تفسير سورة ق، الآيات 37–38
سورہ ق، آیات 37–38 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ
وقَالَ الْقُتَبِيُّ: (فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ)، أي: طافوا، وتباعدوا، (هَلْ مِنْ مَحِيصٍ) أي: هل يجدون من الموت محيصا؟ أي: مفرًّا.
ويحتمل: أي: تقلبوا في البلاد في تجاراتهم، فلا يجدودن ملجأ يرد به هلاكهم.
يوعد بما ذكر أهل مكة أنهم لم يجدوا محيصا فكيف تجدون أنتم؟!
وقوله عز وجل: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ (37) يحتمل وجوها:
أحدها: (إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى) أي: عظة ممن كان له قلب.
والثاني: فيما ذكر من إهلاك الأمم الخالية، وذهاب آثارهم بتكذيبهم الرسل لذكرى لمن ذكر.
والثالث: أي: فيما ذكروا من استواء المحسن والمفسد في هذه الدنيا، والصالح والطالح - لذكرى لمن كان له قلب أن هنالك دارا يميز فيها بينهما.
وقوله: (لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ)، أي: عقل وفهم.
أو لمن كان له قلب ينتفع به في التأمل والنظر.
وإنما كنى بالقلب عن العقل؛ لأن الناس اختلفوا:
بعضهم قالوا: إن القلب محل العقل.
وقَالَ بَعْضُهُمْ: محله الرأس، لكن نوره يصل إلى القلب؛ فيبصر القلب الأشياء الغائبة بواسطة العقل؛ فلذلك كنى بالقلب عن العقل؛ لمجاورة بينهما، وهو سائغ في اللغة.
وقوله عز وجل: (أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ)، أي: يستمع وهو شاهد سمعه وقلبه، وأصله: أن القلب جعل للوعي والحفظ بعد الإدراك، والإصابة.
ثم أصل ما يقع به العلم والفهم شيئان:
الأول: التأمل والنظر في المحسوس.
والثاني: أن يلقى إليه الخبر وهو يستمع له، فكأنه يقول - واللَّه أعلم -: إن في ذلك لذكرى لمن كان له قلب يطلب الرشد والصواب، وينظر، ويعي، ويحفظ.
أو (أَلْقَى السَّمْعَ)، أي: يستمع بما ألقي إليه وهو شاهد السمع والقلب؛ فتكون الذكرى لمن اختص بهذين، أو ينتفع به هذان الصنفان بالتأمل، فيرى بالعقل محاسن الأشياء ومساوئها.
أو يستمع حقيقة ذلك بالسمع، فيتذكر، واللَّه أعلم.
وقوله عز وجل: (وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ (38) ذكرنا فيما تقدم تأويل خلق السماوات والأرض في ستة أيام.
اور ابن قتیبہ نے کہا: ﴿فَنَقَّبُوا فِي الْبِلَادِ﴾؛ یعنی وہ گھومے پھرے اور دور دراز علاقوں میں نکل گئے، ﴿هَلْ مِنْ مَحِيصٍ﴾ یعنی: کیا وہ موت سے بچ نکلنے کی کوئی پناہ گاہ پا سکے؟ یعنی کوئی جائے فرار ملی؟
اور یہ احتمال بھی ہے کہ: یعنی وہ اپنی تجارتوں کی غرض سے شہروں اور بستیوں میں گھومتے پھرتے رہے، لیکن وہ کوئی ایسی پناہ گاہ نہ پا سکے جو ان سے ہلاکت کو دور کر سکتی۔
اس بیان کے ذریعے اہل مکہ کو ڈرایا جا رہا ہے کہ جب وہ لوگ بچ نکلنے کی کوئی راہ نہ پا سکے تو تم بھلا کیسے پا سکو گے؟!
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾؛ اس میں کئی وجوہ کا احتمال ہے:
ان میں سے پہلی وجہ: ﴿إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى﴾؛ یعنی اس شخص کے لیے نصیحت و عبرت ہے جس کے پاس دل (یعنی عقل و فہم) ہو۔
دوسری وجہ: پچھلی امتوں کی ہلاکت اور رسولوں کی تکذیب کے باعث ان کے آثار کے مٹ جانے کے اس ذکر میں نصیحت پکڑنے والے کے لیے بڑی عبرت و نصیحت ہے۔
اور تیسری وجہ: یعنی اس دنیا میں نیکوکار اور بدکار، نیز صالح اور فاسق کے ظاہری طور پر برابر نظر آنے کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے، اس میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جس کے پاس دل ہو کہ (اس کے بعد) ایک ایسا جہان بھی ہے جہاں ان دونوں کے درمیان تفریق و امتیاز کیا جائے گا۔
اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ﴾؛ یعنی جس کے پاس عقل اور فہم ہو۔
یا اس شخص کے لیے جس کے پاس ایسا دل ہو جس سے وہ غور و فکر اور تامل و تدبر میں نفع حاصل کر سکے۔
اور دل سے عقل کو کنایۃً اس لیے تعبیر فرمایا گیا کیونکہ لوگوں کا اس میں اختلاف رہا ہے:
ان میں سے بعض نے کہا: بے شک عقل کا محل دل ہی ہے۔
اور بعض نے کہا: اس کا محل سر ہے، لیکن اس کا نور دل تک پہنچتا ہے؛ چنانچہ دل عقل کے واسطے سے غائب چیزوں کا ادراک و مشاہدہ کرتا ہے؛ اسی لیے ان دونوں کے باہمی مجاورت و تعلق کی بنا پر دل سے کنایۃً عقل مراد لی گئی ہے، اور لغت میں ایسا استعمال جائز و درست ہے۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿أَوْ أَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ﴾؛ یعنی وہ توجہ سے سنے اس حال میں کہ اس کے کان اور دل دونوں حاضر ہوں، اور اس کی اصل یہ ہے کہ دل کو ادراک اور بات کی درستی تک پہنچنے کے بعد اسے سمجھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے۔
پھر جس ذریعے سے علم اور فہم حاصل ہوتا ہے اس کی اصل بنیاد دو چیزیں ہیں:
پہلی چیز: محسوس چیزوں میں غور و فکر اور تامل و تدبر کرنا۔
اور دوسری چیز: یہ کہ اس کی طرف کوئی خبر پیش کی جائے اور وہ اسے ہمہ تن گوش ہو کر سنے؛ پس گویا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے — اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے —: کہ یقیناً اس میں اس شخص کے لیے نصیحت ہے جس کے پاس ایسا دل ہو جو ہدایت اور درست بات کا متلاشی ہو، اور وہ غور و فکر کرتا ہو، بات کو سمجھتا ہو اور اسے محفوظ رکھتا ہو۔
یا ﴿أَلْقَى السَّمْعَ﴾؛ یعنی وہ اس بات کو پوری توجہ سے سنے جو اس کی طرف پیش کی گئی ہو درآں حالیکہ اس کی سماعت اور دل حاضر ہوں؛ چنانچہ نصیحت اسی شخص کے لیے ہو گی جو ان دونوں اوصاف کا حامل ہو، یا یہ دونوں گروہ تامل و تفکر سے فائدہ اٹھاتے ہوں، پس وہ عقل کے ذریعے اشیاء کی اچھائیوں اور برائیوں کو دیکھ لے۔
یا وہ کان لگا کر اس کی حقیقت کو سنے اور نصیحت حاصل کرے، واللہ اعلم۔
اور اللہ عزوجل کا ارشاد: ﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُغُوبٍ﴾؛ آسمانوں اور زمین کی چھ دنوں میں تخلیق کی تاویل و تفسیر ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں۔