تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الأعراف، الآية 129

سورہ اعراف، آیت 129 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 4 · الصفحة 541

ص 541سورة الأعرافالمتن العربي

أو أن يقول لهم: استعينوا باللَّه بالنصر لكم والظفر، واصبروا على أذاهم والبلاء.

(إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ).

يحتمل هذا وجهين:

يحتمل أن يخرج ذلك من موسى مخرج الوعد لهم بالنصر والظفر على الأعداء، وجعل الأرض لهم من بعد إهلاك العدو، وهو كما ذكر في موضع آخر: (وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ).

ويحتمل أن يخرج ذلك منه مخرج التصبر على الرضا بقضاء اللَّه - تعالى - أن الأرض له يصيرها لمن يشاء، فاصبروا أنتم على البلاء، وارضوا بقضائه.

(وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ).

قال الحسن: (وَالْعَاقِبَةُ)، أي: الآخرة للمتقين خاصة، وأمّا الدُّنيَا فإنها بالشركة بين أهل الكفر وأهل الإسلام، يكون لهَؤُلَاءِ ما لأُولَئِكَ، وأمَّا الآخرة فليست للكفار إنما هي للمؤمنين خاصة، وهو ما ذكر في آية أخرى: (وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ. . .) الآية، فعلى ذلك هذا، واللَّه أعلم.

وقال غيره: (وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ) أي عاقبة الأمر بالنصر، والظفر للمتقين على أعدائهم، وإن كان في الدفعة الأولى عليهم.

وقوله عز وجل: (قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا … ‌‌(129) يخرج هذا على وجهين:

أحدهما: أن يخرج مخرج استبطاء النصر والظفر لهم، كأنهم استبطئوا النصر

ص 541سورة الأعرافاردو ترجمہ

یا یہ کہ وہ (حضرت موسیٰ علیہ السلام) ان سے یہ فرما رہے ہوں کہ: اللہ تعالیٰ سے اپنی نصرت و غلبے کے لیے مدد مانگو، اور ان کی ایذا رسانی اور آزمائش پر صبر کرو۔

(إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ) [بے شک زمین اللہ ہی کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے]۔

اس میں دو توجیہات کا احتمال ہے:

ایک احتمال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام ان کے لیے دشمنوں پر نصرت و غلبے، اور دشمن کی ہلاکت کے بعد زمین کو ان کے سپرد کیے جانے کے وعدے کے طور پر صادر ہوا ہو؛ اور یہ ویسا ہی ہے جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا: (وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الْأَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِينَ) [اور ہم چاہتے تھے کہ ان لوگوں پر احسان کریں جو زمین میں کمزور کر دیے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنائیں اور انہی کو وارث بنائیں]۔

اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ ان کا یہ فرمانا اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنے اور صبر کی تلقین کے طور پر ہو کہ زمین اللہ ہی کی ملکیت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے، لہٰذا تم آزمائش پر صبر کرو اور اس کی قضا پر راضی رہو۔

(وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ) [اور انجامِ بخیر پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے]۔

حضرت حسن (بصری) رحمہ اللہ نے فرمایا: (وَالْعَاقِبَةُ) یعنی آخرت بالخصوص متقین ہی کے لیے ہے؛ رہی دنیا تو وہ اہلِ کفر اور اہلِ اسلام کے مابین مشترک ہے، جو کچھ ان (کفار) کو ملتا ہے ویسا ہی ان (مسلمانوں) کو بھی حاصل ہوتا ہے۔ لیکن آخرت کفار کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ خاص طور پر اہلِ ایمان ہی کے لیے ہے، اور یہی بات دوسری آیت میں بیان فرمائی گئی ہے: (وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ. . .) [اور اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی طریقے (کفر) پر ہو جائیں گے تو جو لوگ رحمن کے ساتھ کفر کرتے ہیں ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے...] پوری آیت تک۔ پس اسی مفہوم پر یہ آیت بھی محمول ہے، واللہ اعلم۔

اور دیگر مفسرین نے کہا: (وَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ) یعنی انجامِ کار دشمنوں کے مقابلے میں نصرت و غلبہ متقین ہی کے لیے ہے، اگرچہ ابتدائی مرحلے میں غلبہ کفار ہی کا رہا ہو۔

اور اللہ عز و جل کا فرمان: (قَالُوا أُوذِينَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِنْ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا … ۝١٢٩) [انہوں نے کہا: آپ کے ہمارے پاس آنے سے پہلے بھی ہمیں ستایا گیا اور آپ کے ہمارے پاس آنے کے بعد بھی...]، یہ کلام دو توجیہات پر محمول ہو سکتا ہے:

پہلی توجیہ یہ کہ: یہ کلام ان کی جانب سے نصرت و فتح یابی کے دیر سے ملنے پر شکوے کے طور پر صادر ہوا ہو، گویا انہوں نے نصرت میں تاخیر محسوس کی