تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة ص، الآية 44

سورہ ص، آیت 44 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 8 · الصفحة 634

ص 634سورة صالمتن العربي

قال بعض أهل التأويل: كان به البلاء بظاهر الجسد وبباطنه: فما كان بظاهره ذهب بالاغتسال، وما كان بباطنه ذهب بالشرب، واللَّه أعلم.

ثم قوله عز وجل لرسوله صلى الله عليه وسلم: (وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ).

أي: اذكر صبره كيف صبر على البلاء من اللَّه عز وجل بأنواع الشدائد والبلايا، فاصبر أنت إذا ابتليت بشيء من البلايا، وعلى ذلك يخرج جميع ما ذكر في هذه السورة، وأمره أن يذكرهم بالذي ابتلاهم من الشدائد أن كيف صبروا له على ذلك، ومن امتحنهم بالسعة والملك يقول: أن اذكر لهم كيف شكروا ربهم وأطاعوه، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ (43)

اختلف أهل التأويل فيه: قَالَ بَعْضُهُمْ: (وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ) أي: أحيا من هلك من أهله وماله، وزاد له على ذلك ضعفهم في الدنيا؛ رحمة منه وفضلا.

والحسن يقول بهذا: إنه أحياهم له بأعيانهم وزاده مثلهم معهم.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: قيل له: يا أيوب إن أهلك في الجنة، فإن شئت أتيناك بهم وإن شئت تركناهم لك في الجنة وعوضناك مثلهم، قال: لا، بل اتركهم في الجنة، فتركوا له في الجنة وعوض مثلهم في الدنيا، ولله أن يحيي من شاء بعد ما أماته، وله أن يؤجر على ذلك ما شاء؛ ألا ترى أنه قال على أثره: (رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ)، دل قوله: (رَحْمَةً مِنَّا) على أن كشف الضر عن أيوب وإعطاء ما أعطاه رحمة منه وفضلا ونعمة، كان له ألا يكشف الضر عنه، وألا يرد عليه أهله ولا يزيد له، وهو على المعتزلة؛ لأنه لا يخلو إما أن يكون ما أعطى وردّ عليه أصلح له، وقد أخبر أنه برحمته كان ذلك له وفضل منه، ولو كان عليه حفظ الأصلح له في الدِّين، كان في تركه ومنعه جائرا عندهم ظالمًا.

أو أن يكون منعه ذلك عنه أصلح له فأعطاه وترك الأصلح له؛ فدل أن ليس على الله حفظ الأصلح لأحد في الدِّين، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ).

أي: ذكرى وعظة لمن ينتفع باللب، ليعلم أن ليس التضييق لمقت منه وسخط على من ضَيَّق عليه ولا في التوسيع رضاء منه، ولكن محنتان: يمتحن من شاء بالشدة والبلاء، ومن شاء بالسعة والرخاء.

وقوله عز وجل: (وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ ‌‌(44)

ص 634سورة صاردو ترجمہ

بعض اہلِ تاویل کا کہنا ہے: ان (حضرت ایوب علیہ السلام) کو آزمائش و تکلیف ظاہرِ جسم اور باطنِ جسم دونوں میں لاحق تھی؛ چنانچہ جو تکلیف ظاہر میں تھی وہ غسل کرنے سے دور ہو گئی، اور جو باطن میں تھی وہ پانی پینے سے زائل ہو گئی، واللہ اعلم۔

پھر اللہ عزوجل کا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ارشاد ہے: ﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَا أَيُّوبَ﴾ (اور ہمارے بندے ایوب کا تذکرہ کیجیے)۔

یعنی: آپ ان کے صبر کا ذکر کیجیے کہ انواع و اقسام کی سختیوں اور مصائب کی صورت میں اللہ عزوجل کی طرف سے آنے والی آزمائش پر انہوں نے کیسا صبر فرمایا، پس جب آپ پر کوئی آزمائش آئے تو آپ بھی صبر کیجیے؛ اور اسی پر اس سورت میں مذکور تمام واقعات کی توجیہ ہوتی ہے، اور اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کے سامنے ان انبیاء پر آنے والی سختیوں کا ذکر کریں کہ انہوں نے اللہ کی خاطر ان پر کیسا صبر کیا، اور جن انبیاء کا امتحان اللہ نے فراخی اور بادشاہی کے ذریعے لیا، ان کے بارے میں فرماتا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے بیان کیجیے کہ انہوں نے اپنے رب کا کیسا شکر ادا کیا اور اس کی کیسی اطاعت کی، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ وَمِثْلَهُمْ مَعَهُمْ رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (اور ہم نے ان کو اہل و عیال اور ان کے ساتھ ان کے برابر اور بخشے۔ (یہ) ہماری طرف سے رحمت اور عقل والوں کے لئے نصیحت تھی)۔

اہلِ تاویل کا اس میں اختلاف ہے: بعض کا کہنا ہے کہ ﴿وَوَهَبْنَا لَهُ أَهْلَهُ﴾ کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے اہل و عیال اور مال میں سے جو ہلاک ہو چکے تھے اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ فرما دیا، اور اپنی طرف سے رحمت و فضل کے طور پر دنیا ہی میں ان کو ان کے مثل کے برابر مزید عطا فرما دیا۔

اور امام حسن بصری کا یہی قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل و عیال کو بعینہٖ زندہ فرما دیا اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور مزید عطا فرما دیے۔

اور بعض کا قول ہے: ان سے کہا گیا کہ اے ایوب! آپ کے اہل و عیال تو جنت میں ہیں، پس اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں آپ کے پاس (دنیا میں) واپس لے آئیں، اور اگر آپ چاہیں تو ہم انہیں آپ کے لیے جنت ہی میں رہنے دیں اور دنیا میں ان کے مثل آپ کو بدل عطا کر دیں؛ تو انہوں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ آپ انہیں جنت ہی میں رہنے دیجیے؛ چنانچہ انہیں ان کے لیے جنت ہی میں رہنے دیا گیا اور دنیا میں ان جیسے اور بدل عطا کر دیے گئے۔ اور اللہ کے لیے یہ بالکل جائز ہے کہ جسے چاہے موت کے بعد زندہ کر دے اور جسے چاہے اس پر جتنا چاہے اجر عطا فرمائے؛ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے اس کے فوراً بعد ارشاد فرمایا: ﴿رَحْمَةً مِنَّا وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾۔ اللہ کا یہ فرمان ﴿رَحْمَةً مِنَّا﴾ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ایوب سے تکلیف کو دور کرنا اور جو کچھ انہیں عطا کیا گیا وہ اللہ کی طرف سے محض رحمت، فضل اور انعام تھا؛ اللہ کے لیے یہ بھی جائز تھا کہ وہ ان سے تکلیف دور نہ فرماتا، اور نہ ان کے اہل و عیال انہیں واپس لوٹاتا اور نہ کوئی اضافہ فرماتا۔ اور یہ بات معتزلہ کے رد میں ہے؛ کیونکہ بات دو حال سے خالی نہیں: یا تو جو کچھ اللہ نے انہیں عطا فرمایا اور واپس لوٹایا وہی ان کے حق میں زیادہ بہتر اور مصلحت (اصلح) تھا، حالانکہ اللہ نے خبر دی ہے کہ یہ اس کی رحمت اور محض فضل تھا، اور اگر اللہ پر دین کے معاملے میں بندے کے لیے اصلح کی رعایت رکھنا واجب ہوتا تو معتزلہ کے موقف کے مطابق اسے نہ دینے اور روک لینے کی صورت میں اللہ نعوذ باللہ ظالم اور جور کرنے والا ٹھہرتا؛

یا پھر یہ صورت ہوتی کہ اسے روک رکھنا ان کے حق میں اصلح ہوتا مگر اللہ نے انہیں عطا فرما دیا اور جو ان کے حق میں اصلح تھا اسے چھوڑ دیا؛ پس اس سے ثابت ہوا کہ اللہ پر دین کے معاملے میں کسی کے لیے بھی 'اصلح' کی رعایت لازم و واجب نہیں ہے، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَذِكْرَى لِأُولِي الْأَلْبَابِ﴾ (اور عقل والوں کے لیے نصیحت ہے)۔

یعنی: یہ اس شخص کے لیے نصیحت اور عبرت ہے جو عقل سے فائدہ اٹھاتا ہے، تاکہ وہ یہ جان لے کہ (رزق یا حالات کی) تنگی کسی پر اللہ کی طرف سے ناراضی اور غضب کی وجہ سے نہیں ہوتی اور نہ ہی کشادگی اس کی طرف سے لازمی رضامندی کی علامت ہوتی ہے، بلکہ یہ دونوں آزمائشیں ہیں: وہ جسے چاہتا ہے سختی اور تکلیف کے ذریعے آزماتا ہے اور جسے چاہتا ہے وسعت اور خوشحالی کے ذریعے آزماتا ہے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِهِ وَلَا تَحْنَثْ إِنَّا وَجَدْنَاهُ صَابِرًا نِعْمَ الْعَبْدُ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾ (اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو۔ بےشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا۔ بہت خوب بندے تھے بےشک وہ رجوع کرنے والے تھے)۔