تفسير سورة الشعراء، الآيات 113–118
سورہ شعراء، آیات 113–118 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
أحدهما: يقول: لم أكن أعلم أن اللَّه يهديهم للإيمان والتوحيد من بينكم - يعني: الضعفاء - ويدعكم لا يهديكم.
ثم قال: (إِنْ حِسَابُهُمْ … (113) أي: ما جزاء الذين اتبعوني من الأراذل (إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ).
والثاني: (وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ)، أي: ما أنا بعالم بما يعملون هم في السر وما ذلك عليَّ، (إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ)، أي: حسابهم عليه فيما يعملون في السر؛ فهذا يدل أن التأويل الأخير أشبه وأقرب من الأول، وكان من أُولَئِكَ طعن في الذين آمنوا بأنهم يعملون في السر على خلاف ما أظهروا، حتى قال لهم ذلك.
وفي بعض القراءات: (لو يشعرون) بالياء، فهو راجع إلى المؤمنين الذين اتبعوه، يقول: حسابهم على اللَّه فيما يعملون في السر، أي: لو يشعرون ذلك ولا يعملون في السر خلاف، ما يعملون في العلانية، واللَّه أعلم.
وقوله: (وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ (114) قال أهل التأويل: إنهم سألوا نوحًا أن يطرد أُولَئِكَ الذين آمنوا به من الضعفاء؛ حتى يؤمنوا هم به، فقال عند ذلك: (وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ).
وجائز أن يكونوا طعنوا في الذين آمنوا أنهم قالوا ظاهرًا، وأما في السر فليسوا على ذلك، فقال نوح عن ذلك: وما أنا بطارد الذين آمنوا؛ يدل على ذلك قول نوح حيث قال: (وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا)، هذا القول منه يدل على أن كان منهم طعن في أُولَئِكَ الذي آمنوا به، حيث وكل أمرهم إلى اللَّه فقال: اللَّه أعلم بما في أنفسهم، واللَّه أعلم.
وقوله: (إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ (115) قد ذكرناه فيما تقدم في غير موضع.
وقوله: (قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ (116) المرجوم: هو المقتول بالحجارة، وهي أشد قتل؛ لذلك أوعدوه.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: لتكونن من المشتومين باللسان.
لكن الأول أقرب؛ لأنه قد كان منهم الشتم فلا يحتمل الوعيد به.
ثم دعا نوح عند ذلك فقال: (رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ (117) فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا … (118) أي: اقض
ان (دو مفہوموں) میں سے ایک یہ ہے کہ وہ فرماتے ہیں: مجھے یہ علم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے درمیان سے انہیں (یعنی کمزوروں کو) ایمان اور توحید کی ہدایت دے گا اور تمہیں چھوڑ دے گا کہ تمہیں ہدایت نہ دے۔
پھر فرمایا: إِنْ حِسَابُهُمْ (113) یعنی: جو پست لوگ میری پیروی کر رہے ہیں ان کا حساب (اور جزا) میرے رب کے سوا کسی اور پر نہیں ہے، اگر تم شعور رکھتے ہو۔
اور دوسرا مفہوم: وَمَا عِلْمِي بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، یعنی: میں اس سے واقف نہیں ہوں جو وہ خفیہ طور پر کرتے ہیں اور یہ میرے ذمہ نہیں ہے، إِنْ حِسَابُهُمْ إِلَّا عَلَى رَبِّي لَوْ تَشْعُرُونَ، یعنی: ان کے خفیہ اعمال کا حساب اللہ ہی پر ہے؛ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مؤخر الذکر (دوسرا) مفہوم پہلے کی نسبت زیادہ مناسب اور قریب تر ہے، کیونکہ ان (کفار) میں سے کچھ لوگوں نے ایمان لانے والوں پر یہ طعن کیا تھا کہ وہ خفیہ طور پر اس کے خلاف عمل کرتے ہیں جو انہوں نے ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ انہوں نے ان سے یہ بات کہی۔
اور بعض قراءتوں میں لو يشعرون یاء کے ساتھ ہے، تو یہ ان مومنین کی طرف راجع ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی، وہ فرماتے ہیں: ان کے خفیہ اعمال کا حساب اللہ پر ہے، یعنی: اگر وہ اس کا شعور رکھیں اور خفیہ طور پر وہ کام نہ کریں جو ان کے اعلانیہ اعمال کے خلاف ہو، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور ان کا فرمان: وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ (114) اہل تاویل کہتے ہیں: انہوں نے نوح علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کمزور لوگوں کو، جو ان پر ایمان لائے ہیں، نکال دیں تاکہ وہ (کفار) ان پر ایمان لائیں، تو اس پر انہوں نے فرمایا: وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِينَ۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے ایمان لانے والوں پر یہ طعن کیا ہو کہ انہوں نے ظاہری طور پر تو (ایمان کا) اقرار کیا ہے، لیکن خفیہ طور پر وہ اس پر نہیں ہیں، تو نوح علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا: میں ایمان لانے والوں کو نکالنے والا نہیں ہوں؛ اس بات پر نوح علیہ السلام کا یہ قول دلالت کرتا ہے جہاں انہوں نے فرمایا: وَلَا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ لَنْ يُؤْتِيَهُمُ اللَّهُ خَيْرًا، ان کا یہ قول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ان (کفار) کی طرف سے ان لوگوں پر طعن کیا گیا تھا جو ان پر ایمان لائے تھے، چنانچہ انہوں نے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا اور فرمایا: اللہ ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اسے بہتر جانتا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور ان کا فرمان: إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ (115) اس کا ذکر ہم پہلے کئی مقامات پر کر چکے ہیں۔
اور ان کا فرمان: قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا نُوحُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمَرْجُومِينَ (116) المرجوم: وہ ہے جسے پتھر مار کر قتل کیا جائے، اور یہ قتل کی شدید ترین صورت ہے؛ اسی لیے انہوں نے انہیں دھمکی دی۔
اور بعض نے کہا: اس کا مطلب ہے کہ تم زبان سے گالی دیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔
لیکن پہلا (مفہوم) زیادہ قریب ہے؛ کیونکہ ان کی طرف سے گالی گلوچ تو پہلے ہی ہو چکی تھی، لہذا اس کے ساتھ دھمکی کا کوئی محل نہیں بنتا۔
پھر اس موقع پر نوح علیہ السلام نے دعا کی اور فرمایا: رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَّبُونِ (117) فَافْتَحْ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا (118) یعنی: فیصلہ فرما