ سنتے نہیں ہیں، یعنی: وہ قبول و اجابت نہیں کرتے؛ جیسے کہا جاتا ہے: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اور کہا گیا ہے کہ: