تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تتمة تفسير سورة التوبة، الآية 60

سورہ توبہ، آیت 60 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 5 · الصفحة 410

ص 410سورة التوبةالمتن العربي

ويحتمل: (وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ)، أي: في طاعة اللَّه أن كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات، فإنه داخل في ذلك.

وقوله: (وَابْنِ السَّبِيلِ)

قيل: الضيف ينزل به.

وقيل: هو المار عليك وإن كان غنيًّا، المنقطع عن ماله.

وقوله: (فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ) يحتمل: بيانًا من اللَّه وإعلامًا أهل الصدقات منهم من غيرهم.

ويحتمل قوله: (فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ) أي: واجبًا من اللَّه وفرضًا (وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ).

* * *

قوله تعالى: (وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (61) يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ (62) أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ (63) يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِم سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ (64) وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (66)

ص 410سورة التوبةاردو ترجمہ

اور اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ سے مراد اللہ کی اطاعت ہو، یعنی ہر وہ شخص جو اللہ کی اطاعت اور نیکی کے راستوں میں کوشش کرے، وہ اس میں داخل ہے۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَابْنِ السَّبِيلِ

کہا گیا: اس سے مراد وہ مہمان ہے جو اس کے پاس آ کر ٹھہرے۔

اور کہا گیا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو تمہارے پاس سے گزر رہا ہو، اگرچہ وہ مالدار ہی کیوں نہ ہو، [لیکن] اپنے مال سے کٹ چکا ہو۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ، اس میں یہ احتمال ہے کہ: یہ اللہ کی جانب سے ایک بیان اور صدقات کے اہل لوگوں کو یہ بتانا ہو کہ ان میں سے کون (مستحق) ہے اور کون نہیں۔

اور اس کے فرمان: فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس کا مطلب ہو: اللہ کی طرف سے ایک واجب اور فرض، وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۝٦١ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ ۝٦٢ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ ۝٦٣ يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِم سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ ۝٦٤ وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ ۝٦٥ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ ۝٦٦