تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تتمة تفسير سورة الفتح، الآية 29

سورہ فتح، آیت 29 کی تفسیر (جاری)، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 319

ص 319سورة الفتحالمتن العربي

وقوله عز وجل: (ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ) يحتمل وجوهًا:

أحدها: أي: شبههم في التوراة والإنجيل الآحاد والأفراد منهم المختارون من بين غيرهم الذين يعظمونهم الأتباع والملوك ويحلونهم، فما بالكم لا تعظمون أنتم هَؤُلَاءِ ولا تتبعونهم كاولئك، واللَّه أعلم.

والثاني: يحتمل: (ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ) أي: ذلك نعتهم ووصفهم في التوراة والإنجيل؛ أي: على ذلك نعتوا ووصفوا في التوراة والإنجيل، وقد عرفتم ذلك، فهلا اتبعتموهم إذا نعتوا ووصفوا في القرآن.

وقَالَ بَعْضُهُمْ: قوله: (ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ) مقطوع مقصود، وهو ما تقدم من قوله: (وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ. . .) إلى قوله: (مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ)، ثم ابتدأ فقال: (وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ. . .) الآية، وهذا يحتمل ووجه حسن، وعلى التأويلين الأولين ما ذكرنا من وصفهم، كأنه في التوراة والإنجيل جميعًا، ثم نعتهم - أيضًا - بقوله - تعالى -: (كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ)، واللَّه أعلم.

ثم ذكر نعت أصحابه رضي الله عنهم في هذه الآية، ولم يذكر نعت رسوله صلى الله عليه وسلم، وإِنَّمَا ذكر نعته في آية أخرى، وهو قوله - تعالى -: (النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ. . .) الآية، ذكر نعته وصفته في الآية صلى الله عليه وسلم ونعت أصحابه رضي الله عنهم في هذه السورة، واللَّه أعلم.

ثم قوله عز وجل: (ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ. . .) الآية دلالة الرسالة؛ لأنه أخبر أن نعتهم في الكتب المتقدمة كما ذكر في القرآن، ثم لم يقل أحد من أهل الكتب المتقدمة: أن ليس ذلك نعتهم أو شبههم في تلك الكتب، ثبت أنه بالله عرف، ولا قوة إلا باللَّه.

ثم قوله عز وجل: (كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ. . .) الآية، شبههم بالزرع الذي ذكر - واللَّه أعلم - لأنهم أحيوا سنن الدِّين وشرائعه التي كانت من قبل بعدما درست، وانقطع أثرها؛ لأنه لم يكن فيما بين عيسى ومُحَمَّد - عليهما الصلاة والسلام - رسول فقد انقرض ذلك واندرس، ثم جاء مُحَمَّد - عليه أفضل الصلوات وأكمل التحيات - بعد دروس ذلك وانقراضه كالزرع الذي يخرج وحده، وهو النبت الواحد في أول ما يخرج، فأعانه أصحابه وآزروه كانوا إليه كالخلفة التي تنبت حول الساق تؤازر الخلفة والنبت، فأما (شَطْأَهُ) فقيل: هو مُحَمَّد صلى الله عليه وسلم خرج وحده كما خرج أول النبت وحده، وأما الوالية التي تنبت حول الشطأة فاجتمعت، فهم المؤمنون كانوا في

ص 319سورة الفتحاردو ترجمہ

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ﴾ (تورات میں ان کی یہ مثال ہے اور انجیل میں ان کی مثال...) متعدد وجوہ کا احتمال رکھتا ہے:

پہلی وجہ: یعنی تورات اور انجیل میں ان کی شباہت و مثال ان مخصوص و برگزیدہ افراد جیسی ہے جنہیں دیگر تمام لوگوں میں سے منتخب کر لیا گیا تھا، جن کی تعظیم و توقیر پیروکار اور بادشاہ کیا کرتے تھے اور انہیں بلند مرتبہ دیتے تھے؛ پس تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم ان (صحابہ کرام) کی تعظیم نہیں کرتے اور ان کی ویسے پیروی نہیں کرتے جیسے وہ لوگ ان کی کیا کرتے تھے، واللہ اعلم۔

دوسری وجہ: یہ احتمال ہے کہ ﴿ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ﴾ سے مراد یہ ہو کہ تورات اور انجیل میں ان کی صفت و تعریف یہی ہے؛ یعنی تورات اور انجیل میں ان کے اوصاف اسی طرح بیان کیے گئے تھے، اور تم اس بات سے بخوبی واقف ہو چکے ہو، تو پھر جب قرآن میں ان کی یہ صفت و ثنا بیان کی گئی تو تم نے ان کی پیروی کیوں نہ کی؟

اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ﴾ کلامِ تام (وقف) ہے جس کا مقصود وہ تمام اوصاف ہیں جو پچھلی عبارت ﴿وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ...﴾ سے لے کر ﴿مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ﴾ تک گزرے، پھر نیا جملہ شروع کر کے فرمایا: ﴿وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ...﴾ الآیۃ؛ اور یہ بھی ایک ممکن اور عمدہ توجیہ ہے۔ جبکہ پہلی دونوں تاویلات کی رو سے وہ تمام اوصاف جو ہم نے ذکر کیے ہیں، گویا تورات اور انجیل دونوں میں یکساں طور پر مذکور ہیں، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ﴾ کے ذریعے مزید ان کی صفت بیان فرمائی ہے، واللہ اعلم۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیتِ مبارکہ میں آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کا تذکرہ نہیں فرمایا، آپ کا وصف تو ایک دوسری آیت میں بیان فرمایا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ...﴾ الآیۃ، چنانچہ اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف و کمالات کا ذکر فرمایا اور اس سورت میں آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کی صفات کا بیان فرمایا، واللہ اعلم۔

پھر اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿ذَلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنْجِيلِ...﴾ الآیۃ نبوت و رسالت کی واضح دلیل ہے؛ کیونکہ آپ نے خبر دی کہ سابقہ آسمانی کتابوں میں ان کے اوصاف بالکل ویسے ہی ہیں جیسے قرآن میں مذکور ہیں، پھر سابقہ کتب کے ماننے والوں میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ان کتابوں میں ان کی یہ صفت یا مثال موجود نہیں ہے، پس ثابت ہو گیا کہ آپ نے یہ سب اللہ کی دی ہوئی وحی و معرفت سے جانا، اور نیکی کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔

پھر اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَى عَلَى سُوقِهِ...﴾ الآیۃ، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مذکورہ کھیتی سے تشبیہ دی — واللہ اعلم — اس لیے کہ انہوں نے دین کے ان طور طریقوں اور شریعتوں کو، جو پہلے سے موجود تھیں، ان کے مٹ جانے اور ان کے آثار منقطع ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا؛ کیونکہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد علیہما الصلاۃ والسلام کے درمیانی زمانے میں کوئی رسول مبعوث نہیں ہوا تھا چنانچہ وہ احکام ناپید اور مفقود ہو چکے تھے، پھر ان کے مٹنے اور مفقود ہونے کے بعد حضرت محمد — علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات — اس کھیتی کی مانند تشریف لائے جو اکیلی اگتی ہے، یعنی نکلتے وقت ایک اکیلا پودا ہوتا ہے، پس آپ کے صحابہ نے آپ کی نصرت و مدد کی اور آپ کو تقویت پہنچائی، وہ آپ کے ساتھ ایسے تھے جیسے وہ کونپلیں اور شاخیں جو تنے کے گرد اگ کر اصل پودے اور کونپل کو سہارا دیتی ہیں، بہرحال ﴿شَطْأَهُ﴾ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے مراد خود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ابتدا میں اکیلے ظاہر ہوئے جس طرح پودے کی پہلی کونپل تنہا نکلتی ہے، اور رہیں وہ شاخیں جو کونپل کے اردگرد اگتی ہیں اور باہم مجتمع ہو جاتی ہیں تو وہ اہلِ ایمان ہیں جو