تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الدخان، الآيات 16–17

سورہ دخان، آیات 16–17 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 201

ص 201سورة الدخانالمتن العربي

وقَالَ بَعْضُهُمْ: أي: (إِنَّكُمْ عَائِدُونَ) إلى عذاب يوم القيامة، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ ‌‌(16).

قَالَ بَعْضُهُمْ: ذلك يوم بدر، وهو قول ابن مسعود رضي الله عنه وقول عامة أهل التأويل، وقالوا ذلك أشد من الدخان.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: هو عذاب يوم القيامة؛ وهو قول ابن عَبَّاسٍ والحسن، والله أعلم.

* * *

قوله تعالى: (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ ‌‌(17) أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ (18) وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ (19) وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ (20) وَإِنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ (21) فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ (22) فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ (23) وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا إِنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ (24) كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ (25) وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ (26) وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ (27) كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ (28) فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ (29) وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ (30) مِنْ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِنَ الْمُسْرِفِينَ (31) وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ (32) وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ (33)

وقوله عز وجل: (وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ) يقول - واللَّه أعلم -: ولقد فتنا قوم فرعون بموسى قبل قومك كما فتنا قومك بك.

أو يحتمل أن يقول: ولقد فتنا قوم فرعون بمثل الذي فتنا قومك.

ثم افتتان قوم فرعون بمثل الذي فتن قومه يخرج على وجوه:

أحدها: أن موسى عليه السلام قد أتاهم بالبينات المعجزات ما لم يقدر فرعون وقومه على مقابلة تلك الآيات، وعجزوا عن الإتيان بمثلها، فمهما أتاهم بذلك وعرفوا أنها آيات اللَّه - تعالى - كذبوها وردوها ونسبوا موسى إلى السحر والكذب والافتراء على اللَّه تعالى - فعلى ذلك عمل أهل مكة برسول اللَّه صلى الله عليه وسلم وعاملوه بالذي عامل أُولَئِكَ موسى من النسبة إلى السحر والجنون والكذب والافتراء على اللَّه - تعالى - واللَّه أعلم.

ص 201سورة الدخاناردو ترجمہ

اور بعض نے کہا: یعنی إِنَّكُمْ عَائِدُونَ کا مطلب ہے: تم قیامت کے دن کے عذاب کی طرف لوٹ جاؤ گے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ۔

بعض نے کہا: اس سے مراد یومِ بدر ہے، اور یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے اور عام اہلِ تاویل کا بھی یہی موقف ہے، اور انہوں نے کہا کہ یہ (عذاب) 'دخان' (دھوئیں) سے بھی زیادہ سخت ہے۔

اور بعض نے کہا: یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے؛ اور یہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حسن بصری کا قول ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا ارشاد: وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ وَجَاءَهُمْ رَسُولٌ كَرِيمٌ ۝١٧ أَنْ أَدُّوا إِلَيَّ عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ ۝١٨ وَأَنْ لَا تَعْلُوا عَلَى اللَّهِ إِنِّي آتِيكُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ ۝١٩ وَإِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَرَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ ۝٢٠ وَإِنْ لَمْ تُؤْمِنُوا لِي فَاعْتَزِلُونِ ۝٢١ فَدَعَا رَبَّهُ أَنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ مُجْرِمُونَ ۝٢٢ فَأَسْرِ بِعِبَادِي لَيْلًا إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ ۝٢٣ وَاتْرُكِ الْبَحْرَ رَهْوًا إِنَّهُمْ جُنْدٌ مُغْرَقُونَ ۝٢٤ كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۝٢٥ وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ ۝٢٦ وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ ۝٢٧ كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ ۝٢٨ فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَمَا كَانُوا مُنْظَرِينَ ۝٢٩ وَلَقَدِ نَجَّيْنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُهِينِ ۝٣٠ مِنْ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ كَانَ عَالِيًا مِنَ الْمُسْرِفِينَ ۝٣١ وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ ۝٣٢ وَآتَيْنَاهُمْ مِنَ الْآيَاتِ مَا فِيهِ بَلَاءٌ مُبِينٌ ۝٣٣

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: وَلَقَدْ فَتَنَّا قَبْلَهُمْ قَوْمَ فِرْعَوْنَ، فرماتے ہیں - اور اللہ بہتر جانتا ہے -: ہم نے آپ کی قوم سے پہلے فرعون کی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے آزمایا، جیسے ہم نے آپ کی قوم کو آپ کے ذریعے آزمایا۔

یا یہ احتمال ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو: اور ہم نے فرعون کی قوم کو اسی طرح آزمایا جس طرح ہم نے آپ کی قوم کو آزمایا۔

پھر فرعون کی قوم کا اس طرح آزمایا جانا جس طرح آپ کی قوم کو آزمایا گیا، کئی وجوہ پر محمول ہے:

ان میں سے پہلی وجہ یہ ہے: موسیٰ علیہ السلام ان کے پاس ایسی واضح نشانیاں اور معجزات لے کر آئے جن کا مقابلہ کرنے کی فرعون اور اس کی قوم میں طاقت نہ تھی، اور وہ ان جیسی (نشانیاں) لانے سے عاجز رہے، چنانچہ جب بھی وہ ان کے پاس یہ (نشانیاں) لاتے اور وہ جان لیتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، تو وہ انہیں جھٹلا دیتے، رد کر دیتے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو جادو، جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی سے منسوب کرتے۔ بالکل اسی طرح اہلِ مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاملہ کیا اور آپ کے ساتھ وہی رویہ اختیار کیا جو ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اختیار کیا تھا، یعنی آپ کو جادو، جنون، جھوٹ اور اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی سے منسوب کرنا۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔