تأويلات أهل السنةأبو منصور الماتريدي رحمه الله

تفسير سورة الذاريات، الآيات 9–10

سورہ ذاریات، آیات 9–10 کی تفسیر، اردو ترجمہ کے ساتھ

الجزء 9 · الصفحة 376

ص 376سورة الذارياتالمتن العربي

بينهما في هذه الدنيا، دل أن هنالك دارا أخرى فيها يفرق بينهما ويميز.

وهذا التأويل لا يختص به الكافر؛ بل يعم الكل، واللَّه أعلم.

والثالث: (إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ)، أي: قول متفرق، ومذهب متناقض؛ فإنهم كانوا يعبدون أشياء على هواهم، فإذا هووا شيئا آخر تركوا ذلك وعبدوا غيره، وكذلك يقولون قولا بلا حجة، ثم يرجعون إلى قول آخر، لا ثبات لهم على شيء، وهو كقوله تعالى؛ (وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ).

والرابع: (إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ)، أي: في أمر الآخرة؛ لأن منهم من يدعي أن الآخرة لهم لو كانت، ومنهم من يدعي الشركة مع المسلمين، فرد اللَّه تعالى عليهم بقوله: (يُؤفَكُ عَنهُ مَنْ أُفِكَ)، وهو كقوله تعالى: (أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ. مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ)، وقال: (أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ).

والخامس: يحتمل أن مواعيدهم ومنازلهم مختلفة في الآخرة، واللَّه أعلم.

وذكر بعض أهل التأويل: أن الناس يأتون مكة من البلدان المختلفة؛ ليتفحصوا عن أخبار رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم، ويسمعوا كلامه، فكان كفار مكة يصدونهم عنه، ويقول بعضهم: إنه مجنون، وبعضهم: إنه كذاب، وبعضهم: شاعر، وذلك قوله تعالى: (إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ).

وقوله عز وجل: (يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ‌‌(9) يحتمل وجوها:

أحدها: أي: يصرف عن الحق من صرف عن النظر والتفكر في العاقبة.

والثاني: صرفوا عما رجوا في الآخرة، صرفوا عن الحق في الدنيا؛ لأنهم كانوا يعبدون الأصنام رجاء أن تقربهم عبادتها إلى اللَّه تعالى وأنها شفعاؤهم عند اللَّه تعالى، يقول تعالى: صرف عما رجا في الآخرة؛ لما صرف عن الحق في الدنيا، واللَّه أعلم.

والثالث: يصرف من طمع في الآخرة الشركة مع المسلمين، أو ادعى الخلوص بما صرف في الدنيا عن الإيمان الذي به ينال الآخرة.

والرابع: (يُؤفَكُ عَنهُ) أي: عن الحق (مَنْ أُفِكَ)، أي: صرف عن الحق من صرف؛ كقوله تعالى: (ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ. . .) الآية، وقوله: (فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللََّهُ قُلُوبَهُم).

وقوله تعالى: (قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ‌‌(10) قال أبو بكر الأصم: الخراص: الذي يكذب على العَمْدِ.

ولكن عندنا: الخراص: الذي يكذب، ويقطع على الظن، ومنه يقال للذي يقدم

ص 376سورة الذارياتاردو ترجمہ

اس دنیا میں ان دونوں کے درمیان دیکھ رکھا ہے، تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ یقیناً ایک اور جہان بھی ہے جس میں ان دونوں کے درمیان فرق و امتیاز کیا جائے گا۔

اور یہ تاویل صرف کافر کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے، بلکہ تمام لوگوں کو عام اور شامل ہے، واللہ اعلم۔

اور تیسری وجہ: ﴿إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ﴾، یعنی بکھری ہوئی بات اور باہم متناقض مذہب میں مبتلا ہو؛ کیونکہ وہ اپنی خواہشِ نفس کی پیروی میں مختلف چیزوں کی پوجا کرتے تھے، پھر جب کسی اور چیز کی خواہش ہوتی تو پہلی کو چھوڑ کر دوسری کی عبادت کرنے لگتے، اور اسی طرح وہ بغیر کسی دلیل کے کوئی بات کہتے، پھر اسے چھوڑ کر دوسری بات کی طرف پلٹ جاتے، کسی بھی بات پر ان کے لیے کوئی ثبات اور ٹھہراؤ نہ تھا؛ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مانند ہے: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾۔

اور چوتھی وجہ: ﴿إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ﴾، یعنی آخرت کے معاملے میں تم باہم متضاد موقف رکھتے ہو؛ کیونکہ ان میں سے کوئی تو یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اگر بالفرض آخرت ہوئی بھی تو وہ انہی کے لیے ہوگی، اور ان میں سے کوئی مسلمانوں کے ساتھ (نعمتوں میں) برابری اور شرکت کا دعویدار تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان کے ذریعے ان کا رد فرمایا: ﴿يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ﴾؛ اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مانند ہے: ﴿أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِمِينَ ۝٣٥ مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ﴾، اور فرمایا: ﴿أَمْ حَسِبَ الَّذِينَ اجْتَرَحُوا السَّيِّئَاتِ أَنْ نَجْعَلَهُمْ كَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَوَاءً مَحْيَاهُمْ وَمَمَاتُهُمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ﴾۔

اور پانچویں وجہ: یہ احتمال بھی ہے کہ آخرت میں ان کے انجام کی جگہیں اور درجات مختلف ہوں گے، واللہ اعلم۔

اور بعض اہلِ تاویل نے ذکر کیا ہے کہ لوگ مختلف بستیوں اور علاقوں سے مکہ آتے تھے تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی تفتیش و تحقیق کریں اور آپ کا کلام سنیں، تو کفارِ مکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے تھے، چنانچہ ان میں سے کوئی کہتا کہ وہ مجنون ہیں، اور کوئی کہتا کہ وہ جھوٹے ہیں، اور کوئی کہتا کہ شاعر ہیں؛ اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مفہوم ہے: ﴿إِنَّكُمْ لَفِي قَوْلٍ مُخْتَلِفٍ﴾۔

اور اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿يُؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ أُفِكَ ۝٩﴾ میں کئی وجوہ کا احتمال ہے:

پہلی وجہ: یعنی حق سے وہی شخص پھیرا جاتا ہے جو انجام اور عاقبت میں غور و فکر کرنے سے روک دیا گیا ہو۔

اور دوسری وجہ: وہ آخرت میں اس چیز (کی نفع رسانی) سے محروم کر دیے گئے جس کی وہ امید لگائے بیٹھے تھے، جیسا کہ دنیا میں حق سے پھیر دیے گئے تھے؛ کیونکہ وہ بتوں کی پوجا اس امید پر کرتے تھے کہ ان کی عبادت انہیں اللہ کے قریب کر دے گی اور وہ اللہ کے ہاں ان کے سفارشی بنیں گے، چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وہ آخرت میں اپنی اس امید سے محروم کر دیا گیا، کیونکہ وہ دنیا میں حق سے روگرداں رہا تھا، واللہ اعلم۔

اور تیسری وجہ: جو شخص آخرت میں مسلمانوں کے ساتھ شرکت کی طمع رکھتا تھا یا (عذاب سے) خلاصی و نجات کا دعویدار تھا، اسے اس بنا پر محروم کر دیا جائے گا کہ وہ دنیا میں اس ایمان سے برگشتہ رہا جس کے ذریعے آخرت حاصل کی جاتی ہے۔

اور چوتھی وجہ: ﴿يُؤْفَكُ عَنْهُ﴾ یعنی حق سے ﴿مَنْ أُفِكَ﴾ یعنی حق سے وہی پھیرا جاتا ہے جسے (اس کے اختیار کی پاداش میں) پھیر دیا گیا ہو؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ...﴾، اور فرمایا: ﴿فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ﴾۔

اور اللہ تعالیٰ کا فرمان: ﴿قُتِلَ الْخَرَّاصُونَ ۝١٠﴾، ابو بکر الاصم نے کہا: الخَرَّاص وہ شخص ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔

لیکن ہمارے نزدیک: الخَرَّاص وہ شخص ہے جو جھوٹ بولے اور محض گمان کی بنیاد پر حتمی فیصلہ صادر کرے؛ اور اسی سے یہ لفظ اس شخص کے لیے بھی بولا جاتا ہے جو اندازے سے تخمینہ لگاتے ہوئے