تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الأعراف، الآيات 134–135

سورہ اعراف، آیات 134–135 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 4 · الصفحة 549

ص 549سورة الأعرافالمتن العربي

وليس من عمل السحر، ولكن آية سماوية إذ لو كان سحرًا لتكلفوا في دفعه، واشتغلوا بالسحر على ما اشتغلوا بسحر العصا والحبال، فإذ لم يتكلفوا في ذلك، ولم يشتغلوا بدفع ذلك، بل فزعوا إلى موسى ليكشف ذلك عنهم، ووعدوه الإيمان به، وإرسال بني إسرائيل معه، دل فزعهم إليه في كشف ذلك عنهم على أنهم قد عرفوا أنه ليس بسحر، ولكنه آية أقروا بها أنها ليست بسحر، وأنها آيات إلا أنهم فزعوا عند ذلك إلى موسى فقالوا: (ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ‌‌(134) ووعدوه الإيمان به، وبعث بني إسرائيل معه إن كشف عنهم الرجز.

وقوله عز وجل: (بِمَا عَهِدَ عِندَك) اختلف فيه:

قَالَ بَعْضُهُمْ: (بِمَا عَهِدَ عِندَك) ما عهد لك أنك متى دعوته أجابك.

وقيل: (بِمَا عَهِدَ عِندَكَ) أنَّا متى آمنا بك وصدقناك كشف عنا الرجز، فقالوا: لئن كشفت عنا الرجز لنؤمنن لك ولنرسلن معك بني إسرائيل.

* * *

قوله تعالى: (فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَى أَجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ ‌‌(135) فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ (136) وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ (137)

قوله عز وجل: (فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ).

قيل: الرجز: ألوان العذاب الذي كان نزل بهم من الطوفان والجراد والقمل

ص 549سورة الأعرافاردو ترجمہ

ہو سکتیں اور نہ ہی جادو کا کرشمہ ہیں، بلکہ ایک آسمانی معجزاتی نشانی ہیں؛ کیونکہ اگر یہ جادو ہوتیں تو وہ اس کے توڑ کی تدبیر کرتے اور جادو کے ذریعے اس کے ازالے میں اسی طرح لگ جاتے جس طرح وہ لاٹھی اور رسیوں کے جادو کے مقابلے میں مشغول ہوئے تھے، لیکن چونکہ انہوں نے اس کے توڑ کی کوئی کوشش نہ کی اور نہ اس کے ازالے کے لیے جادو میں مشغول ہوئے، بلکہ انہوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف التجا کی کہ وہ ان سے اس عذاب کو ہٹوا دیں، اور انہوں نے آپ پر ایمان لانے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کرنے کا وعدہ کیا، تو ان عذابوں کو دور کرانے کے لیے ان کا سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف رجوع کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ جان چکے تھے کہ یہ جادو نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی نشانی ہے جس کا انہوں نے خود اقرار کیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ الٰہی نشانیاں ہیں؛ چنانچہ اسی بنا پر وہ اس وقت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف فریاد لے کر دوڑے اور کہنے لگے: ﴿ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ﴾ (آپ ہمارے لیے اپنے رب سے اس عہد کے وسیلے سے دعا کیجیے جو اس کا آپ کے پاس ہے، اگر آپ ہم سے یہ عذاب دور کر دیں تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو بھی آپ کے ساتھ ضرور روانہ کر دیں گے)، اور انہوں نے آپ سے وعدہ کیا کہ اگر آپ ان سے عذاب ٹلوا دیں تو وہ آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیج دیں گے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ﴾، اس کے مفہوم میں اختلاف پایا جاتا ہے:

بعض مفسرین نے کہا کہ ﴿بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ﴾ سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے آپ سے کر رکھا ہے کہ جب بھی آپ اس سے دعا مانگیں گے، وہ آپ کی دعا قبول فرمائے گا۔

اور ایک قول یہ ہے کہ ﴿بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ﴾ کا مفہوم یہ ہے کہ جب بھی ہم آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی تصدیق کر دیں تو وہ ہم سے عذاب دور فرما دے گا؛ چنانچہ انہوں نے کہا: اگر آپ ہم سے عذاب ہٹا دیں تو ہم آپ پر ضرور ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور بھیج دیں گے۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَىٰ أَجَلٍ هُم بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنكُثُونَ ۝١٣٥ فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ ۝١٣٦ وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَىٰ عَلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا ۖ وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ﴾ (پھر جب ہم نے ان سے وہ عذاب ایک ایسی مدت تک کے لیے ہٹا دیا جس تک وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، تو وہ فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگے۔ پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کر دیا، اس سبب سے کہ وہ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے غافل رہتے تھے۔ اور ہم نے اس قوم کو، جسے نہایت کمزور اور دبا کر رکھا جاتا تھا، اس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکت رکھی تھی، اور بنی اسرائیل پر آپ کے رب کا بہترین وعدہ ان کے صبر کے صلے میں پورا ہو گیا، اور ہم نے ان تمام چیزوں کو تباہ و برباد کر دیا جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی اور جن عمارتوں کو وہ بلند کرتے تھے)۔

اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ﴾ (پھر جب ہم نے ان سے عذاب دور کر دیا)۔

ایک قول کے مطابق ”الرِّجْز“ سے مراد عذاب کی وہ مختلف اقسام ہیں جو ان پر طوفان، ٹڈی دل، جوؤں