تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الأعراف، الآية 121

سورہ اعراف، آیت 121 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 4 · الصفحة 531

ص 531سورة الأعرافالمتن العربي

قَالَ بَعْضُهُمْ: قوله: (وَأُلْقِيَ)، أي: أمروا بالسجود، فسجدوا.

وقال آخرون: قوله: (وَأُلْقِيَ)، أي: لسرعة ما سجدوا، كأنهم ألقوا، والآية ترد على المعتزلة؛ لأنهم ينكرون أن يكون لله تعالى في فعل العباد صنع، وهاهنا قد أضيف الفعل إلى غيرهم بقوله: (وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ) دل أن لله في فعل العباد صنعًا. وهو أن خلق فعل السجود منهم.

وقال جعفر بن حرب: يجوز أن يضاف الفعل إلى غير، وإن لم يكن لذلك الغير في ذلك الفعل صنع؛ نحو: ما يقال في السفر: إن هَؤُلَاءِ خلفوا أُولَئِكَ، وهم لم يخلفوا أُولَئِكَ في الحقيقة، ولا صنع لهم في التخليف، ثم أضيف إليهم فعل التخليف، فعلى ذلك هذا.

يقال: إن لهم في ذلك صنعًا، وهو أنهم إذا لم ينتظروهم فقد خلفوهم، فلهم في ذلك صنع، فأضيف إليهم.

أو أن يقال: إنهم لا يملكون تخليف هَؤُلَاءِ فأما اللَّه سبحانه وتعالى فهو قادر أن يلقيهم أي: بما يخلق منهم فعل السجود، فأضيف الفعل إليه لذلك.

وقوله عز وجل: (قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ‌‌(121) رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ (122) قال بعض أهل التأويل: إنهم لما قالوا: آمنا برب العالمين، قال لهم فرعون: إياي تعنون، فعند ذلك قالوا: لا، ولكن ربّ موسى وهارون، ولكن لا ندري هذا، وموسى أول ما جاء فرعون ودعاه إلى دينه قال له: (إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ)، فلا يحتمل أن يشكل عليه قولهم: (آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ) وإنهم إياه عنوا بذلك، وجائز أن يكون آمَنَّا بِرَبِّ الذي أرسل موسى وهارون رسولًا.

ص 531سورة الأعرافاردو ترجمہ

بعض اہل تاویل نے کہا کہ اللہ کے فرمان: ﴿وَأُلْقِيَ﴾ (اور ڈال دیے گئے) سے مراد یہ ہے کہ انہیں سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تو وہ سجدہ ریز ہو گئے۔

اور دیگر مفسرین نے کہا کہ اللہ کے فرمان: ﴿وَأُلْقِيَ﴾ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے سجدے میں گرنے کی انتہائی سرعت اور تیزی کے سبب ایسا معلوم ہوا گویا وہ (کسی قوت سے) ڈال دیے گئے ہوں۔ اور یہ آیت معتزلہ کا رد کرتی ہے؛ کیونکہ وہ بندوں کے افعال میں اللہ تعالیٰ کی کسی تخلیقی کارفرمائی (صنع) کے منکر ہیں، جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ﴾ کے ذریعے فعل کو ان کے غیر کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بندوں کے فعل میں اللہ تعالیٰ کی کارفرمائی ہے، اور وہ یہ کہ اللہ نے ان سے فعلِ سجدہ کو پیدا فرمایا (خلق کیا)۔

اور جعفر بن حرب نے کہا: یہ جائز ہے کہ فعل کو کسی غیر کی طرف منسوب کر دیا جائے خواہ اس غیر کا اس فعل میں کوئی عمل دخل (صنع) نہ ہو؛ جیسا کہ سفر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ: "ان لوگوں نے ان (پیچھے رہ جانے والوں) کو پیچھے چھوڑ دیا"، حالانکہ حقیقت میں انہوں نے ان کو پیچھے نہیں چھوڑا تھا اور نہ ہی ان کے پیچھے چھوٹ جانے میں ان کا کوئی عمل دخل تھا، مگر پھر بھی ان کی طرف پیچھے چھوڑنے کا فعل منسوب کر دیا گیا، پس اسی قیاس پر یہ آیت بھی ہے۔

(اس کے جواب میں) کہا جائے گا کہ: اس میں ان کا عمل دخل (صنع) موجود ہے، اور وہ یہ کہ جب انہوں نے ان کا انتظار نہیں کیا تو درحقیقت انہوں نے ہی انہیں پیچھے چھوڑا، پس اس عمل میں ان کا دخل تھا، اس لیے یہ فعل ان کی طرف منسوب کیا گیا۔

یا یہ کہا جائے گا کہ: وہ لوگ تو ان کو پیچھے چھوڑنے پر قادر و بااختیار نہیں ہیں، جب کہ اللہ سبحانہ و تعالی اس بات پر قادر ہے کہ وہ انہیں سجدے میں ڈال دے، یعنی اس طور پر کہ وہ ان سے فعلِ سجدہ کو پیدا فرما دے، پس اسی سبب سے یہ فعل اللہ کی طرف منسوب کیا گیا۔

اور اللہ عزوجل کا فرمان: ﴿قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ۝١٢١ رَبِّ مُوسَى وَهَارُونَ﴾، بعض اہلِ تاویل نے کہا کہ جب جادوگروں نے یہ کہا: "ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لائے"، تو فرعون نے ان سے کہا: تمہاری مراد مجھ سے ہے، تو اس وقت انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ لیکن ہم اس (روایت) کو مستند نہیں جانتے؛ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام جب پہلی بار فرعون کے پاس تشریف لائے اور اسے اپنے دین کی طرف بلایا تو اس سے فرمایا تھا: ﴿إِنِّي رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾، لہٰذا یہ احتمال نہیں رکھا جا سکتا کہ فرعون پر ان کا یہ قول: ﴿آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ مشتبہ رہا ہو اور وہ یہ سمجھا ہو کہ اس سے مراد وہی ہے؛ اور یہ بھی جائز ہے کہ (اس تاویل کا مفہوم یہ ہو کہ) ہم اس رب پر ایمان لائے جس نے موسیٰ اور ہارون کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔