تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة محمد، الآيات 6–9

سورہ محمد، آیات 6–9 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 267

ص 267سورة محمدالمتن العربي

وقوله عز وجل: (وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ ‌‌(6) قَالَ بَعْضُهُمْ: أي: يدخلهم أن جنة التي بينها لهم في الدنيا ووصفها.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: عرفها لهم في الآخرة حتى يعرف كل منزله وأهله من غير أعلام وأدلة جعلت لهم، كما يعرف كل أحد في الدنيا منزله وأهله وخدمه، واللَّه أعلم.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: (عَرَّفَهَا لَهُمْ) أي: طيبها لهم؛ يقال: فلان معرف، أي: مطيب، وطعام معرف، أي: مطيب؛ وهو قول الْقُتَبِيّ.

وقوله عز وجل: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ ‌‌(7) أي: إن تنصروا دين الله ينصركم.

أو إن تنصروا أولياء اللَّه ينصركم على أعدائكم.

ثم نصرنا دين اللَّه وأولياءه يكون مرة بالأنفس والأموال ببذلها في سبيله لابتغاء وجهه.

والثاني: يكون نصرًا بالحجج والبراهين بإقامتها عليهم بما أمرنا من إقامة الحجج والآيات.

ثم يكون نصر اللَّه إيانا من وجهين:

أحدهما: ينصرنا على أعدائه بما يغلبهم ويقهرهم، لكن إن كان هذا، فيكون في حال دون حال، وفي وقت دون وقت، لا في كل الأحوال.

والثاني: يكون نصره إيانا بما يجعل العاقبة لنا، وإن كنا غلبنا وقهرنا في بعض الحروب والقتال، وكانوا هم الغالبين علينا، قاهرين لنا، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ).

يحتمل في الحروب والقتال، أو يثبت أقدامهم في الآخرة؛ كي لا تزول، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ ‌‌(8) أي: هلاكًا لهم.

وقيل: أي: محنة عند الهزيمة والقتل.

وجائز أن يكون أريد به الهلاك، وأصل التعس هو العثور والسقوط، وهو الهلاك، فيرجع إلى ما ذكرنا، واللَّه أعلم.

وقوله عز وجل: (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ ‌‌(9) أي: ذلك الذي ذكر لهم من التعس والهلاك وإبطال الأعمال بأنهم تركوا اتباع ما أنزل اللَّه على رسوله؛ إذ كل من ترك اتباع شيء اعتقادًا، فقد كرهه، واللَّه أعلم.

ص 267سورة محمداردو ترجمہ

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ) بعض اہلِ تاویل نے فرمایا: یعنی وہ انہیں اس جنت میں داخل فرمائے گا جسے اس نے دنیا میں ان کے سامنے واضح طور پر بیان فرمایا اور اس کے اوصاف بیان کیے۔

اور بعض مفسرین نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے اس (جنت کے منازل) کی ایسی پہچان کرا دی کہ ہر شخص اپنے ٹھکانے اور اپنے اہل و عیال کو بغیر کسی نشانی اور راہنمائی کے ازخود پہچان لے گا، جس طرح دنیا میں ہر شخص اپنے گھر، اپنے اہلِ خانہ اور اپنے خادموں کو پہچانتا ہے، واللہ اعلم۔

اور بعض نے کہا: (عَرَّفَهَا لَهُمْ) یعنی اس نے ان کے لیے اس (جنت) کو پاکیزہ اور خوشبودار بنا دیا؛ عربی میں کہا جاتا ہے: فُلانٌ مُعَرَّفٌ یعنی فلاں معطر و خوشبودار ہے، اور طَعَامٌ مُعَرَّفٌ یعنی خوشبودار کھانا؛ اور یہ امام قتیبی (ابن قتیبہ) کا قول ہے۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَنْصُرُوا اللَّهَ يَنْصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ) یعنی اگر تم اللہ کے دین کی نصرت و مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد فرمائے گا۔

یا (مطلب یہ ہے کہ) اگر تم اللہ کے اولیاء و دوستوں کی نصرت کرو گے تو وہ تمہارے دشمنوں کے خلاف تمہاری مدد فرمائے گا۔

پھر اللہ کے دین اور اس کے اولیاء کی ہماری طرف سے نصرت کبھی جانوں اور مالوں کے ذریعے ہوتی ہے کہ انہیں اللہ کی رضا جوئی کی خاطر اس کی راہ میں نچھاور کیا جائے۔

اور دوسرا طریقہ دلائل و براہین کے ذریعے نصرت کا ہے، یعنی مخالفین کے مقابلے میں ان دلائل اور آیات کو قائم کر کے جن کے قائم کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہماری نصرت و مدد کی بھی دو صورتیں ہیں:

ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں پر ہمیں غلبہ اور تسلط دے کر ہماری مدد فرمائے؛ لیکن اگر یہ صورت ہو تو یہ کسی خاص حال میں ہوتی ہے نہ کہ ہر حال میں، اور کسی مخصوص وقت میں ہوتی ہے نہ کہ ہر وقت۔

اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس کی نصرت ہمارے لیے اس طور پر ہو کہ وہ انجام کار (حسنِ عاقبت اور اخروی کامیابی) ہمارے ہی حق میں فرما دے، اگرچہ بعض جنگوں اور معرکوں میں وقتی طور پر ہم مغلوب و مقہور ہو جائیں اور دشمن ہم پر غالب اور مسلط دکھائی دیں، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ)۔

اس میں احتمال ہے کہ اس سے مراد جنگوں اور معرکۂ قتال میں ثابت قدم رکھنا ہو، یا یہ کہ وہ آخرت میں ان کے قدموں کو جمائے رکھے گا تاکہ وہ ڈگمگانے نہ پائیں، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (وَالَّذِينَ كَفَرُوا فَتَعْسًا لَهُمْ وَأَضَلَّ أَعْمَالَهُمْ) یعنی ان کے لیے ہلاکت و بربادی ہو۔

اور ایک قول یہ ہے کہ یعنی شکست اور قتل کے وقت ان کے لیے سخت آزمائش و رسوائی ہو۔

اور یہ بھی جائز ہے کہ اس سے ہلاکت ہی مراد ہو؛ کیونکہ لفظِ "تعس" کی اصل ٹھوکر کھانا اور اوندھے منہ گرنا ہے، جو کہ ہلاکت ہی کا مفہوم دیتا ہے، پس یہ بات اسی مفہوم کی طرف لوٹتی ہے جو ہم نے ذکر کی، واللہ اعلم۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: (ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ) یعنی ان کے لیے یہ جو ٹھوکر، ہلاکت اور اعمال کی بربادی کا ذکر کیا گیا ہے، یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے اس وحی کی پیروی ترک کر دی جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائی؛ کیونکہ جو شخص بھی کسی چیز کی اتباع اعتقادی طور پر ترک کر دے تو گویا اس نے اسے ناپسند کیا، واللہ اعلم۔