تفسير سورة الأعراف، الآيات 106–107
سورہ اعراف، آیات 106–107 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
وقوله عز وجل: (قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ).
يحتمل: (بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ) ما يبيّن وحدانية اللَّه تعالى وألوهيته.
ويحتمل: ببينة الرسالة ما يبين أني رسول رب العالمين، غير كاذب عليه ولا مفتر.
وقوله عز وجل: (فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ) أي: لا تستعبدهم؛ فإنهم ليسوا بعبيد، لم يرد إرسالهم معه، ولكن طلب استنقاذهم من العبودة " كقوله: (أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ).
وقوله عز وجل: (قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ (106)
دل قول فرعون: (إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ) أن موسى أراد بقوله: (قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ. . . .): الآية.
ودل قوله: (إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ) أنه لعنه اللَّه، قد كان عرف أنه ليس بإله، وعرف عبودة نفسه حيث طلب منه الآية على صدق ما ادعى من الرسالة، ولو كان عنده أنه إله، لكان قال لموسى: أنا الإله فمتى أرسلتك، ولم يطلب منه الآية.
وقوله عز وجل: (فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ (107)
قال أَبُو عَوْسَجَةَ الثعبان: الحيَّة: قال: كل حيّة تسمى ثعبانًا، والثعابين جماعة.
اور اللہ عز و جل کا ارشاد ہے: ﴿قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ (بے شک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل لے کر آیا ہوں)۔
﴿بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ [اس سے مراد] ایسی دلیل و حجت ہو جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی الوہیت کو واضح کرتی ہو۔
اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ [اس سے مراد] رسالت کی کھلی نشانی ہو جو یہ واضح کرے کہ میں واقعی رب العالمین کا رسول ہوں، نہ اللہ پر جھوٹ بولنے والا ہوں اور نہ ہی افترا پرداز۔
اور اللہ عز و جل کا ارشاد: ﴿فَأَرْسِلْ مَعِيَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (پس بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے)؛ یعنی انہیں غلام نہ بنا کیونکہ وہ تیرے غلام نہیں ہیں، آپ کا مقصود محض انہیں اپنے ساتھ لے جانا نہ تھا بلکہ انہیں غلامی کے شکنجے سے آزاد کرانا تھا، جیسا کہ فرمایا: ﴿أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے)۔
اور اللہ عز و جل کا ارشاد ہے: ﴿قَالَ إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ (فرعون نے کہا اگر تم نشانی لے کر آئے ہو تو اگر سچے ہو تو لاؤ (دکھاؤ))۔
فرعون کا یہ قول: ﴿إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی اپنے فرمان: ﴿قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ﴾ سے مراد معجزہ و نشانی ہی تھی۔
اور اس کا یہ کہنا: ﴿إِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِآيَةٍ فَأْتِ بِهَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ (اللہ اس پر لعنت کرے) خود جان چکا تھا کہ وہ معبود نہیں ہے، اور اسے اپنی بندگی و عاجزی کا علم تھا اسی لیے تو اس نے موسیٰ علیہ السلام کے دعوائے رسالت کی صداقت پر نشانی و معجزہ طلب کیا؛ کیونکہ اگر اس کے اپنے زعم میں یہ بات ہوتی کہ وہ خود الٰہ ہے، تو وہ موسیٰ علیہ السلام سے کہتا کہ: "میں خود معبود ہوں، بھلا میں نے تجھے کب رسول بنا کر بھیجا؟" اور وہ آپ سے کسی نشانی کا مطالبہ نہ کرتا۔
اور اللہ عز و جل کا ارشاد ہے: ﴿فَأَلْقَى عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُبِينٌ﴾ (موسیٰ نے اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دی تو وہ اسی وقت صریح اژدھا (ہوگیا))۔
ابو عوسجہ نے کہا: الثعبان سانپ کو کہتے ہیں؛ انہوں نے فرمایا: ہر سانپ کو ثعبان کہا جاتا ہے، اور اس کی جمع الثعابين ہے۔