تفسير سورة الأحقاف، الآيات 22–25
سورہ احقاف، آیات 22–25 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
عَلَيْكُمْ) حقيقة الخوف؛ لما لم ييئس من إيمانهم واتباعهم إياه؛ لذلك لم يقطع فيهم القول بنزول العذاب بهم، واللَّه أعلم.
ويحتمل أن يكون الخوف هو العلم حقيقة؛ أي: أعلم أن ينزل بكم عذاب يوم عظيم إن ختمتم على ما أنتم عليه، وقد يذكر الخوف في موضع العلم.
وقوله: (قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا … (22) أي: قالوا لهود عليه السلام: أجئتنا لتصرفنا عن عبادة آلهتنا.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: لتردنا عن عبادة آلهتنا.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: لتكذبنا في آلهتنا، والإفك: الكذب؛ وكله واحد.
وأصل الإفك: الصرف؛ كأنهم قالوا: أجئتنا لتصرفنا عن عبادة آلهتنا، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ) كانوا يقولون ذلك استهزاء به منهم، ولم يزل الكفرة يسألون ويستعجلون العذاب الذي كانوا يوعدون استهزاء منهم وتكذيبًا بما يوعدون، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ (23).
أجابهم هود عليه السلام أن العلم بنزول العذاب ووقته عند اللَّه، وأبلغكم ما أرسلت به من الدعاء إلى توحيد اللَّه - تعالى - والنهي عن عبادة غيره.
أو يقول: أبلغكم ما أمرت من التبليغ بنزول العذاب بكم، ولست أبلغكم أنه متى ينزل بكم؟ لما لم أومر به.
وقوله عز وجل: (وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ) دين اللَّه، أو تجهلون آيات الله وقبولها، أو تجهلون نعم اللَّه وإحسانه، أو تجهلون أمر اللَّه تعالى.
وقوله عز وجل: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ (24).
قَالَ بَعْضُهُمْ: العارض: السحاب، فقالوا: هذا سحاب ممطرنا، وكان حقيقة العارض الريح التي فيها عذاب أليم ظنوا أنها سحاب، ولم تكن سحابًا، ولكن كانت ريحًا، لكن من ذلك الجانب كان يأتيهم السحاب الممطر؛ لذلك، (قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا).
وقوله عز وجل: (بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ) كأن هودًا عليه السلام قال لهم: ليس هو بعارض ممطر، ولكن هو ما استعجلتم به من العذاب حيث: قلتم: (فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ) هو ريح فيها عذاب أليم.
ثم وصف تلك الريح فقال كما أخبر اللَّه - تعالى - بقوله عز وجل: (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا … (25) يخرج قوله: (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا) على وجهين:
عَلَيْكُمْ) سے حقیقتاً خوف (اور اندیشہ) مراد ہو سکتا ہے؛ کیونکہ آپ ان کے ایمان لانے اور اپنی پیروی کرنے سے مایوس نہیں ہوئے تھے، اسی لیے آپ نے ان کے حق میں عذاب نازل ہونے کا قطعی اور حتمی فیصلہ صادر نہیں فرمایا تھا، واللہ اعلم۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہاں خوف سے حقیقت میں علم مراد ہو؛ یعنی: مجھے پورا علم ہے کہ تم پر ایک بڑے دن کا عذاب نازل ہو کر رہے گا اگر تم اسی حالت پر قائم رہے جس پر تم ہو، اور بسا اوقات خوف کا ذکر علم کے مقام پر بھی کیا جاتا ہے۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: (قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَأْفِكَنَا عَنْ آلِهَتِنَا …) یعنی: انہوں نے حضرت ہود علیہ السلام سے کہا: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں ہمارے معبودوں کی عبادت سے پھیر دو؟
اور بعض اہلِ تاویل نے کہا: یعنی تاکہ تم ہمیں اپنے معبودوں کی عبادت سے باز رکھو۔
اور بعض نے کہا: تاکہ تم ہمارے معبودوں کے معاملے میں ہمیں جھٹلاؤ؛ اور "افک" کے معنی جھوٹ کے ہیں، اور یہ سب (معانی) ایک ہی ہیں۔
اور لفظِ "افک" کی اصل "صرف" (کسی چیز سے پھیر دینا اور موڑ دینا) ہے؛ گویا انہوں نے کہا: کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اپنے معبودوں کی بندگی سے موڑ دو؟ واللہ اعلم۔
اور اللہ عز وجل کا ارشاد: (فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ)، وہ یہ بات اپنی طرف سے ان کا تمسخر اڑانے اور استہزاء کے طور پر کہتے تھے، اور کفار کا ہمیشہ سے یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ جس عذاب کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا، استہزاء کرتے ہوئے اور اس کی تکذیب کی بنا پر اس کے جلد لانے کا مطالبہ کرتے تھے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عز وجل کا ارشاد: (قَالَ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللَّهِ وَأُبَلِّغُكُمْ مَا أُرْسِلْتُ بِهِ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ)۔
حضرت ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ عذاب کے نزول اور اس کے وقت کا علم تو صرف اللہ ہی کے پاس ہے، اور میں تو تمہیں وہی پیغام پہنچا رہا ہوں جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت اور اس کے غیر کی عبادت سے ممانعت۔
یا آپ کا یہ فرمانا مراد ہے کہ: میں تو تمہیں صرف وہی بات پہنچا رہا ہوں جس کی تبلیغ کا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ تم پر عذاب نازل ہوگا، مگر میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ تم پر کب نازل ہوگا؟ کیونکہ مجھے اس کے وقت کے بتانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اور اللہ عز وجل کا ارشاد: (وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ)، یعنی تم اللہ کے دین سے جاہل ہو، یا اللہ کی نشانیوں اور ان کی قبولیت سے ناواقف ہو، یا اللہ کی نعمتوں اور اس کے احسانات سے بے خبر ہو، یا اللہ تعالیٰ کے حکم سے جہالت برت رہے ہو۔
اور اللہ عز وجل کا ارشاد: (فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ)۔
بعض مفسرین نے فرمایا: "عارض" سے مراد بادل ہے، پس انہوں نے کہا: یہ تو ایسا بادل ہے جو ہم پر بارش برسانے والا ہے، حالانکہ درحقیقت وہ عارض ایسی آندھی تھی جس میں دردناک عذاب تھا، وہ اسے بادل سمجھے جبکہ وہ بادل نہ تھا بلکہ وہ سخت آندھی تھی؛ لیکن چونکہ بارش برسانے والے بادل اسی سمت سے ان کے پاس آیا کرتے تھے، اسی لیے (قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا) (انہوں نے کہا: یہ بادل ہم پر برسنے والا ہے)۔
اور اللہ عز وجل کا ارشاد: (بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ)، گویا حضرت ہود علیہ السلام نے ان سے فرمایا: یہ بارش برسانے والا بادل نہیں ہے، بلکہ یہ وہی عذاب ہے جس کی تم جلدی مچا رہے تھے جب تم نے کہا تھا: (فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ)، یہ ایسی ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے۔
پھر اس ہوا کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ارشادِ گرامی کے ذریعے خبر دی ہے: (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا …)، اللہ کا فرمان (تُدَمِّرُ كُلَّ شَيْءٍ بِأَمْرِ رَبِّهَا) دو وجوہ پر محمول ہوتا ہے: