تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تتمة تفسير سورة الأنعام، الآية 65

سورہ انعام، آیت 65 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 4 · الصفحة 112

ص 112سورة الأنعامالمتن العربي

بعض.

أما لبس الشيع: هي الأهواء المختلفة، (وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ) هو السيف والقتل، هذان قد كانا في المسلمين، وبقي ثنتان لابد واقعتان.

ومنهم من يقول: كان ثنتان في المشركين من أهل الكتاب، وثنتان في أهل الإسلام،

ص 112سورة الأنعاماردو ترجمہ

ایک دوسرے کی

رہا 'لبس الشیع' (یعنی گروہ گروہ کر کے بھڑانا): تو اس سے مراد مختلف قسم کی خواہشات (بدعات) ہیں، اور وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ (اور بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ چکھائے) سے مراد تلوار اور قتل و غارت ہے، یہ دونوں (چیزیں) مسلمانوں میں واقع ہو چکی ہیں، اور دو (چیزیں) باقی ہیں جن کا واقع ہونا ناگزیر ہے۔

اور ان میں سے بعض کہتے ہیں: دو (چیزیں) مشرکینِ اہل کتاب میں واقع ہوئیں، اور دو (چیزیں) اہل اسلام میں،