تفسير سورة الأعراف، الآية 205
سورہ اعراف، آیت 205 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
وكان ابن عمر لا يقرأ خلف الإمام.
وعن أبي سعيد أنه سئل عن القراءة خلف الإمام، قال: يكفيك ذلك الإمام.
وعن ابن عَبَّاسٍ أن رجلاً سأله: أقرأ خلف الإمام؟ قال: لا.
إلى مثل هذه الأحاديث ذهب أصحابنا، وعلى ذلك دل الكتاب والسنة وإجماع الصحابة، وباللَّه التوفيق.
وقوله عز وجل: (وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (205)
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما امام کے پیچھے قراءت نہیں کرتے تھے۔
اور حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: تمہارے لیے امام (کی قراءت) کافی ہے۔
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کروں؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں۔
اسی طرح کی احادیث کو ہمارے اصحاب نے اختیار کیا ہے، اور اسی پر کتاب، سنت اور صحابہ کرام کا اجماع دلالت کرتا ہے، اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
اور اللہ عز وجل کا فرمان ہے: وَاذْكُرْ رَبَّكَ فِي نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَخِيفَةً وَدُونَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ وَلَا تَكُنْ مِنَ الْغَافِلِينَ (205)