تفسير سورة الفتح، الآيات 19–23
سورہ فتح، آیات 19–23 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
منهم من صرف الفتح القريب المذكور في الآية إلى فتح خيبر، وإِلَى مغانم خيبر حين بشروا بالحديبية بفتح خيبر، وجعل المغانم لهم مكان ما منعوا من دخول مكة وحيل بينهم وبين ما قصدوا، أو في الطريق بعد منصرفهم من الحديبية على ما ذكر في القصة، والله أعلم.
ومنهم من صرف الفتح إلى مكة؛ لأنه ذكر في القصة أنهم بشروا في الطريق بعد انصرافهم من الحديبية بفتح مكة، ويكون قوله: (وَأَثَابَهُمْ) على هذا التأويل بمعنى: ويثيبهم، وذلك جائز في اللغة: فعل بمعنى: يفعل، كقوله عز وجل: (وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ. . .)، كذا، يعني: يقول له، وقوله - تعالى -: (وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (19) على هذا ينصرف إلى غيره من المغانم؛ لأنه لم يكن بمكة غنائم، واللَّه أعلم.
ومنهم من قال: (وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا) الفتوح كلها التي كانت لرسول اللَّه صلى الله عليه وسلم ولأمته، وكذلك قوله: (وَمَغَانِمَ).
وجائز أن يكون الكفرة جملة، أي: لو قاتلوكم لولوا الأدبار، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ … (23) ما سن في كل أمة من هلاك، لم يجعل ذلك الهلاك في غيرها من الأمم؛ نحو ما جعل هلاك قوم نوح الغرق، وكذلك قوم فرعون، وكذلك جعل هلاك عاد بريح صرصر، وثمود بالطاغية؛ جعل اللَّه - تعالى - هلاك كل أمة بنوع لم يجعل ذلك لغيرها؛ يقول: لم يكن لذلك تبديل إلى غيره.
وجائز أن يكون قوله: (سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ) أي: جعل عاقبة الأمر للمؤمنين.
وقوله عز وجل: (وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا) في أمتك، ولكن جعل عاقبة الأمر لهم كما جعل عاقبة الأمر في سائر الأمم للمؤمنين.
* * *
قوله تعالى: (وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (24) هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ لِيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا (25) إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (26) لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ
ان میں سے بعض نے آیت میں مذکور فتحِ قریب اور کثیر غنائم کو فتحِ خیبر اور غنائمِ خیبر پر محمول کیا ہے، جب انہیں حدیبیہ کے مقام پر فتحِ خیبر کی بشارت دی گئی تھی؛ اور مکہ میں داخلے سے روکے جانے اور ان کے مقصود کے درمیان حائل ہونے کے بدلے میں ان کے لیے یہ غنائم مقرر فرمائے گئے، یا حدیبیہ سے واپسی پر راستے میں یہ بشارت دی گئی جیسا کہ واقعے میں مذکور ہے، واللہ اعلم۔
اور بعض مفسرین نے اس فتح کو فتحِ مکہ پر محمول کیا ہے؛ کیونکہ واقعے کے بیان میں یہ ذکر موجود ہے کہ حدیبیہ سے واپسی کے دوران راستے میں انہیں فتحِ مکہ کی بشارت دی گئی تھی، اور اس تاویل کی بنا پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَأَثَابَهُمْ﴾ دراصل "ويثيبهم" (اور وہ انہیں بدلے میں نوازے گا) کے معنی میں ہوگا، اور عربی لغت میں یہ اسلوب بالکل جائز ہے کہ فعلِ ماضی فعلِ مضارع کے معنی میں مستعمل ہو، جیسا کہ اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ...﴾، یعنی اللہ ان سے فرمائے گا؛ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾ اس تاویل کے مطابق مکہ کے علاوہ دیگر غنائم پر محمول ہوگا، کیونکہ فتحِ مکہ کے موقع پر کوئی غنائم نہیں تھے، واللہ اعلم۔
اور بعض نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ﴿وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا﴾ سے مراد وہ تمام فتوحات ہیں جو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کے مقدر میں آئیں، اور اسی طرح اللہ کا ارشاد: ﴿وَمَغَانِمَ﴾ بھی ان تمام غنائم پر محیط ہے۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ اس سے مراد تمام کفار ہوں، یعنی: اگر وہ سب تم سے جنگ کرتے تو پیٹھ پھیر کر راہِ فرار اختیار کرتے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ...﴾ یعنی اللہ نے ہر امت کے لیے ہلاکت کا جو طریقہ مقرر فرمایا، وہ ہلاکت دوسری امتوں میں ویسے واقع نہیں کی؛ جیسا کہ قومِ نوح کی ہلاکت غرقابی کے ذریعے کی، اور اسی طرح فرعون کی قوم کو غرق کیا، اور قومِ عاد کی ہلاکت شدید تند و تیز آندھی کے ذریعے اور قومِ ثمود کی ہلاکت دہشت ناک چنگھاڑ کے ذریعے فرمائی؛ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر امت کی ہلاکت کی ایک ایسی نوع مقرر فرمائی جو دوسری امت کے لیے نہیں رکھی؛ فرماتا ہے کہ اس مقررہ ضابطے اور سنتِ الٰہی میں کسی دوسری صورت سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
اور یہ بھی جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ﴾ سے مراد یہ ہو کہ اللہ نے انجامِ کار ہمیشہ اہلِ ایمان ہی کے حق میں رکھا ہے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا﴾ یعنی آپ کی امت کے حق میں بھی اللہ کی اس سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائیں گے، بلکہ اللہ نے ان کے لیے انجامِ کار کو غلبہ و نصرت بنایا ہے جیسا کہ اس نے تمام سابقہ امتوں میں بھی انجامِ کار اہلِ ایمان ہی کے حق میں رکھا تھا۔
* * *
اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ٢٤ هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ لِيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ٢٥ إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَى وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ٢٦ لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ﴾