تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الفتح، الآيات 17–18

سورہ فتح، آیات 17–18 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 305

ص 305سورة الفتحالمتن العربي

وهم بنو حنيفة، دعاهم أبو بكر الصديق رضي الله عنه لكن لو كان ما قال أهل التأويل أن قوله - تعالى -: (فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا)، نزل في غزوة تبوك، وهي بعد يوم حنين، فيكون ما قاله قتادة محتملا، واللَّه أعلم.

أو أن يكون قوله: (وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا)، في قوم خاص، وهو ما قال: (اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ)، أي: أهل الغناء والثروة، إنما قال ذلك لأولي الطول الذين استأذنوه القعود مع القاعدين، واللَّه أعلم.

ويحتمل قوله - تعالى -: (سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ) في أهل فارس والروم؛ على ما قال الحسن، وذلك إنما فتح في زمن عمر، رضي الله عنه.

وقوله عز وجل: (تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ)، ومن قرأها: (تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُوا) وبالألف فيكون تأويله: تقاتلونهم حتى يسلموا.

وقوله عز وجل: (فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا) أي: إن تطيعوا فيما دعيتم إلى الجهاد يؤتكم اللَّه أجرًا حسنًا، ذكر أنه يؤتيهم أجرًا حسنًا؛ لأن توبتهم تكون فيما كان كفرهم وكان نفاقهم إنما ظهر بتخلفهم عن الجهاد، فعلى ذلك تكون توبتهم في تحقيق الجهاد.

وقوله: (وَإِنْ تَتَوَلَّوْا) وفيما دعيتم إليه (كَمَا تَوَلَّيْتُمْ) عن الحديبية وغيره (يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا).

ثم عذر أهل العذر منهم بقوله - تعالى -: (لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ … ‌‌(17) كما عذر أهل العذر من المؤمنين بقوله: (لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ. . .) الآية.

وقوله عز وجل: (وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَنْ يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا)؛ لأنهم إذا تولوا عادوا إلى ما كانوا.

* * *

قوله تعالى: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ‌‌(18) وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (19) وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (20) وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا (21) وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا (22) سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا (23).

وقوله عز وجل: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ) يحتمل قوله: (لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ) لما عزموا على الوفاء على ما بايعوا رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم -

ص 305سورة الفتحاردو ترجمہ

اور وہ بنو حنیفہ ہیں جن کے خلاف قتال کے لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا تھا۔ لیکن اگر اہلِ تاویل کا یہ قول سامنے رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا﴾ غزوۂ تبوک کے موقع پر نازل ہوا تھا، اور وہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے، تو پھر قتادہ کا قول بھی محتمل ہو سکتا ہے، واللہ اعلم۔

یا پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا﴾ کسی خاص گروہ کے حق میں ہو، جیسا کہ فرمایا: ﴿اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ﴾ یعنی مالدار اور صاحبِ ثروت لوگ؛ پس آپ ﷺ نے یہ بات خاص طور پر انہی صاحبِ استطاعت منافقین کے لیے فرمائی تھی جنہوں نے آپ ﷺ سے پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ بیٹھے رہنے کی اجازت مانگی تھی، واللہ اعلم۔

اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿سَتُدْعَوْنَ إِلَى قَوْمٍ أُولِي بَأْسٍ شَدِيدٍ﴾ میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد اہل فارس اور اہل روم ہوں، جیسا کہ حسن بصری نے کہا ہے؛ اور ان دونوں کی فتوحات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ہوئیں۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُونَ﴾ (تم ان سے لڑتے رہو گے یا وہ اسلام لے آئیں گے)؛ اور جس نے اسے ﴿تُقَاتِلُونَهُمْ أَوْ يُسْلِمُوا﴾ الف کے ساتھ (یعنی نون کو حذف کر کے) پڑھا ہے تو اس کی تاویل یہ ہوگی کہ: تم ان سے قتال کرتے رہو گے یہاں تک کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔

اور اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿فَإِنْ تُطِيعُوا يُؤْتِكُمُ اللَّهُ أَجْرًا حَسَنًا﴾ یعنی اگر تم اس جہاد کے معاملے میں اطاعت کرو گے جس کی طرف تمہیں بلایا گیا ہے تو اللہ تمہیں بہترین اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر فرمایا کہ وہ انہیں بہترین اجر دے گا، اس لیے کہ ان کی توبہ اسی عمل میں ہو سکتی ہے جس میں ان کا کفر و نفاق ظاہر ہوا تھا، اور چونکہ ان کا نفاق جہاد سے پیچھے رہ جانے کے سبب ظاہر ہوا تھا، اس لیے ان کی توبہ بھی جہاد کو عملی طور پر بجا لانے ہی میں ہو گی۔

اور اللہ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِنْ تَتَوَلَّوْا﴾ اور اگر تم اس فریضے سے منہ موڑو گے جس کی طرف تمہیں بلایا گیا ہے، ﴿كَمَا تَوَلَّيْتُمْ﴾ جیسے تم حدیبیہ اور دیگر مواقع پر روگردانی کر کے پیچھے رہ گئے تھے، ﴿يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے معذور افراد کا عذر اپنے اس ارشاد کے ذریعے قبول فرمایا: ﴿لَيْسَ عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَلَا عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ...﴾ (نہ اندھے پر کوئی گناہ ہے، نہ لنگڑے پر کوئی تنگی ہے اور نہ بیمار پر کوئی مواخذہ ہے)؛ جیسا کہ مؤمنین میں سے معذور لوگوں کا عذر اپنے اس فرمان کے ذریعے قبول فرمایا تھا: ﴿لَيْسَ عَلَى الضُّعَفَاءِ وَلَا عَلَى الْمَرْضَى وَلَا عَلَى الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ مَا يُنْفِقُونَ حَرَجٌ...﴾ الآیہ۔

اور اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ وَمَنْ يَتَوَلَّ يُعَذِّبْهُ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ (اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ اسے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور جو روگردانی کرے گا وہ اسے دردناک عذاب دے گا)؛ اس لیے کہ اگر وہ منہ موڑیں گے تو اپنی اسی سابقہ حالت پر لوٹ جائیں گے۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا ۝١٨ وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ۝١٩ وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنْكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا ۝٢٠ وَأُخْرَى لَمْ تَقْدِرُوا عَلَيْهَا قَدْ أَحَاطَ اللَّهُ بِهَا وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرًا ۝٢١ وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ۝٢٢ سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا﴾

اور اللہ عزوجل کے ارشاد: ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ میں یہ احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ اس لیے ہو کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جس بات پر بیعت کی تھی اس پر وفا کرنے کا پختہ عزم کیا تھا