تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الحجرات، الآيات 5–6

سورہ حجرات، آیات 5–6 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 326

ص 326سورة الحجراتالمتن العربي

وقَالَ بَعْضُهُمْ: كان النبي صلى الله عليه وسلم سبى ذراري بني تميم ونساءهم، فأتوا يطلبون منه تخلية سبيل أُولَئِكَ وإعتاقهم وردهم إليهم، فنادوه من وراء حجرات، فأعتق بعضهم، وفدى بعضًا؛ فنزلت الآية.

وقوله: (أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ). وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ … ‌‌(5) لأن ذلك أعظم لقدره، وأجل لمنزلته، وأعرف لحقه، وأحفظ لحرمته.

ثم قوله: (أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ) يحتمل وجوهًا:

أكثرهم لا يعرفون قدره ومنزلته، وإن كان قليل منهم يعرفون ذلك، وهم المؤمنون.

والثاني: أكثرهم لا ينتفعون بما يعقلون.

والثالث: أكثرهم لا يعقلون أنه رسوله، وهم الأتباع والسفلة من الكفرة، وإنما يعرف القليل منهم، وهم الرؤساء المعاندون.

وفي هذه الآية وفي قوله - تعالى -: (أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ) دلالة أن قد يلحق المرء حكم الكفر ويحبط العمل إذا خرج مخرج الاستخفاف وإن لم يعلم به ولم يقصد، واللَّه أعلم.

* * *

قوله تعالى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ‌‌(6) وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ (7) فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (8) وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (9) إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (10).

وقوله عز وجل: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا) جميع أهل التأويل أو عامتهم على أن الآية نزلت في الوليد بن عقبة بن أبي معيط، بعثه رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم إلى بني المصطلق، وإلى قوم سواهم؛ لجباية الصدقات، وكان بينه وبين أُولَئِكَ القوم عداوة في الجاهلية، فخرجوا يتلقونه، فخافهم، فرجع، فقال: إن القوم قد منعوا الصدقات، فبعث رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم إليهم بعد ذلك خالد بن الوليد لجباية الصدقات، فوجدهم يصلون ويعملون الطاعات، واجتمعوا وجمعوا له الصدقات وجبوها وسلموها إليه، فرجع إلى رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم بها، فنزل قوله - تعالى -: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ

ص 326سورة الحجراتاردو ترجمہ

اور بعض مفسرین نے کہا کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو تمیم کے بچوں اور ان کی عورتوں کو قیدی بنا لیا تھا، چنانچہ وہ آپ کے پاس ان کی رہائی، انہیں آزاد کرنے اور اپنے پاس واپس لوٹانے کا مطالبہ لے کر آئے، اور انہوں نے حجروں کے پیچھے سے آپ کو پکارا؛ پس آپ نے ان میں سے بعض کو آزاد فرما دیا اور بعض سے فدیہ لے لیا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ۝٤ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ﴾ (ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کی طرف نکل آتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا) کیونکہ یہ بات آپ کی عظیم قدر، بلند مرتبے، آپ کے حق کی مکمل پہچان اور آپ کی حرمت کی کامل پاسداری کے زیادہ لائق ہوتی۔

پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ﴾ (ان میں سے اکثر عقل نہیں رکھتے) میں متعدد احتمالات ہیں:

ان میں سے اکثر لوگ آپ کی قدر و منزلت کو نہیں پہچانتے، اگرچہ ان میں سے قلیل تعداد اس سے واقف ہے اور وہ اہلِ ایمان ہیں۔

اور دوسرا احتمال یہ کہ: ان میں سے اکثر لوگ اپنی عقل سے نفع نہیں اٹھاتے۔

اور تیسرا احتمال یہ کہ: ان میں سے اکثر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ کافروں کے پیروکار اور نچلا طبقہ ہیں، جبکہ ان میں سے تھوڑے لوگ ہی (حقیقت کو) جانتے ہیں اور وہ ہٹ دھرم سردار ہیں۔

اور اس آیت میں اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾ (مبادا تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تمہیں شعور بھی نہ ہو) میں اس بات کی دلیل ہے کہ انسان پر کفر کا حکم لاحق ہو سکتا ہے اور اس کا عمل باطل و برباد ہو سکتا ہے اگر اس کا کلام یا عمل توہین و تحقیر کے طور پر صادر ہو، اگرچہ اسے اس کا علم نہ ہو اور نہ ہی اس کا ارادہ ہو، واللہ اعلم۔

* * *

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ۝٦ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُولَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ۝٧ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۝٨ وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ۝٩ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ﴾

اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾ تمام اہلِ تاویل یا ان کی اکثریت اس پر متفق ہے کہ یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق اور ان کے علاوہ ایک دوسری قوم کی طرف صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، اور جاہلیت میں ان کے اور اس قوم کے درمیان دشمنی تھی؛ چنانچہ وہ ان کے استقبال کے لیے نکلے تو یہ ان سے خوف زدہ ہو کر واپس لوٹ آئے اور کہا: اس قوم نے صدقات دینے سے انکار کر دیا ہے، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف خالد بن ولید کو صدقات وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو انہوں نے ان کو نماز پڑھتے اور اطاعت کے کام کرتے پایا، اور وہ جمع ہوئے اور انہوں نے خالد کے لیے صدقات اکٹھے کیے، وصول کروائے اور ان کے سپرد کر دیے؛ چنانچہ وہ یہ صدقات لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے، تب اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نازل ہوا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ